03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ کی رقم سے خریداگیا مکان کاحکم
88736میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد نے داداکے پیسوں سے پلاٹ لیااورایک مکان خودتعمیرکرایا،یہ مکان والدمرحوم کے نام  پرہے ،اب میرے داداکی کوئی اولادزندہ نہیں،پوتے،پوتیاں،نواسے اورنواسیاں زندہ ہیں،میرے داداکے ایک بیٹااوردوبیٹیاں تھی،معلوم یہ کرناہےکہ یہ مکان کیسے تقسیم ہوگا؟

تنقیح:سائل نے بتایاہےکہ داداانڈیامیں سرکاری ملازم تھے،پنشن کی رقم مرحوم داداکی وفات کے بعد ملی تھی،دادی اس وقت زندہ تھی،دادی اوربہنوں کی اجازت سے پلاٹ خریداگیا اوراس کومشترکہ سمجھاگیا،البتہ تعمیرسب کی اجازت سے مرحوم والدنے اپنے لئے کی تھی،اب کوئی بھی زندہ نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پلاٹ چونکہ سب کے لئے مشترکہ خریداگیاتھا،اس لئے اس پلاٹ میں سب بیٹے اوربیٹیوں کابرابرحصہ ہے،اورسب  مشترکہ طورپراس کے مالک ہیں،البتہ تعمیر کا مالک وہ بیٹا ہے جس نے سب کی اجازت سےاپنے لئے بنوائی ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں خالی پلاٹ میں 50فیصدحصہ بیٹے(آپ کےمرحوم والد) اور25 فیصد ہربیٹی کاحصہ بنتاہے،جوکہ ان کے ترکہ میں شامل ہوکران کے ورثہ میں تقسیم ہوگا،باقی تعمیرات کی قیمت صرف بیٹے کے ورثہ میں تقسیم ہوگی،بہنوں کی اولاد کااس میں کوئی حصہ نہیں۔

حوالہ جات

وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (ج 9 / ص 170):

الاحتمال الثاني : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة ( 1131 ) .

الاحتمال الثالث :إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه .انظر المادة( 831 )وشرح المادة ( 906 )

 الاحتمال الرابع : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة .

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

      ۱۸/ربیع الثانی۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب