03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے خریدے گئے پلاٹ پر بیٹوں کی جانب سے کی گئی تعمیر کاحکم
88605میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب نے ایک پلاٹ خریدا تھا،اس کی زمین منزل ہم دو بھائیوں نے لون لے کراپنی رہائش کے لئے  تعمیر کروائی تھی اور دونوں بھائی اس میں رہائش پذیر ہیں،جبکہ اس کے اوپر والی منزل والد صاحب نے تعمیر کروائی تھی،جس میں وہ اور ہماری ایک بہن یعنی ان کی بیٹی رہتے تھے،مکان میں دو کچن تھے،بڑے بھائی کا کچن اور خرچہ الگ تھا،جبکہ چھوٹا بھائی والد اور بہن کا کچن مشترکہ تھا۔

2024ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا،ان کے ورثا میں ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں،ہماری والدہ کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہی ہوگیا تھا،اس تمہید کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

پہلا سوال یہ ہے کہ اس مکان کی زمینی منزل جو بھائیوں نے لون لے کر تعمیر کروائی تھی،اس میں دیگر ورثا کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں اس مکان کی پہلی منزل جو دو بھائیوں نے ذاتی کمائی سے بنوائی تھی انہیں کی مشترکہ ملکیت ہے،جبکہ پلاٹ کا رقبہ اور والد صاحب کی جانب سے تعمیر کی گئی دوسری منزل تمام ورثا کی مشترکہ ملکیت ہے۔

حوالہ جات

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(3/ 315):

"الاحتمال الثالث : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

06/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب