03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق رجعی کے بعدعدت کے دوران بادل ناخواستہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کرنا
88639طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میں نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ،جس میں میری اور بیوی دونوں کی غلطی تھی، حمل اور حیض میں کنفیوزن کی وجہ سے پتہ نہیں چل سکا اور حیض کے حساب سے اندازہ لگا کر طلاق رجعی (ایک طلاق) دی، مگر طلاق رجعی واقع ہوگئی، پتہ یوں نہیں چل سکا کہ 25 دسمبر 2024 کو لڑکی نے اپنے گھر والوں کی موجودگی میں مجھ سے شرمناک الفاظ کہے کہ ہمارا بچہ کیسے ہوگا؟ کیونکہ ہم کون سا کوشش کرتے ہیں اور لڑکی کو والدین کے گھر ہی چھوڑ دیا ،کیونکہ سسرال کے ساتھ لڑکی کے تعلقات بہت خراب ہوچکے تھے اور شوہر بھی سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا ،اس وجہ سے فتنہ اور بڑھ رہا تھا، میں نے بیوی کی اس بات سے اندازہ لگایا کہ اس کو حمل نہیں ہے اور ایک ہفتہ رک  کرطہر کا اندازہ لگا نے کے بعد یکم  جنوری 2025 کو میں نے طلاق رجعی کے اسٹامپ پیپر پر دستخط کر کے اس کے والد کو واٹس ایپ پر بھیج دیا اور اس دن سے عدت شمار کرناشروع کردی۔

اس کے والد نے انکار کردیا کہ ایسے طلاق نہیں ہوتی، بلکہ شوری بیٹھے گی اور ان کی رضا مندی سے فیصلہ ہوگا، ورنہ کالعدم ہے، 2 جنوری کو لڑکی والوں نے مجھے ہسپتال کے پیپر بھیجے، جس پر حمل ٹہرنے کا لکھا تھا اور اس پر تاریخ بھی کچھ پرانی سی لکھی تھی جس نے میرےشک میں اضافہ کردیا ، مگر میں نے بیوی کے ان الفاظ کو ہی ملحوظ خاطر رکھا اور یقین نہیں کیا۔ اس کے بعد 4 جنوری کو ان کے والد نے منسٹری آف ڈیفینس سے ایک بندہ ہمیں ڈرانے کے لئے گھر بھیجا، جس نے میرے والد اور بھائی کو اپنی پستول دکھا کر رعب میں لینے کی کوشش کی اور رجوع کرنے کا کہا، اس واقعے نے حمل والے معاملے کو میری نظر میں مزید مشکوک کردیا اور میں نے تمام نمبروں کو بلاک کر کے رابطہ مکمل ختم کردیا،تاکہ مزید کوئی دھمکی نہ مل سکے اور مزید بد مزگی نہ ہو۔

جب یکم  جنوری 2025 کو اسٹامپ پیپر بنوایا تو میرے والد اور بھائی نے اس میں تین طلاقیں لکھی تھیں، میں نے بھائی اور والد کو واپس بھیجا اور دوسرا پیپر بنوانے کا کہا جس میں طلاق رجعی یعنی ایک طلاق کا لکھا ہو، کیونکہ مجھے ایک ہی دینی تھی بس،جب اسٹامپ پیپر والے نے انکار کیا تو میں نے آفس سے چھٹی لیکر  خود جا کر ایک طلاق کے پیپر بنوائے اور یکم جنوری کو اس پر دستخط کئے،جبکہ تین طلاقوں والے اسٹامپ پر دستخط نہیں کئے۔

پھر تقریباً ایک ماہ بعد لڑکی والوں نے میرے والد سے رابطہ کر کے بتایا کہ حمل ضائع ہو گیا ہے اور اس کی رپورٹ پیش کی ،جس پر2 فروری 2025 کی تاریخ درج تھی،اس کے کچھ دنوں بعد لڑکی نے کسی طرح مجھ تک پیغام پہنچایا کہ حمل واقعی ضائع ہوا ہے جس پر مجھے یقین آیا ،مگر میں نے حیض کا سوچ کر طلاق دی تھی ،اگر لڑکی شروع میں ہی حیض کے بجائے حمل کا کہتی تو میں ایک طلاق بھی نہ دیتا، بہر حال اس طر ح کی غلط فہمیوں میں طلاق رجعی واقع ہوگئی ۔

