| 89759 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
گولڈ آئی ایپ میں سرمایہ کاری شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے آن لائن ارننگ کے نام پر مختلف ایپلیکیشنز، سوشل میڈیا پیجز اور ویب سائٹس مسلسل نئے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز کا طریقۂ کار عموماً ایک جیسا ہوتا ہے، یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری (Investment) لینا اور اس پر غیر معمولی نفع دینے کا وعدہ کرنا۔بعض پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ایسٹس کے نام پر کام کرتے ہیں، بعض روایتی کرنسیوں کے عنوان سے،بعض گولڈ وغیرہ کے عنوان سے جبکہ بعض دیگر مختلف تجارتی یا تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی اس نوعیت کی تقریباً تمام اسکیمیں دھوکہ دہی، غلط بیانی، غیر شفافیت یا کسی نہ کسی شرعی خرابی پر مشتمل پائی گئی ہیں۔
اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،ان کے مطابق اس طرح کی ایپلیکیشنز،پیجز اور ویب سائٹس وغیرہ سے متعلق عمل کیا جائے؛
کمپنی کی قانونی حیثیت اور تعارف
سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ سرمایہ کاری لینے والی کمپنی:
- کن افراد یا ادارے کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان اور انتظامیہ کون ہیں؟
- کس ملک میں قائم ہے؟کیا وہ اپنے ملک کے کسی معتبر اور مجاز قانونی ادارے میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟
اگر کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو تو:
- رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی اصل اور جعلی ہونے کے اعتبار سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
- یہ معلوم کیا جائے کہ یہ سرٹیفیکیٹ کن بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے۔
- کیا محض یہ رجسٹریشن،سرمایہ کاری لینے کے لیے کافی ہے یا مزید قانونی اجازت درکار ہوتی ہے؟
- اس رجسٹریشن کی بنیاد پر کمپنی کو کن کاموں کی قانونی اجازت حاصل ہے، اور آیا وہ عوام سے سرمایہ کاری لینے کی مجاز ہے یا نہیں؟
کمپنی کے کاروبار کی حقیقت
اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ:
- کمپنی حقیقتاً کون سا کاروبار کر رہی ہے؟
- کس ذریعے سے وہ سرمایہ کاری سے نفع کماتی ہے؟
- اس کاروبار کی تفصیلی نوعیت، طریقۂ کار اور حقیقت کیا ہے؟
- ان تمام پہلوؤں کی تحقیق کے بعد اس کاروبار کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔
سرمایہ کاری اور منافع کا طریقۂ کار
تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا جائے کہ:
- کمپنی سرمایہ کاری کس بنیاد پر لیتی ہے؟
- نفع کس شرح اور کس طریقے سے دیتی ہے؟
- نفع و نقصان کی شرائط و تفصیلات کیا ہیں؟
شرعی نگرانی اور عملی نظام
بالفرض اگر اوپر کی تینوں چیزیں بظاہر قابلِ اطمینان ہوں، تب بھی یہ تحقیق ضروری ہے کہ:
- کمپنی کے تمام آپریشنز عملی طور پر شریعت کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں یا نہیں؟
- کیا کوئی معتبر اور خود مختار شرعی نگرانی کا نظام موجود ہے؟
- کیا کوئی ایسی باڈی یا ادارہ ہے جو کمپنی کے مالی و تجارتی معاملات کی مسلسل جانچ اور نگرانی کرتا ہو؟یا کسی مستند دارالافتاء سے انہوں نے اپنے عملی کام سے متعلق فتوی حاصل کیا ہو؟
پونزی اسکیمز یااسکیمز (Scams) کی پہچان کے عمومی اصول
موجودہ دور میں ماہرینِ معیشت پونزی اسکیمز اور مالی دھوکہ دہی کو پہچاننے کے جو اصول بتاتے ہیں، وہ معمولی فرق کے ساتھ وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر درج ذیل نکات شامل ہیں:
- یہ دیکھا جائے کہ کمپنی واقعی کوئی حقیقی پروڈکٹ یا سروس فراہم کر رہی ہے، یا صرف نئے ممبرز بنانے پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ محض ممبرشپ پر مبنی نظام اکثر پونزی اسکیم ہوتا ہے۔
- کمپنی کی شفافیت دیکھی جائے، کیا مالکان، انتظامیہ، مالی ڈھانچہ اور آپریشنز مکمل طور پر واضح اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں؟
- مختلف آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے کمپنی کے بارے میں تحقیق کی جائے، جیسے آڈٹ رپورٹس، میڈیا رپورٹس، متعلقہ حکومتی ادارے اور صارفین کےفیڈبیکس۔
- کمپنی کی ریگولیٹری کمپلائنس (Regulatory Compliance) کا جائزہ لیا جائے۔
- یہ پرکھا جائے کہ آیا کمپنی مارکیٹ کے عمومی اصولوں کے خلاف غیر معمولی منافع کا وعدہ تو نہیں کر رہی کیونکہ ایسا وعدہ عموماً پونزی اسکیم کی علامت ہوتا ہے۔
درج بالا تمام اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے، مذکورہ کمپنی یا ایپ یعنی گولڈ آئی ایپ (Gold Eye app) کے ذریعے سرمایہ کاری سے اجتناب ضروری معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بارے میں مکمل، مستند اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب نہ ہوسکیں اور جو محدود معلومات انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع سے ملی ہیں،وہ اس درجے اطمینان بخش نہیں کہ اس کی بنیاد پر باقاعدہ جواز کا فتوی دیا جائے۔
البتہ اگرمذکورہ ایپ کے بارے میں مکمل، مستند اور قابلِ تصدیق تفصیلات میسر ہوں، اور وہ بیان کردہ صورتِ حال سے مختلف ہوں، تو یہ تفصیلات لکھ کردارالافتاء سے دوبارہ شرعی حکم معلوم کر لیا جائے۔
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
22.رجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


