03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وفات یافتہ والدہ کے میکے سے وراثت کی منتقلی کا حکم
90137میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری والدہ کا انتقال تقریباً 2014 میں ہوا، جبکہ میرے نانا کا انتقال تقریباً 2009 یا 2010 میں ہو چکا تھا۔ میری والدہ کی تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ اب جبکہ میری والدہ حیات نہیں ہیں، کیا میں اپنی والدہ کے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟ کیا میں اس سلسلے میں عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہوں؟اس مسئلے کے بارے میں ایسی شرعی رہنمائی (فتویٰ) درکار ہے جو میرے لیے کارآمد ثابت ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کے نانا کا انتقال آپ کی والدہ کی وفات سے پہلے ہوا ہے۔ اس لیےشرعی قاعدے کے مطابق وہ اپنی زندگی میں اپنے والد کے ترکے میں حقدار بن چکی تھیں۔ ان کا یہ حقِ وراثت ان کی وفات سے ختم نہیں ہوا، اب ان کے ورثہ ان کے حصہ کے شرعی حق دار ہیں۔ اگر اب تک یہ حصہ وصول نہ ہوا ہو تو آپ بطور وارث مطالبہ کرسکتے ہیں اور والدہ کے بہن بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ تمام ورثہ کو ان کا حصہ دیں۔

اگر خدانخواستہ وہ انکار کریں تو مصالحتی عمل، خاندان جرگے یا عدالتی کاروائی جو بہتر ہو اپنا حق وصول کرنے کی حد تک ان سے مدد لی جاسکتی ہے۔

نانا کے ورثہ میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں (بشمول آپ کی والدہ) موجود تھیں۔ اگر ان کے علاوہ کوئی اور وارث یعنی نانا کی بیوی یا والدہ، والد وغیرہ زندہ نہیں تھے تونانا کا ترکہ 8 حصوں میں تقسیم ہوگا۔ جس میں ہر بیٹے کو دو اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ فیصد ی اعتبار سے ہر بیٹے کو%25 اور ہر بیٹی کو %12.5 ملےگا۔

والدہ کو جو حصہ نانا کی وراثت سے ملے گا، اسے دوبارہ آپ کی والدہ کے اپنے ورثہ (جو ان کی وفات کے وقت حیات تھے) میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

النساء:11

 يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين، فان كنا نسآء فوق اثنتين فلهن ثلثاما ترك.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (480/6)

قال العلامہ الزیلعی رحمه الله : ( وعصبها الابن وله مثلا حظها معناه إذا اختلط البنون والبنات
عصب البنون والبنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى : يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين [ النساء : ١١]

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

02 ذوالقعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب