03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام مسجدکوکن امورکاپابندبنایاجاسکتاہے ؟
88669وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

امام مسجدکوکن امورکا پابندبنایاجاسکتاہے ،برائے کرم اس بارے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ امام عام ملازموں کی طرح ایک ملازم نہیں ہوتا،  بلکہ علاقے کادینی مقتداہوتاہے،لہذا اس کے ساتھ عزت کا برتاؤ ضروری ہے،عزت اوراحترام کاخیال رکھتے ہوئے امامِ مسجد کو اُن تمام امور کا پابند بنایا جا سکتا ہے جو ان کے ساتھ معاہدےمیں طےپائےہوں اوربوقتِ عقد انہوں نے انہیں قبول کیا ہو، جیسےجماعت کے وقت کی پابندی، خطبہ، تعلیم وغیرہ۔ تاہم ان کی ذمہ داری سے ہٹ کرکسی اورچیز کی پابندی کا ان سے مطالبہ کرنا  درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

المسلمون على شروطهم رواه الترمذي في (الأحكام) باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح برقم(1352).

وقال العلامۃ ابن عابدین: واذا استأجر رجلا یوما یعمل کذا فعلیہ ان یعمل ذلک العمل الی تمام المدۃ ولا یشتغل بشییٔ آخر سوی المکتوبۃ… نجار استوجر الی اللیل فعمل لآخر دواۃ بدرہم وہو یعلم فہو آثم وان لم یعمل فلا شییٔ علیہ وینقص من اجر النجار بقدر ما عمل فی الدواۃ۔

(الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۵:۴۸ مبحث الاجیر الخاص، کتاب الاجارۃ)

 قال العلامۃ ابن نجیم: واما رکنہا فہو الایجاب والقبول والارتباط بینہما اما شرط جوازہا فثلاثۃ اشیاء: اجر معلوم وعین معلوم وبدل معلوم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

20/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب