03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ایک وارث کا اس میں تصرف کرنے کا حکم
86943میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی میراث میں تقریباً 2 ایکڑ زمین چھوڑ کر گیا ہے اور اس کے ورثاء میں 6 بیٹے اور 1 بیٹی ہیں، اور وہ زمین پلاٹنگ میں آچکی ہے جس کے باعث ایک حصہ کی قیمت دوسرے حصے سے زیادہ ہے۔ تو کیا اس صورت میں کوئی وارث اپنی مرضی سے ایک حصے میں کام کروا سکتا ہے ؟جبکہ اس حصے کی قیمت دیگر زمین کی قیمت سے زیادہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وراثت کی تقسیم ہر وارث کا شرعی حق ہے، وراثت تقسیم کرنے سے پہلے پورے ترکہ میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوتے ہیں اور شرعی اعتبار سے کسی بھی وارث کو دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر مشترکہ وراثت میں سے کسی بھی چیز کو استعمال کرنے کا حق نہیں ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اس شخص کا وراثت تقسیم کرنے سے پہلے خود ہی اپنے حصے کا تعین کر کے اس پر تعمیر کرنا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ دیگر ورثاء کی باہمی رضامندی سے وراثتی زمین  کو تقسیم کرے اور اپنے حصے میں آنے والی جگہ پر تعمیر کرے۔

حوالہ جات

في الفتاوی الھندیۃ: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.( الفتاوی الھندیۃ:301/2)

قال العلامۃ علاء الدين السمرقندي: الشركة الأملاك على ضربين أحدهما ما كان بفعلهما مثل أن يشتريا أو يوهب لهما أو يوصى لهما فيقبلا والآخر بغير فعلهما وهو أن يرثا،والحكم في الفصلين واحد وهو أن الملك مشترك بينهماوكل واحد منهما في نصيب شريكه كالأجنبي لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه. (تحفة الفقهاء:3/ 5)

 

شمس اللہ

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/24 شعبان ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب