| 88673 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرانام ہے ............................. ہے،میرے دوبھائی ہیں،بڑے بھائی محمد.......... اورچھوٹے بھائی کانام محمد........................... ہے،میرے چھوٹے بھائی نے اپنی بیوی کونشہ کی حالت میں طلاق دی تھی،ان کاایک بیٹامحمد رافع ہے،اس کی پوری کفالت میری سابقہ بھابھی نے ایک فیکٹری میں نوکری کرکے کی،میرے بھائی کاانتقال ہوگیا،اس کے بعد میرے والد(لڑکے کادادا)کابھی انتقال ہوگیا،اب میرے والدکی جائیدادکی تقسیم کامسئلہ ہے،سابقہ بھابھی کاکہنایہ ہے کہ داداکی جائیدادمیں سے پوتے کی پرورش کاخرچہ بھی دیاجائے،معلوم یہ کرناہے کہ ان کایہ مطالبہ درست ہے یانہیں؟اگردرست ہے توشرعی طورپرکتناخرچہ بنتاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بالغ ہونے تک یتیم پوتے کاخرچہ والدہ اور دادا پر اثلاثاً واجب ہے۔ اثلاثاً کا مطلب یہ ہے کہ نان نفقہ اور خرچے کا ایک حصہ والدہ کے ذمہ اور دو حصے داداپرلازم ہوتے ہیں اوراگروالدہ کے پاس خرچ کرنے کے لئے مال نہ ہوتوپھرساراخرچہ داداکے ذمہ لازم ہے اوراگرداداکے پاس مال نہ ہویاداداکمائی کے قابل نہ ہوتوپھرساراخرچہ چچابرداشت کریں گے،اس تفصیل کے مطابق دادانے یتیم پوتے کاخرچہ نہیں دیااورداداکاانتقال ہوگیا توسابقہ مدت کاخرچہ داداکے ترکہ سے وصول نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ اولاداورذوی الارحام کے نفقہ کے بارے میں شریعت کااصول یہ ہے کہ مدت کے گزرنے سے ساقط ہوجاتاہے،لہذا صورت مسؤلہ میں بھابھی کا سابقہ مدت کے خرچہ کامطالبہ ترکہ میں سے کرنادرست نہیں،البتہ اگرورثہ اپنی مرضی اورخوشی سے یتیم بچہ کودیناچاہیں تو دے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
فی الفتاوى الهندية (ج 11 / ص 464):
ولو كان له أم وجد فإن نفقته عليهما أثلاثا على قدر مواريثهما ، الثلث على الأم والثلثان على الجد ، وكذلك إذا كان له أم وأخ لأب وأم ، أو ابن أخ لأب وأم ، أو عم لأب وأم ، أو واحد من العصبة فإن النفقة عليهما أثلاثا على قدر مواريثهما ، ولو كان له جد وجدة فالنفقة عليهما أسداسا ، ولو كان له عم لأب وأم وعمة لأب وأم فالنفقة على العم۔
وفی رد المحتار (ج 5 / ص 377):
(قضى بنفقة غير الزوجة) زاد الزيلعي: والصغير (ومضت مدة) أي شهر فأكثر (سقطت)؛ لحصول الاستغناء فيما مضى ....."
(قوله: زاد الزيلعي: والصغير) يعني استثناه أيضاً فلاتسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب. ثم اعلم أن ما ذكره الزيلعي نقله عن الذخيرة عن الحاوي في الفتاوى، وأقره عليه في البحر والنهر، وتبعهم الشارح مع أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح وكافي الحاكم.
وفی الھدایۃ: ولوقضی القاضی للولد والوالدین وذوی الأرحام بالنفقۃ،فمضت مدۃ سقطت،لأن نفقۃھولاء تجب کفایۃ للحاجۃ حتی لاتجب مع الیسار،وقد حصلت بمضی المدۃ،بخلاف نفقۃ الزوجۃ إ ذاقضی القاضی بھا،لأنھا تجب مع یسارھا فلاتسقط بحصول الاستغناء۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۸/ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


