| 88606 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ ہماری بہن کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے زبانی طور پر ان سے کہا تھا کہ اوپر والی منزل تمہاری ہے،اس کی کوئی لکھت پڑھت نہیں ہے اور نہ والد صاحب نے کبھی ہمارے سامنے اس کا تذکرہ کیا اور نہ مرتے دم تک اوپر والی منزل کا قبضہ اور تصرف ان کے حوالے کیا،بلکہ وہ خود بھی بہن کے ساتھ اس منزل میں رہائش پذیر تھے،جبکہ کچن میں ان کے ساتھ چھوٹا بھائی بھی شریک تھا،اگرچہ رہائش اس کی نچلی منزل میں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کی تکمیل کے لئے قبضہ شرط ہے،لہذا مذکورہ صورت میں اگربالفرض بہن کا دعوی سچا بھی ہو تو والد کے محض زبانی طوریہ کہنے سے کہ یہ منزل تمہاری ہے،ہبہ مکمل نہیں ہوا،کیونکہ انہوں اس منزل کا قبضہ آپ کی بہن کو نہیں دیا ،لہذا ان کی وفات کے بعد اب اوپر والی منزل ان کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
.......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
06/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


