| 86824 | قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
موبائل سےقرآن پاک پڑھنا کیسا ہے؟ جب میں دفتر میں فارغ بیٹھا ہوتا ہوں یا کبھی فری ہوتا ہوں اور آس پاس قرآن پاک نہیں ہوتا تو موبائل میں جو قرآن پاک ڈاؤن لوڈ کیا ہوا ہے اسی سے پڑھ لیتا ہوں۔ کیا یہ عمل جائز ہے؟ نیزکیا موبائل سےقرآن پاک پڑھنے کے لیے وضو کا ہونا بھی ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موبائل سےقرآن پاک پڑھنا زبانی تلاوت کی طرح جائز ہے،اس میں قرآنی آیات کو ہاتھ لگانے میں اسکرین کا شیشہ حائل ہوتا ہے،نیز جوعکسِ تحریر اور نقوش ہمیں نظر آتے ہیں حقیقت میں وہ حروف و نقوش شعاعیں اور برقی لہریں ہوتی ہیں، جو صرف ہمیں نظر آتی ہیں لیکن ان کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا،لہٰذا موبائل میں قرآن پاک کی آیات کا عکس لکھی ہوئی آیاتِ مبارکہ کے حکم میں نہیں ، اس لیے وضوکے بغیر ان پر ہاتھ لگ جانے میں گناہ نہیں ہے۔
البتہ قرآنِ پاک کی عظمت اوراس کے ادب واحترام کا تقاضا یہی ہے کہ موبائل سے تلاوت کے وقت بھی وضو کا اہتمام کیا جائے، اسی طرح روزمرہ کے معمول کے طور پر جو تلاوت کی جائےتواس میں بھی مصحف سےتلاوت کرناافضل اور زیادہ باعثِ ثواب ہے،کیونکہ اس میں قرآنِ پاک کا احترام اور کلام اللہ شریف کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے،تلاوت سے پہلے مصحف کو چومنا اور آنکھوں پر لگانا مستحب عمل ہے،نیزقرآن کریم کا دیکھنا اور چھونا بھی عبادت ہےجوکہ مصحف سے تلاوت کرنے میں ہی ممکن ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(الحدید:79):
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ .
فضائل القرآن للقاسم بن سلام (ص: 104،192):
حدثنا أبو عبيد حدثنا نعيم بن حماد، عن بقية بن الوليد، عن معاوية بن يحيى، عن سليمان بن مسلم، عن عبد الله بن عبد الرحمن، عن بعض أصحاب رسول الله ﷺ قال: قال رسول الله ﷺ: "فضل قراءة القرآن نظرا على من يقرؤه ظاهرا كفضل الفريضة على النافلة".
حدثنا يزيد، ومحمد بن جعفر، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال: دخلت على علي رضي الله عنه أنا ورجلان: رجل من قومي، ورجل من بني أسد. أحسبه قال: فبعثهما وجها. وقال: إنكما علجان فعالجا عن دينكما. ثم دخل المخرج فقضى حاجته، ثم خرج فأخذ حفنة من ماء فتمسح بها، ثم جعل يقرأ القرآن. قال: فكأنه رآنا أنكرنا ذلك، فقال: "كان رسول الله ﷺ يقضي حاجته، ثم يخرج فيقرأ القرآن، ويأكل معنا اللحم، لا يحجزه عن القرآن شيء، ليس الجنابة".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 173):
(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار... قال ح: لكن لا يحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة...المس يحرم بالحدث ولو أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل.
موبائل فون پر تلاوت کرنے سےمصحف کی فضیلت
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7 /شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


