| 89003 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
یکم جنوری 2004ء کو والد محترم اس دنیا فانی سے انتقال فرما گئے ،ورثا میں بیوہ ،2 بیٹے اور 3 بیٹیاں (ایک بیٹی شادی شدہ ، 2 غیر شادی شدہ ) شامل ہیں،جبکہ ترکہ میں ایک رہائشی مکان کراچی میں اور ایک گاؤں میں ، ایک آبائی مکان اور کاروبار موجود ہے،لہذا ترکہ میں سے کسے کتنا حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انتقال کے وقت جو سونا،چاندی،نقدی،جائیداد،یا ان کے علاوہ کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز جومرحوم کی ملکیت میں تھی،سب ان کا ترکہ ہے،جس میں ورثا کے حصوں کے تفصیل درج ذیل ہے:
نمبرشمار |
ٕوارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوہ |
1/8 |
12.5% |
2 |
ہربیٹا |
2/8 |
25% |
3 |
ہر بیٹی |
1/8 |
12.5% |
یعنی ترکہ کو کل آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جن میں سے ایک حصہ (12.5%)مرحوم کی بیوہ کو ملے گا،جبکہ دو دو حصے(25%) ان کے ہر بیٹے کو ملیں گے اور ایک ایک حصہ(12.5%) ہر بیٹی کو ملے گا۔
حوالہ جات
...
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ جمادی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


