| 90321 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی نومبر سال 2024ء میں ہوئی تھی،منگنی اور شادی کا عرصہ تین ماہ سے بھی کم تھا۔ اس رشتے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ہمارے پڑوس میں میری والدہ اور بہنوں نے میرے لیے ایک رشتہ پسند کیا، میری والدہ اور بہنیں وہاں رشتہ لے کر گئیں تو لڑکی والوں نے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا، مقررہ وقت پر جب دوبارہ بات ہوئی تو انہوں نے رشتہ قبول کر لیا، میری والدہ نے مہر میں پچیس ہزار روپے مقرر کیےاور کہا کہ ہماری طرف سے ایک تولہ سونا بھی دیا جائے گا، لیکن وہ بطورِ بخشش نہ ہوگا (سونا بطور بخشش نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سونا لڑکی کے پاس ہوگا البتہ ملکیت لڑکے کی ہوگی کہ خدانخواستہ مستقبل میں لڑکےکو ضرورت پڑے تو وہ لڑکی سے لے سکتا ہے اور سونا بخشش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سونے پر لڑکی کی ملکیت ہوگی ) جبکہ آپ کی طرف سے فرنیچر دیا جائے گا،(فرنیچر اس لیے رکھا، کیونکہ میری بقیہ بھائیوں کی شادی میں بھی فرنیچر لڑکی والوں کی طرف سے تھا اور سونا ہماری طرف سے تھا جوکہ بخشش نہ تھا) تو انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر کر دی۔
اس کے بعد شادی کے لیے ڈیڑھ سال بعد کا وقت طے کیا گیا، لیکن ساتھ ہی لڑکی والوں کی طرف سے یہ بات بھی کہی گئی کہ ان کی بیٹی شادی کے بعد ملازمت (ٹیچنگ) کرے گی،میری والدہ نے جواب دیا کہ یہ معاملہ لڑکا اور لڑکی خود طے کریں گے، جس کے بعد لڑکی والوں نے مجھے اپنے سسر سے ملاقات کرنے کا کہا۔
بعد ازاں میری اپنے سسر سے مسجد میں ملاقات ہوئی، انہوں نے میرا تعارف لیا اور کہا کہ میری بیٹی شادی کے بعد ملازمت(ٹیچنگ) کرے گی، اس نے دو جگہ انٹرویو دیے ہیں، اگر وہاں ملازمت مل گئی تو ٹھیک، ورنہ گھر پرآکر ٹیوشن پڑھائے گی،اور کہا کہ یہ جاب کا مسئلہ ابھی طے ہوجائے بعد میں اس حوالے سے بحث و مباحثہ نہ ہو ،انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ نکاح کم از کم نومبر میں کر لیا جائے اور رخصتی ڈیڑھ سال بعد کرلی جائے، کیونکہ میری دوسری چھوٹی بیٹی کی شادی بھی نومبر 2024ءمیں ہے۔
اچھا ہمارے معاشرے میں شادی وغیرہ کے معاملات بڑے حضرات طے کرتے ہیں، لڑکے سے معاملات طے نہیں کئے جاتے ، لیکن یہاں میرے سسر نے مجھ سے بات کی جو کہ بظاہر نہ مناسب تھا ۔
میں نے گھر والوں سے مشورے کے بعد سسر کے کال آنے پر نکاح پر رضامندی ظاہر کی، البتہ ملا زمت کے حوالے سے میں نےا ن سے کہا کہ یہ ہم دونوں کا مسئلہ ہے ہم مل کر دیکھ لیں گے ،اگر مناسب جگہ ہوئی اور گھر کے کام متاثر نہ ہوئے تو میں اس حوالے سے سوچوں گا ، تاہم میرے سسر نے اس معاملے پر کافی اصرار کیا، یہاں تک کہ میں نے یہ کہہ دیا کہ آپ بڑے ہیں، جو مناسب سمجھیں فیصلہ کر لیں۔
کچھ دن بعد میرے والد نے یہ فیصلہ کیا کہ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی کر دی جائے، کیونکہ نکا ح بغیر رخصتی کے یہ مناسب نہیں لگ رہا تھا اور اخراجات بھی لڑکی والوں کے کم ہوں گے تو لڑکی والے بھی اس پر راضی ہو گئے۔
نکاح سے پہلے ہمارے ہاں نکاح فارم پر دستخط اور مہر کی ادائیگی کی جاتی ہے،جب ہمارے رشتہ دار مہر کی رقم اور سونا دینے گئے اور واضح کیا کہ سونا بخشش نہیں ہے، تو میرے سسر نے سب کے سامنے یہ بات اٹھائی کہ سونا بطورِ بخشش طے ہوا تھا، اس پر کافی بحث ہوئی اور آخرکار میرے والد نے سونا بطورِ بخشش دے دیا، اس کے بعد نکاح اور رخصتی دونوں ہو گئے۔
شادی کے بعد میری بیوی روزانہ عصر سے رات ساڑھے نو بجے تک اپنی والدہ کے گھر ٹیوشن پڑھانے جاتی رہی،شادی کے دو مہینے بھی نہ گذرے تھے کہ میری بیوی نے مزید ملازمت کے انٹرویو دینے کے لئے مجھے بتایا ، میں نے منع کیا، میں نے کہا کہ صرف ٹیوشن گھر پہ پڑھالو جاب کے حوالے سے بعد میں دیکھیں گے ، اس پر میرے سسر نے مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی آپ سے جاب طے ہونے کی بنیاد پر کروائی ہے، میں نے جواب دیا کہ میں نے جاب کا کہا تھا، لیکن اب میں اجازت نہیں دے سکتااس لئے کہ اسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں پوری کروں گا، جاب کی ضرورت بھی نہیں ہے اوراگر جاب کے لئے جائے گی تو گھر کے کام کاج کا مسئلہ اور پھر جاب سے آئےگی اور گھر کے کام بھی کرے گی تو تھک جائے گی، لہذا صرف وہ آپ کے گھر پ آکر ٹیوشن پڑھائے گی پر دے کا مسئلہ بھی نہ ہوگا اور باہر جانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی جو کمائے گی وہ اپنے اوپر خرچ کرے مجھے تو ضرورت بھی نہیں مگر وہ مزید مصر رہے ۔
چند ماہ بعد اچانک اس نے بتایا کہ اس کی سرکاری ملازمت لگ گئی ہے اور وہ اگلے دن اسناد کی تصدیق کے لیے جائے گی، میں نے اسے منع کیا کہ ابھی ملازمت نہ کرے، بعد میں دیکھ لیں گے، لیکن وہ نہیں مانی اور چلی گئی، میں نے اسے پیغام بھیجا کہ اگر وہ گھر آنا چاہتی ہے تو ملازمت اور ٹیوشن دونوں چھوڑ دے اور میں نے کئی بار سمجھایا ، لیکن بس وہ ایک بات کہتی کہ میں جاب کروں گی اورآپ سے اس حوالے سے شادی سے پہلےبات ہوچکی ہے ، اب وہ اگست 2025ءسےاپنے والد کے گھر پر ہےاورجاب سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ پوری زندگی کا مسئلہ ہے اور پھر ضرورت بھی نہیں ہے، اور جہاں تک لڑکی کے شوق کی بات ہے تووہ اپنے والد کے گھر جاکر پڑھانے کی بھی اجازت دی ہے، لڑکی والے دیندار بھی ہے تو جاب کرنے کامطلب جو بظاہر میرے ذہن میں تھا کہ وہ ایسی جگہ پڑھائے گی جہاں صرف عورتیں ہو مگر وہ ایسے سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہے، جہاں اکثر مرد اساتذہ ہیں،جو کہ مجھے بالکل پسند نہیں ، اور ہمارے معاشرے میں بھی عورت کے جاب کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر دینی گھرانے میں اسے خوب معیوب سمجھاجاتا ہے کہ ایک عالم دین کی بیوی اسکو ل پڑھانے لئے باہر جائے اور خاص طور پر ایسی جگہ جہاں مرد حضرات ہوں اور پھر وہ روزانہ جائے گی تو نگرانی کون کرے گا ؟ اور ہر دن ذہنی اضطراب کا شکار رہنا کہ وہ کیسے اسکول پڑھانے جائے گی اور گھر کیسے آئے گی؟ اور اسکول سے آئی بھی ہےیا نہیں ؟اور شادی کا مقصد سکون حاصل کرنا ہوتا ہے جو کہ جاب کی وجہ سےمفقود نظر آرہاہے اب نہ میری بیوی جاب چھوڑنے کو تیار ہے اور نہ میں جاب کرنے کے حق میں ہو، البتہ مجھے اس بات کا اب تک افسوس ہے کہ شروع میں جاب کرنے کہ حوالے سے میں نے کیوں حامی بھردی؟ مگر میری نیت یہ تھی اگر میری بیوی میری بات مانے گی، مجھے سمجھے گی تو جاب نہیں کرے گی، لیکن اگر بعد میں ضرورت پڑی اور مناسب جگہ بھی ہوئی تو پھر میں اس حوالے سے سوچوں گا لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔لہٰذا دریافت طلب امور یہ ہیں:
- اس صورتِ حال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا میں اس بات میں گناہگار ہوں کہ میں نے ابتدا میں ملازمت کے معاملے"ہاں "کہا اور بعد میں انکار کر دیا؟
- شادی پر جو تقریباً پندرہ سے سولہ لاکھ روپے خرچ ہوئے( رشتہ کی بات پکی ہونے پر سونے کی بالیاں ا ور ناک کی نتھنی دی اور نکاح فارم پر دستخط کے موقع پر ایک تولہ سونا اور کپڑے اور شادی اور ولیمے کے کھانے پر خرچہ ) اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا رشتہ ختم کرنے کی صورت میں ہم وہ واپس لے سکتے ہیں؟
- کیا عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکل سکتی ہے ؟ خواتین کا بلا ضرورت جاب کا اصرار کرنا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
