| 87128 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
اقساط پر لیے گئے گھر یا پلاٹ پر زکوۃ ہوگی ؟ابھی اقساط پوری نہیں ہوئیں اور نہ قبضہ ملا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مذکورہ پلاٹ یاگھر تجارت کی نیت سے نہیں خریدا تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی ،لیکن اگر مذکورہ پلاٹ یاگھر تجارت (بیچنے) کی نیت سے قسطوں پر لیا ہے یعنی خریدتے وقت ہی یہ نیت تھی کہ اس کو آگے بیچوں گا اور یہ نیت ابھی تک برقرار بھی ہےتو اس پر زکوۃ واجب ہو گی، اگرچہ آپ کو اس پر قبضہ نہ ملا ہو۔یعنی جیسے ہی پلاٹ خریدا گیا اسی وقت سے اس پر زکوۃ کے احکام لاگو ہونا شروع ہوجائیں گے۔ البتہ زکوۃ کی ادائیگی قبضہ کے بعد بھی کرسکتے ہیں کہ جب قبضہ ملے تو گذشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کردیں۔ پلاٹ کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی موجودہ قیمت فروخت معلوم کر کے اس میں سے ایک سال کی اقساط منہا کرنے کے بعد جو رقم باقی ہو اس میں سے ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہو گا۔
حوالہ جات
العناية شرح الهداية (2/ 169):
والحاصل أن ما يدخل في ملك الرجل على نوعين: نوع يدخل بغير صنعه كالإرث. ونوع يدخل بصنعه وهو أيضا على نوعين: ببدل مالي كالشراء والإجارة وغيره كالمهر وبدل الخلع وبدل الصلح عن دم العمد، وبغير بدل كالهبة والصدقة والوصية، فالذي يدخل بغير صنعه لا يعتبر فيه نية التجارة مجردة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل مالي يعتبر فيه نية التجارة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل غير مالي أو بغير بدل فقد اختلف فيه على ما ذكرنا.
البحر الرائق (2/ 225):
وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري. وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض قيل لا يكون نصابا لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعاً، اه. فعلى هذا قولهم "لا تجب الزكاة" معناه قبل قبضه، وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 6):
ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا،
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 218):
(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هو نية التجارة،
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 254):
(قوله: دين له مطالب من جهة العباد) أي دون دين الله تعالى سواء كان لله كالزكاة أو لهم كالقرض وثمن المبيع وضمان المتلف وأرش الجراحة ومهر المرأة سواء كان من النقود أو من غيرها وسواء كان حالا أو مؤجلا.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
8/رمضان/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


