03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پوتے کے لیے وصیت کاحکم
88674میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد............................نے زندگی میں ایک وصیت تیارکی تھی جس میں انہوں نے یتیم پوتے کوایک پلاٹ دینے کی وصیت کی ہے جوکہ گجرنالہ پرواقع کارخانہ کوگرانے کے بعد سرکارکی طرف سے دیاجائے گا،کیایہ پلاٹ اس بچہ کے نام ٹرانسفرکروانالازم ہے،ایک مفتی صاحب کے مطابق وارث کے لئے وصیت نہیں ہوتی اس لیے یہ پلاٹ اس بچہ کانہیں ہوگا،کیایہ بات درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیروارث کے لئے تہائی مال تک وصیت کی جاسکتی ہے،صورت مسؤلہ میں پوتاوارث نہیں بنتاہے اس لئے اگرمرحوم نے یتیم پوتے کےلئے پلاٹ دینے کی وصیت کی ہے  اوریہ پلاٹ کل ترکہ کے تہائی تک میں آرہاہے تویہ وصیت معتبرہوگی اوراگرتہائی سے زیادہ بن رہاہے توتہائی کی حدتک توپلاٹ یتیم پوتے کے لئے ہوگا،باقی میں ورثہ کاحصہ ہوگا،البتہ اگرسارے ورثہ بالغ ہوں اوروہ اپنی مرضی سے پلاٹ میں بننے والاحصہ یتیم پوتے کےلئے چھوڑناچاہیں توبالکل چھوڑسکتے ہیں اورسب ورثہ کے راضی ہونے کی صورت میں یہ پلاٹ یتیم پوتے کاہوگا۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

     ۱۸/ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب