03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی نیت سے بیوی کو”بس “کہنے کا حکم
87134طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

نعیم کی بیوی راشدہ نے کہا میں نے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔میں آُپ کو چھوڑ کر چلی جاوں گی، آپ تو چاہتے ہو جان ہی چھوٹ جائے۔ نعیم قہقہہ لگانے لگا اور بعد میں بولا نہیں ۔نعیم نے جو طلاق کے مطالبہ پرجو قہقہہ لگایا تھااس کی آواز "ہاہاہاہا "تھی، لیکن نعیم کی طلاق کی نیت نہیں  تھی،كيا طلاق واقع ہوئی ؟

کیا یہ بات درست ہے اگر زید طلاق کی نیت سےلفظ "بس "کہے گا تو زینب کو طلاق واقع ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر نے طلاق کے مطالبہ پر جو قہقہہ لگایا تھا وہ اس مطالبہ طلاق کو رد کرنے کے لئے تھا،اسی طرح قہقہہ کے بعد صراحتاً شوہر نے طلاق دینے سے انکار بھی کیا ہے ۔لہٰذا اس سے کوئی طلاق واقع  نہیں ہوئی ۔

اسی طرح لفظ" بس" نہ طلاق کے صریح الفاظ میں سے ہے اور نہ کنائی الفظ میں سے ،اس لئے اس سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

ملاحظہ:آپ کو خوامخواہ طلاق کا وہم ہوتا ہے،اس پر توجہ نہ دیں ،نہ کسی سے سوال کریں ۔آیندہ  آپ کو اس طرح کے سوالات کا جواب نہیں دیا جائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 375):

ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال ‌لم ‌يبق ‌بيني ‌وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى.

درر الحكام شرح غرر الأحكام(1/ 335):

فإن استأذنها) أي البالغة (هو) أي الولي نفسه (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) أي الولي (فعلمت) بوصول خبر التزويج إليها (فسكتت أو ‌ضحكت غير مستهزئة) فإن ضحكها مستهزئة لا يكون رضا.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص214):

(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) - الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك،أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، سرحتك فارقتك، لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الاقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له بيمينه في عدم النية، ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم،فإن نكل فرق بينهما.مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف

(الاول فقط) ويقع بالاخيرين وإن لم ينو،لان مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لانها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة، ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دا الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

09/رمضان المبارک 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب