| 90010 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جامع مسجد صدیقیہ بستی واڑه سہڑاں جس کی بنیاد آج سے تقریبا دو سو سال پہلے مسلک دیو بند پر رکھی گئی تھی اور تا حال مسلک دیوبند پر قائم اور رجسٹر ڈ بھی ہے۔ اس وقت مسجد ہذا کی از سرنو تعمیر و توسیع بھی آخری مراحل کو پہنچ چکی ہے، اس توسیع اور تعمیر کے لیے مسلک دیو بند ہی کے لوگوں نے اپنی ذاتی زمین بھی دی اور نقدی بھی بڑی رقم کی صورت میں بڑھ چڑھ کر عطیہ کی، مذکورہ مسجد میں قرآنِ پاک کی تعلیم کے لیے علیحدہ درسگاہ نہیں بنائی گئی تھی۔ جبکہ مذکورہ بستی میں قرآن مجید کی تعلیم کے مسلک دیو بند اور مسلک بریلوی کے الگ الگ کشادہ مدرسے اور درسگا ہیں موجود ہیں، اب مسلک بریلوی کے لوگ اس بات پر بضد ہیں کی مسجد ہذا میں مسلک بریلوی سے منسلک تصور رضا نامی شخص چھوٹے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دے گا۔ جبکہ مسلک دیو بند کے لوگوں نے مذکورہ شخص کو سختی سے روک دیا ہے، کیونکہ آج سے آٹھ دس سال پہلے مذکورہ شخص کو پنچائتی فیصلہ میں مسجد ہذا میں دخل اندازی سے بالکل روک دیا گیا تھا، لیکن یہ لوگ دوبارہ اس شخص کے مذکورہ مسجد میں پڑھانے پر بضد ہیں۔ جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے اور لڑائی کا قوی اندیشہ ہے۔ جس میں جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔ مطلوب امر یہ ہے کہ:
(1) قرآن مجید کے مدرسے اور درسگاہوں کی موجودگی میں کیا مسجد کے اندر تعلیم دینے کی شرعا اجازت ہے؟
(2) جب اس قدر لڑائی کا اندیشہ ہوتو کیا پھر بھی مسجد میں قرآن پڑھانے کی شریعت اجازت دیتی ہے؟
قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں اور ممانعت کی صورت میں ممانعت کی وجہ بیان فرمائیں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ مسجد مسلک دیوبند کے نام سے رجسٹرڈ ہے اور اس کی کمیٹی بھی دیوبندی حضرات پر مشتمل ہےاور کمیٹی اس کے قرآن پڑھانے پر راضی نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پر مسجد میں نماز کی ادائیگی کے علاوہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا نہ صرف جائز، بلکہ مستحب کام ہے، لیکن اگر مسجد میں کسی شخص کے قرآن پڑھانے سے لوگوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس شخص کا اس مسجد میں قرآن پڑھانا جائز نہیں، خصوصاً جبکہ اس شخص کے قرآن پڑھانے کی صورت میں جانی نقصان کا بھی اندیشہ ہو اور مسجد کمیٹی کی طرف سے اس کو مسجد میں قرآن پڑھانے کی اجازت بھی نہ ہو، کیونکہ شرعی اعتبار سے مسجد کے معاملات اس کا متولی (موجودہ زمانے میں کمیٹی) طے کرنے کی ذمہ دار ہے، متولی کے علاوہ کسی بھی شخص کا اس کی اجازت کے بغیر مسجد کے معاملات میں دخل اندازی کرنا درست نہیں ، نیز اگر اس شخص کی مداخلت کی وجہ سے لوگوں کے درمیان شدید اختلافات اور جھگڑا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو ایسے شخص کو فوراً پولیس وغیرہ کے ذریعہ سے مسجد کے معاملات میں دخل اندازی کرنے سے روکنا لازم ہے، تاکہ جھگڑے کی صورت میں کسی جانی یا مالی نقصان اور مسجد کی بے حرمتی نہ ہو۔
حوالہ جات
العناية شرح الهداية (10/ 318) الناشر: دار الفكر،بيروت:
وقوله (للعشيرة) يعني أهل المسجد. وقوله (ضمن) يعني إذا فعل ذلك بغير إذن أحد من العشيرة بدليل قوله من بعد كما إذا فعله بإذن واحد من أهل المسجد. وقوله (كنصب الإمام) يعني إذا لم يكن الباني موجودا، أما إذا كان فنصب الإمام إليه وهو مختار الإسكاف - رحمه الله -: قال أبو الليث - رحمه الله -: وبه نأخذ إلا أن ينصب شخصا والقوم يريدون من هو أصلح منه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
19/شوال المکرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


