| 90048 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
میں نے اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے ہر سال ایک تاریخ (عربی مہینے کے اعتبار سے)مقرر کی ہوئی ہے ۔ اس مقررہ تاریخ پر میں اپنے مالِ تجارت (نمک) کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں۔ ہم نے فقہ کی کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں قیمت لگاتے وقت ''مارکیٹ ویلیو'' اور ''قیمتِ فروخت'' کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ: جب زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ آتی ہے، تو اس دن میرے پاس جو مال موجود ہوتا ہے، اس کی قیمت لگانے میں کون سا طریقہ درست ہوگا؟
1- کیا ان لوگوں کی قیمت (ریٹ) کا اعتبار کیا جائے گا جن سے ہم یہ مال خریدتے ہیں، یعنی آج کے دن اگر ہم یہی مال خریدیں تو ہمیں جس ریٹ پر ملے گا اسی کے مطابق حساب لگایا جائے؟ یا
2- اس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس پر ہم آج کے دن اپنے اس مال کو مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں؟ براہِ کرم اس اشکال کی وضاحت فرما دیں کہ ''مارکیٹ ویلیو'' سے مراد خریداری ریٹ ہے یا فروخت کا ریٹ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بازاری قیمت (مارکیٹ ریٹ) سے مراد وہ قیمت ہےجس قیمت پر آپ اپنا مال مارکیٹ میں فروخت کرسکتے ہیں۔ قیمت خرید کا اعتبار نہیں ہے ۔ نیز آپ جس قسم کی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں اس کے مطابق حساب لگاسکتے ہیں، مثلا آپ ہول سیلر ہیں تو اس کے مطابق قیمت فروخت لگائیں اور آپ ریٹیلر ہیں تو اس کے مطابق قیمت فروخت لگائیں۔
حوالہ جات
ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/286)
وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح۔
اللباب شرح الکتاب:(1/114)
وتعتبر القيمة يوم الوجوب عند الإمام، وقالا: يوم الأداء، وفي السوائم يوم الأداء إجماعا۔
الجامع الکبیر:(15)
رجل له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتين لا مال له غيرها وحال الحول عليها فرجعت قيمتها إلى مائة أو زادت فبلغت أربعمائة من السعر. فاستهلكها، أو هي قائمة. فإنه يزكيها في قول أبي حنيفة بخمسة أقفزة حنطة، أو بخمسة دراهم، ويزكيها في قول يعقوب ومحمد بخمسة أقفزة أو يزكيها عن قيمتها يوم يزكي. وكذلك كل ما يكال أو يوزن أو يعدّ. ولو أصابها ماء فرجعت قيمتها إلى مائة أو كانت ندية فيبست فبلغت قيمتها أربعمائة، فإنه يزكيها بخمسة أقفزة حنطة أو يزكيها عن قيمتها في الزيادة يوم حال الحول، وفي النقصان يوم يزكي في قولهم.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/شوال/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


