| 88622 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
کیا مسجد کے بیت المال کی رقم تبلیغی جماعت کے لیے یا مسجد سے متعلق دیگر مصارف، جیسے امام، گیس، بجلی وغیرہ کے اخراجات پر خرچ کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد کا بیت المال (یعنی چندہ، عطیات، وقف شدہ اموال) شرعاً "وقف فی سبیل اللہ" ہوتا ہے، جس کا استعمال صرف مصالحِ مسجد (یعنی مسجد کی ضروریات اور عبادت سے متعلق خدمات) میں کرنا جائز ہے۔امام و مؤذن کی تنخواں اسی طرح گیس ،بجلی وغیرہ کے اخراجات چونکہ مصالح مسجد میں شامل ہیں ،لہذا ان امور پر مسجد کے بیت المال سے خرچ کرنا جائز ہے۔
البتہ تبلیغی جماعت کے مہمان افراد نہ تو مسجد کے ملازمین میں شمار ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے کھانے پینے یا دیگر ذاتی اخراجات (مثلاً سلنڈر وغیرہ) شرعاً مصالحِ مسجد میں داخل ہیں۔ لہٰذا مسجد کے بیت المال سے ان کے لیے خرچ کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص بطورِ احسان ذاتی طور پر تعاون کرنا چاہے تو ایسا کرنا جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك.قوله: (لا يجوز له ذلك) أي الصرف المذكور.....قال الخير الرملي: أقول: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر وهي واقعة الفتوى.(الدر المختارمع رد المحتار/4:361)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحةكالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح، هذا إذا لم يكن معينا فإن كان الوقف معينا على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اهـ(رد المحتار: 4/ 367)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ويدخل في وقف المصالح قيم … إمام خطيب والمؤذن يعبر الشعائر التي تقدم شرط أم لم يشترط بعد العمارة هي إمام وخطيب ومدرس ووقاد وفراش ومؤذن وناظر، وثمن زيت وقناديل وحصر وماء وضوء وكلفة نقله للميضأة.(رد المحتار: 4/ 371)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به۔(رد المحتار: 4/ 366)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
10/ربیع الثانی ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