- کیا جاب کو بنیاد بنا کر لڑکی کے گھر والوں کا رشتہ ختم کرنے کی صورتحال پیدا کرنا درست اقدام ہے، جبکہ ہم الحمد للہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ، لڑکی کے تمام اخراجات ہم پوری کرنے کو تیار ہیں، نیز لڑکی کے خاندان کے لوگ بھی اچھی حالت میں ہیں۔
- ایک تولہ سونا جو زبر دستی بخشش کروادیا گیا ، خدانخواستہ طلاق کی صورت میں جبکہ یہ رشتہ صرف اور صرف لڑکی والوں کی ضد کی وجہ سے ٹوٹے گا تو کیا لڑکا ایک تولہ سونا واپسی لینے کا حق رکھتا ہے یا نہیں ؟
- ہم آج کے دن تک بھی رشتہ ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں ،مگر وہ ہمیں مجبور کررہے ہیں، صرف دنیاوی غرض کی وجہ سے تو گناہ گار کون ہوگا؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ جس مجلس میں سونا بطورِ بخشش دیا گیا تھا وہ مجلسِ نکاح تھی، رجسٹر پر پہلے میں نے دستخط کیے، پھر لڑکی کے پاس دستخط کروانے کے لیے گئے تو وہاں ایک تولہ سونا بخشش کرنے کی بات چلی اور والد نے یہ ایک تولہ سونا میری طرف سے ہی دیا تھا۔نیز سائل نے بتایا کہ لڑکی کبھی پیدل بھی اسکول جاتی ہے اور اسکول گھر سے تقریباً دس منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اس کے تمام کاموں کا نگران اور اس کی تمام ضروریات کا ذمہ دار قرار دیا ہے، اسی لیے شریعت نے گھر سے باہر کے تمام امور کی ذمہ داری عورت کی بجائے مرد پر ڈالی ہے اور گھر میں رہتے ہوئے شریعت نے عورت کو شادی کے بعد شوہر کی ہر جائز کام میں فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا ہے، حدیثِ پاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سننِ ابن ماجہ کی ایک روایت میں ارشاد فرمایا:
"لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لغير الله، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، والذي نفس محمد بيده، لا تؤدي المرأة حق ربها حتى تؤدي حق زوجها"
ترجمہ: اگرمیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے عورت اس وقت تک اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
لہذا عورت پر لازم ہے کہ وہ بغیر کسی معتبر عذر کے خاوند کی جائز کاموں میں اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے حتی الامکان گریز کرے، ورنہ وہ شریعت کا حکم چھوڑنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہو گی۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے والد کے اصرار پر جب آپ نے یہ کہا تھا کہ "آپ بڑے ہیں، جیسے مناسب سمجھیں فیصلہ کر لیں،" اس میں لڑکی کے ملازمت کرنے کا فیصلہ آپ نے اپنے سسر کے ہاتھ میں دیا تھا اور آپ کی طرف سے شادی کے بعد ملازمت کرنے کی کسی حد تک اجازت تھی، لیکن شادی کے بعد کے جو آپ نے سوال میں حالات ذکر کیے ہیں ان حالات کی روشنی میں آپ کا اپنی بیوی کو ملازمت منع کرنا بالکل درست ہے، کیونکہ وہ ایسے اسکول میں ملازمت کر رہی ہے جس میں اکثر عملہ مرد حضرات پرمشتمل ہے، ایسی صورت میں بعض اوقات عورت کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، کیونکہ عورت کا چھ گھنٹے مرد حضرات کے ماحول میں رہنا، ڈیوٹی کے دوران بوقتِ ضرورت مرد اساتذہ وعملہ سے گفتگو کرنا اور ان کی بعض مجالس (Meetings)میں بھی شریک ہونا اور ڈیوٹی پر کبھی تنہا پیدل جانا وغیرہ جب ایک طویل عرصہ تک یہ سلسلہ چلے گا تو فتنہ کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں، پھر آپ کے معاشرے میں عورت کی ملازمت کو اچھا بھی نہیں سمجھا جاتا، خصوصاً جب عورت ایک عالم دین کی بیوی ہو تو یہ معاشرے میں اور بھی زیادہ معیوب شمار ہوتا ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں آپ کااپنی بیوی کو مذکورہ ملازمت کرنے سے منع کرنا جائز ہے اور منع کرنے میں آپ شرعاً گناہ گار نہیں ہیں، بلکہ لڑکی اس معاملے میں آپ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گی، کیونکہ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں۔
البتہ اگر گھر کے نزدیک کوئی لڑکیوں کا اسکول ہو اور عملہ بھی خواتین اساتذہ پر مشتمل ہو تو ایسی ملازمت کی آپ اجاز ت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ عورت آنے جانے کے راستے میں اور ملازمت کے دوران پردے کا لحاظ رکھے، بلا ضرورتِ کسی مرد سے بات چیت، خلوت اور خوش طبعی وغیرہ نہ کرے۔
2۔ شادی پر بارات، ولیمہ، کھانے پینے اور کپڑوں وغیرہ کے اخراجات آپ وصول نہیں کر سکتے، اسی طرح شادی کے بعد آپ کی طرف سے جو ہدایا دیے گئے ہیں وہ بھی واپس لینا جائز نہیں، کیونکہ زوجین میں سے کوئی ایک دوسرے کو ہدیہ دے تو اس سے رجوع نہیں کر سکتا، البتہ وہ زیورات جو لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو شادی کے موقع پر دیے گئے تھے، ان کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ کے عرف میں وہ بطورِ ہدیہ لڑکی کو مالک بنا کر دیے جاتے ہوں تو ایسے زیورات کا بھی واپس لینا جائز نہیں، البتہ اگر آپ کے عرف میں وہ ہدیہ کی بجائے بطورِ عاریت استعمال کے لیے دیے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں وہ واپس لیے جا سکتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں کو اپنے گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}[الأحزاب:33]یعنی اور تم (خواتين) اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور (غیرمردوں کو) بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھرو۔
اس آیت مبارکہ کے حضرت مفتی محمد عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
"اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں، کیونکہ حاجت کے وقت عورت پردے کے ساتھ باہر جا سکتی ہے، لیکن اس فقرے نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ عورت کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے اور ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد میں خلل انداز ہوں اس کے اصل مقصدِ زندگی کے خلاف ہیں اور ان سے معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے۔" (آسان ترجمہ قرآن، سورہٴ احزاب، آیت:۳۳)
اس ليے شريعت نے اس کے نان ونفقہ اور تمام ضروریات کی ذمہ داری شوہر پر ڈالی ہے، لہذا اگر شوہر عورت کی تمام ضرروریات اور اخراجات پورے کر رہا ہو تو ایسی صورت میں عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر بلا عذرِ شرعی گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں۔
4۔ میاں بیوی کے درمیان رشتہٴ نکاح کی شریعت میں بہت اہمیت ہے، یہی مبارک رشتہ درحقیقت انسانی نسل کی بقاء کا ذریعہ ہے، اسی لیے نکاح کو حدیثِ پاک میں سنت قرار دیا گیا اور اس رشتے کو خراب کرنے اور توڑنے کی قرآن کریم میں مذمت بیان فرمائی گئی اور اس کوجادوگروں اور شیاطین کا عمل قرار دیا گیا اور حدیثِ پاک میں طلاق کو جائزکاموں میں سے سب سے ناپسندیدہ کام قرار دیا گیا۔ لہذا مذکورہ صورت میں لڑکی اور اس کے گھر والوں کا ملازمت کا بہانہ بنا کر رشتہ ختم کرنے کے حالات پیدا کرنا بالکل درست نہیں، جب دونوں خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہے اور لڑکا لڑکی کے تمام اخراجات پورا کرنے پر آمادہ ہے تو پھر لڑکی اور اس کے خاندان کو ملازمت پر اصرار کرنا جائز نہیں، لہذا دونوں خاندان کے بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر اس سنگین مسئلہ کوحل کرنے کی کوشش کریں، تاکہ اس رشتہ کے ٹوٹنے کی نوبت نہ آئے۔
5۔ سوال میں تصریح کے مطابق یہ ایک تولہ سونا لڑکی کو بطورِ بخشش یعنی عطیہ دیا گیا تھا، اگرچہ آپ کے والد بطورِ بخشش دینے پر رضامند نہیں تھے، لیکن بحث ومباحثہ کے بعد جب انہوں نے زبان سے بطورِ بخشش دینے کی صراحت کر دی تو شرعاً ہبہ مکمل ہو گیا، لہذا شرعی طور پر اب لڑکی اس کی مالک بن چکی ہے اور یہ سونا چونکہ آپ کے والد نے آپ کی طرف سے دیا تھا، اس لیے علیحدگی کے بعد اس سونے کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔
6۔ مذکورہ صورت میں اگر لڑکی اور اس کے گھر والے اسی اسکول (جس میں پڑھانے والے اکثر مرد حضرات ہیں اور کبھی لڑکی پیدل تنہا بھی اسکول پڑھانے کے لیے جاتی ہے) میں ملازمت کرنے پر بضد ہیں اور آپ کے گھر والوں کی کوشش کے باوجود وہ ملازمت چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے تو ایسی صورتِ حال میں آپ طلاق یا خلع دینے پر عند اللہ گناہ گار نہیں ہوں گے، لیکن آپ کچھ وقت تک صبر کر لیں اور جب بالکل ناامیدی ہو جائے تو یہ اقدم اٹھائیں تو بہتر ہو گا۔
حوالہ جات
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 59) الناشر: دار الرسالة العالمية:
عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: لما قدم معاذ من الشام سجد للنبي - صلى الله عليه وسلم -. فقال: "ما هذا يا معاذ؟ " قال: أتيت الشام فوافقتهم يسجدون لأساقفتهم وبطارقتهم، فوددت في نفسي أن نفعل ذلك بك، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "فلا تفعلوا، فإني لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لغير الله، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، والذي نفس محمد بيده، لا تؤدي المرأة حق ربها حتى تؤدي حق زوجها، ولو سألها نفسها، وهي على قتب، لم تمنعه"
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (3/ 505) الناشر: دار الرسالة العالمية:
حدثنا كثير بن عبيد، حدثنا محمد بن خالد، عن معرف بن واصل،عن محارب بن دثارعن ابن عمر، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق"
رد المحتار (كتاب النكاح، باب المهر، 3 /153، ط: ايچ، ايم ،سعید):
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا.
رد المحتار (كتاب النكاح، باب المهر، 3/157: ايچ، ايم ،سعید):
"والمعتمد البناء على العرف كما علمت."
الفتاوى الهندية (4/ 386) (الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: ماجدية) :
"أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب ....... (ومنها) خروج الموهوب عن ملك الموهوب له ....... (ومنها) موت الواهب، ...... . (ومنها) الزيادة في الموهوب زيادة متصلة . . ..... (ومنها) أن يتغير الموهوب ........ (ومنها الزوجية) (ومنها القرابة المحرمية)".
( حاشیۃ الطحطاوی علی الدر،کتاب النکاح ، باب المهر، کوئٹہ۲/۶۶):
خطب بنت رجل وبعث إلیها أشیاء ولم یزوجها أبوها فما بعث للمهر یسترد عینہ قائماً فقط وإن تغیر بالاستعمال أو قیمتہ هالکا لأنہ معاوضۃ ولم تتم فجاز الاسترد اد وکذا یسترد مابعث هدیۃ وهو قائم دون الهالک والمستهلک لأن فیہ معنیٰ الهبۃ.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 348) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:
(خطب بنت رجل وبعث إليها شيئا ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد) إن عينه (قائما) ، وإن تغير بالاستعمال؛ لأنه مسلط عليه من قبل المالك فلا يلزم في مقابلة ما انتقص باستعماله شيء (أو) قيمته إن (هالكا) ؛ لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (كذا كل ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك) ؛ لأن فيه معنى الهبة رجل زوج ابنته.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
18/ذوالقعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


