| 87579 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میزان بینک کے حوالے سےپوچھنا ہے کہ ان کے ہاں بچت اکاؤنٹ یا مختلف قسم کے فنڈز میں پیسے رکھنا اور اس سے حاصل ہونے والا نفع لینا شرعی اعتبار سے کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ میزان غیر سودی بینک ہے اور غیر سودی بینک سودی معاملات میں ملوث نہیں ہوتے، بلکہ ان کے معاملات مرابحہ، مضاربہ، مشارکہ اور اجارہ کے شرعی اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ان کے تمام عقود (Transactions) کی نگرانی باقاعدہ طور پر مستند مفتیانِ کرام کررہے ہوتے ہیں، اس لیے ہماری رائے کے مطابق میزان بینک میں رقم رکھواکر اس پرنفع لینا حلال ہے۔
حوالہ جات
..........
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


