| 87842 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
ایک شخص نے مرکزی مسجد کے لیے زمین وقف کی تھی، اور اب ایک اور شخص اس پر جنازہ گاہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جو جگہ مسجد کے لیے وقف ہے، اس کی حیثیت بدل کر اسے مستقل جنازہ گاہ بنانا جائز نہیں ہے، البتہ عارضی طور پر وہاں نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني: (215/6، ط: دار الكتب العلمية)
قيم المسجد إذا أراد أن يبني حوانيت في المسجد وفي فنائه لا يجوز، أما المسجد: فلأنه إذا جعل مسكناً يسقط حرمة المسجد، أما الفناء: فلأنه يتبع المسجد.
الهندیة: (362/2، ط: دار الفکر)
البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5 ٖ محرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