اس دوران لڑکی والے میرے والد سے رابطے میں رہے، کیونکہ پستول والے معاملے کے بعد میری ہمت دوبارہ رسک لینے کی نہیں  ہوئی،اب لڑکی والے کہتے رہے کہ یا تو رجوع کرلیں یا تین طلاقیں دیدیں، اس دوران کسی وکیل نے لڑکی والوں کو بتایا کہ اگر آپ نے تین طلاقیں نہ لکھوائیں تو آگے پاسپورٹ اور زندگی کے باقی معاملات کی(documentation) میں مسئلہ ہوگا ،جس کی وجہ سے لڑکی والے تین طلاق پر بضد رہے اور میرے والد کو کہتے رہے اور والد مجھے کہتے رہے کہ ان کی ضرورت پوری کردو، جبکہ میرےذہن میں "لا تدری لعل اللہ  یحدث بعد ذلک امرا "چل رہا تھا اور میں ہر دفعہ والد کو سمجھاتا رہا کہ  میں ایک ہی پر ختم کروں گا اور جب عدت ختم ہوجائےگی تو نکاح خود ختم ہوجائےگا، تین دینے کی ضرورت نہیں،لیکن لڑکی والوں کی وہی ڈیمانڈ رہی۔

پھرمیں نے  اپریل کے پہلے ہفتے میں واٹس ایپ کے ذریعہ لڑکی والوں کے سامنےاپنی نیت ظاہر کی کہ مجھ سے تین نہ مانگیں ،ایک ہی اتنی گراں گزر رہی ہے اور انہیں بتایا کہ  اگر لڑکا لڑکی اور تمام گھر والے اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو رجوع ہو سکتا ہے اور انصاف کے ساتھ یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، اس میسج کے بعد لڑکی والے 6 اپریل کو اچانک آگئے،لیکن انکا انداز جارحانہ اور الزام تراشی والا تھا اور کہہ رہے تھے کہ رجوع کرلو ،جب کہ اب تک پستول والا معاملہ دو فیملیوں کے درمیان حل نہیں ہوا تھا۔

میں نے انہیں سمجھایا کہ لڑکی اور میری غلطی کی وجہ سے طلاق رجعی ہوئی تھی اور میرے اندازے کے مطابق عدت ختم ہوگئی تھی، جس کا حساب میں نے یکم جنوری سے 6 اپریل تک لگایا ،چنانچہ میں نے لڑکی والوں کو سمجھایا کہ عدت گزرنے کے بعد اب نکاح ختم ہوچکا ہے اور طلاق کا مزید شرعی اختیار میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، مگر لڑکی کے ماموں نے کہا کہ آپ کو بس دین کا پتہ ہے اور مجھے دنیا کا پتہ ہے، ہمیں documentation کی ضرورت ہے تو آپ اس غرض سے تین لکھ کر دیدو ،جس پر میرے بھائی اور والد نے ان کی بات مان لی اور ان سے کہا کہ آپ کو پیپر مل جائیں گے،جبکہ میں نے ہامی نہیں بھری اور یہی جواب دیا کہ اب طلاق معتبر نہیں ہوگی،کیونکہ عدت گزر چکی ہے۔

بہرحال اس کے بعد میری اپنی اور لڑکی کی فیملی کی ضد سے تنگ آکر میں نے اس طلاق نامے پر دستخط کردیئے جو یکم جنوری کوبنایا گیاتھا،لیکن میں نے اس وقت اس پر دستخط کرنے سے اس وجہ سے انکار کردیاتھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں دوسری اور تیسری طلاق واقع ہوگئی ہے؟

اور دوسرا عدت کےحوالے جو کنفیوزن شروع سے رہی حمل اور حیض کے بیچ ، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

میں نے ابھی 19 ستمبر 2025 کو کسی سے معلوم کروایا ہے تو لڑکی نے بتایا اس کے تین حیض 15 اپریل کو مکمل ہوئے تھے، جبکہ 15 مارچ کو لڑکی کا ایک میسج آیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ عدت ختم ہونے میں پندرہ دن باقی ہیں تو آپ مجھ سے جلدی رجوع کرلیں، میں آپ سے بھی معافی چاہتی ہوں اورا ﷲ سے بھی، لڑکی کو دین کا علم نہیں تو اس نے اپنی عدت تین ماہ سمجھ کر بتائی اور میں سمجھا کہ تین حیض مکمل ہوگئے ہیں۔

تنقیح: سائل نے وضاحت کی ہے کہ اس نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامے پر 7 یا 8 اپریل کو دستخط کئے تھے یہ سمجھ کر کہ عدت گزرچکی ہے،لہذا دستخط کی وجہ سے مزید طلاقیں نہیں ہوں گی،لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ تیسرا حیض15 اپریل کو ختم ہوا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حاملہ عورت کی عدت وضع حمل (بچے کی ولادت)سے پوری ہوتی ہے،بشرطیکہ وضع حمل بچے کے اعضاء بننے کے بعد ہو، چونکہ مذکورہ صورت میں صرف ایک ماہ گزرنے کے بعد ہی حمل ضائع ہوگیا تھا اور ایک ماہ کے دوران بچے کے اعضاء نہیں بنتے،اس لئے اس کی وجہ سے عدت ختم نہیں ہوئی،بلکہ عدت کی مدت تین حیض میں بدل گئی اور عدت کے دوران طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

چونکہ آپ نے  تین حیض مکمل ہونے سے پہلےاپنے اور لڑکی کے خاندان کی جانب سے اخلاقی دباؤ کی وجہ سے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کردیئے تھے(جیسا کہ آپ نے سوال میں اس کی تصریح کی ہے) اور ایسا اخلاقی دباؤ طلاق کے وقوع سے شرعا مانع نہیں ہے،اسی طرح آپ کی یہ غلط فہمی بھی طلاق کے وقوع سے مانع نہیں کہ عدت گزرچکی،لہذا دستخط کرنے سے مزید طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔

اس لئے مذکورہ صورت میں تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کرنے کی وجہ سے دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی،جس کے بعد موجود ہ حالت میں اب آپ دونوں کا دوبارہ نکاح ممکن نہیں رہا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع " (3/ 196):

"وأما عدة الحبل فمقدارها بقية مدة الحمل ،قلت أو كثرت ،حتى لو ولدت بعد وجوب العدة بيوم أو أقل أو أكثر، انقضت به العدة؛ لقوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] من غير فصل، وذكر في الأصل أنها لو ولدت والميت على سريره ،انقضت به العدة على ما جاءت به السنة. هكذا ذكر.

 والسنة المذكورة هي ما روي عن عمر – رضيﷲ عنه - أنه قال في المتوفى عنها زوجها :إذا ولدت،وزوجها على سريره، جاز لها أن تتزوج، وشرط انقضاء هذه العدة أن يكون ما وضعت قد استبان خلقه أو بعض خلقه فإن لم يستبن رأسا بأن أسقطت علقة أو مضغة لم تنقض العدة؛ لأنه إذا استبان خلقه أو بعض خلقه فهو ولد فقد وجد وضع الحمل فتنقضي به العدة، وإذا لم يستبن لم يعلم كونه ولدا ،بل يحتمل أن يكون، ويحتمل أن لا يكون فيقع الشك في وضع الحمل، فلا تنقضي العدة بالشك".

"الفتاوى الهندية "(5/ 35):

"(وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد".

"رد المحتار" (10/ 437):

"( قوله: ومحله المنكوحة ) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة أو عن فسخ بتفريق لإباء أحدهما عن الإسلام أو بارتداد أحدهما " .

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب