03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹار میڈیا ایپ کے ذریعے سے نفع کمانے کا حکم
88476اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ آج کل پاکستان میں ایک نیا ایپ لانچ ہوا ہے" اسٹار میڈیا" کے نام سے۔اس میں انویسٹمنٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔جتنا انویسٹ کریں گے ،روزانہ اتنا زیادہ انکم ملے گا۔ مثلا : 1500 انویسٹمنٹ پر 55 روپے 18500 انویسٹمنٹ پر 750 84500 انویسٹمنٹ پر 3500 اس میں کام یہ ہوتا ہے کہ روزانہ ورکر کو کچھ سوالات دیے جاتے ہیں ( جو فلموں کے سروے سے متعلق ہوتے ہیں ) ۔۔اور ان سوالات کے جواب دینا ہوتا ہے۔۔ اب بتائیں ایسی کمائی حلال ہے یا حرام ؟ مزید تفصیلات چاہیے تو میرے درج بالا نمبر پر واٹس ایپ بھی یے۔۔۔میں مکمل تفصیلات مع تصاویر اور ثبوت دکھاتا ہوں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ:

1-سروے مکمل کرنا نیز دوسروں کو اس کام کی ترغیب دے کر لانا (ریفر کرنا) شرعی طور پر اجارہ یعنی ملازمت کی ایک صورت ہے۔ شرعی طور پر اجارہ کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو خدمت یا منفعت حاصل کی جارہی ہو وہ جائز ہو اور شرعا و عقلا مفید و مقصود بھی ہو ۔ناجائز کاموں یا بےفائدہ اور بے مقصد کاموں کی خدمات فراہم کرنے کے لیے  کیا جانے والا اجارہ درست نہیں، نیز اجارہ کے معاملے  میں داخل ہونے کے بدلے اور عوض کے طور پر رقم وصول کرنا بھی جائز نہیں۔

2- قرض پر مشروط اضافی رقم وصول کرنا سود ہے اور ہر وہ سرمایہ کاری اس سودی قرضے کے تحت داخل ہے جس میں اصل رقم کی واپسی مضمون( گارنٹڈ) ہو اور ساتھ نفع بھی ملتا ہو۔

ان اصولوں کی روشنی میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس ایپ پر پلان خریدنا اور اس پر سروے مکمل کرکے یا کسی دوسرے کو اس کام کی طرف ریفر کرکے نفع کمانا جائز نہیں،کیونکہ اس طرح کی ایپس پر ہونے والا سروے محض دکھانے کے لیے ہوتا ہے،حتی کہ خودسروے مکمل کرنے والے اور کروانے والے کے نزدیک بھی اس کا  کوئی مفید مقصد نہیں ہوتا   اور بالفرض اگر مفید مقصد مان بھی لیا جائے تو یہ ناجائز امور میں  معاونت ہے کیونکہ سوال کے مطابق یہ سروے فلموں وغیرہ سے متعلق ہوتا ہے۔نیز اگر معاملے کے شروع میں پلان خریدنے کے لیے دی جانے والی رقم کا یقینی طور پر واپس ملنا طے شدہ ہے(جیسا کہ سوال میں ذکر ہے) تو یہ سودی قرضہ ہے جسے دے کر نفع حاصل کیا جارہا ہے اور درمیان میں ایک غیر مقصودی کام کو دکھانے کے لیے شامل کیا گیا ہے اور اگر شروع میں دی جانے والی رقم کا  واپس نہ ملنا یقینی ہے(جیسا کہ اس طرح کی ایپلکیشنز کا عموما طریقہ کار ہوتا ہے) تو یہ رشوت ہے جسے دے کر اجارہ کرنے کا حق حاصل کیا جارہا ہے اور جب یہ کام  شرعا درست نہیں تو اس کے لیے ریفر کرنے کی بھی اجرت حاصل کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

فقہ البیوع:: /1) 273 (

ومن  المقرر أن العاقد لایجوز له أن يطالب العاقد الآخر عوضا عن مجرد دخوله في العقد،  علاوة على ما يستحقه، فإنه رشوة

الدر المختار مع رد المحتار (6/ 4)

هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 441)

توضيح القيود: يجب أن تكون المنفعة التي يعقد عليها في الإجارة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء.

فلواستأجر إنسان حصانا ليربطه أمام داره، أو ليجنبه، أو استأجر ثيابا ليضعها في بيته ليظن الناس أن له حصانا، أو ثيابا نفيسة ليراها الناس ويظهر بها بمظهر الأغنياء فالإجارة فاسدة ولا تجب الأجرة فيها؛ لأنها منفعة غير مقصودة من العين في الشرع ونظر العقلاء.

ولا يكفي لصحة الإجارة أن تكون المنفعة مقصودة للمستأجر، بل لا بد أن يكون فيها منفعة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء.

والإجارة وإن كانت تجب باستعمال المأجور في الإجارة الفاسدة إلا أنه لا بد لذلك من أن تكون تلك الإجارة معقودة على ما فيه منفعة مقصودة، فاستئجار التفاح للشم والحلي لوضعها في محل منظور من البيت فاسد.

فقه البیوع (2/815-812):

البیع عن طریق شبکة التسویق (Marketing    Network):

..والذي شهدت به التجربة أن المنتج في غالب الأحیان شیئ یسیر یباع بثمن غالٍ، وقد لایوجد له السوق، وإنما یشتریه الناس طمعًا في الحصول علی مبالغ ضخمة عن طریق شبکة التسویق. وکان بعض الناس قبل هذا النظام لایبیعون شیئًا، بل یتسلمون الأموال بدفعهم تذاکر لیس وراءها مال أومنفعة، غیر أن الذي یأخذ هذه التذکرة یدخل في الشبکة، ویلتمس آخرین لشراء التذاکر، ویفوز بمبالغ إن بلغ المشترون إلی عددٍ معین. وکان ذلك قمارًا بحتًا، ویسمی "الطریقة الأهرامیة" (Pyramid      Scheme) ومنعته قوانین أکثر البلاد؛ لأنه اغتصب أموال الناس بهذه المقامرة. فلما منعت هذه الطریقة، أدخلوا بعض المنتجات بدل التذاکر، ولکن زادوا في ثمنها، وسموها "شبکة التسویق، والمقصود نفس ما کان مقصودًا في الطریقة الأهرامیة. وإنه لم یمنع في کثیر من البلاد حتی الآن، ولکنه بهذه الطریقة ممنوع شرعًا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

28 صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب