| 90327 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
خلع اور فسخِ نکاح سے متعلق چند اہم سوالات پیدا ہیں، جن کے شرعی جوابات درکار ہیں:
1۔ کیا مذاہبِ اربعہ میں خلع کے لیے زوجین کی باہمی رضامندی شرط ہے، یا کسی مسلک کے نزدیک عدالت (قاضی) کو بھی یکطرفہ خلع کا اختیار حاصل ہے؟
2۔ فسخِ نکاح اور خلع میں کیا فرق ہے؟
3۔اگر خلع اور فسخِ نکاح کو ایک ہی قرار دے دیا جائےتو موجودہ صورتِ حال میں جہاں بعض اوقات خلع کی ڈگری شوہر کو سنے بغیر یا اسے مکمل موقع دیے بغیر جاری کر دی جاتی ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
4۔ شریعت میں ثبوت (Evidence) کے معتبر ہونے کا معیار کیا ہے؟ اور عدالت میں عورت کی جانب سے پیش کردہ ثبوت کو کس حد تک قابلِ اعتبار سمجھا جائے گا؟
5۔ فقہِ حنفی کی روشنی میں فسخِ نکاح کی کیا گنجائش ہے؟اور موجودہ دور میں جب بعض خواتین مختلف مشکلات کا شکار ہیں، تو کیا ان کے لیے دیگر مذاہب (فقہی آراء) پر عمل کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر ہےتو اس کی شرعی حدود کیا ہیں؟
6۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں تو شریعت کے مطابق ایسا کون سا معتدل اور مثالی طریقہ ہے کہ جس سے دونوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1)مذاہبِ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ خلع کے شرعاً معتبر ہونے کے لیے زوجین کی باہمی رضامندی ضروری ہے، اگرفریقین میں سے کوئی ایک فریق بھی رضامند نہ ہو تو شریعت کی نظر میں خلع معتبر نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ نکاح بدستور باقی رہتا ہے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت مبارکہ {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] کے تحت مفِسرین نے اس کی تصریح کی ہے کہ خلع کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، چنانچہ شیخ وہبة الذحیلی رحمہ اللہ التفسیر المنیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
جميع الفقهاء يرون أنه لا يجبر الرجل على قبول الخلع، فلا بد فيه من التراضي بين الطرفين.
ترجمہ: سب فقہائے کرام رحمہم اللہ کا موقف یہ ہے کہ مرد کو خلع قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لہذا خلع کے لیے طرفین کی رضامندی ضروری ے۔
اسی طرح علامہ ابن رشد مالکی رحمہ اللہ نے بھی خلع کے معتبر ہونے کے لیے جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کا موقف یہی نقل کیا ہے کہ اس میں زوجین کی رضامندی ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں عورت عوض دے کر خلع لیتی ہے اور یہ عوض اس کی رضامندی کے بغیر اس پر لازم نہیں کیا جا سکتا اور شوہر کے ہاتھ میں چونکہ نکاح کی گرہ ہے، اس لیے اس کی رضامندی کے بغیر عقدِ نکاح کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے دونوں کی رضامندی کو لازم قرار دیا گیا۔
مذکورہ بالا تفصیل اس وقت جب شوہر عوض لے کر خلع دے، لیکن اگر شوہر بغیر کسی عوض کے خلع دینا چاہے تو اس میں عورت کی رضامندی ضروری نہیں، کیونکہ لفظ خلع کو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے کنایاتِ طلاق کے الفاظ میں بھی ذکر کیا ہے، لہذا اگر شوہر طلاق دینے کی نیت سے خلع کے الفاظ استعمال کرے تو اس سے طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور فریقین کے درمیان فوراً نکاح ختم ہو جائے گا۔
جہاں تک عدالت یعنی قاضی کے خلع کا فیصلہ کرنے کا تعلق ہے توشرعاً قاضی کو فریقین کی رضامندی کےبغیر خلع کا فیصلہ کرنے کا اختیارنہیں ہے، اگر ان کی رضامندی کے بغیر قاضی نے خلع کی ڈگری جاری کر دی تو یہ فیصلہ شرعاً کالعدم شمار ہو گا، کیونکہ خلع دراصل زوجین کے باہمی معاملے کا نام ہے، قاضی اس میں مداخلت نہیں کر سکتا، البتہ اگر شوہر عورت پر ظلم وتشدد کر رہا ہو اور اس کو طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں شریعت نے عورت سے تکلیف کو دفع کرنے کے لیے مجبوری اور ضرورت کے پیشِ نظر قاضی کو درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح فسخ کرنے کا اختیار دیا ہے:
الف: شوہر طلاق یا خلع دینے سے انکاری ہو۔
ب: فسخِ نکاح کی کوئی معتبرشرعی وجہ موجود ہو۔
ج: عورت جج کے سامنے فسخِ نکاح کی وجہ کو گواہوں وغیرہ کے ذریعہ ثابت کرے یا شوہر عدالت میں اس کا اقرار کرلے۔
-
اس کا جواب پہلے سوال کے جواب میں گزر چکا ہے کہ خلع زوجین کے درمیان آپس کی رضامندی کے ساتھ طے ہونے والا معاملہ ہے، جبکہ فسخِ نکاح قاضی کا اختیار ہے اور وہ اس اختیار کو ضرورت کے پیشِ نظر شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی استعمال کر سکتا ہے۔
-
معلومات کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ عدالت میں شوہر کا موقف نہیں سنا جاتا، حقیقت میں عدالت فریقین کا موقف ضرور سنتی ہے، اسی لیے شوہر کو عدالت میں حاضر ہونے کے لیے باقاعدہ تین نوٹس بھیجے جاتے ہیں، اگر شوہر حاضر ہو جائے تو عدالت کی طرف سے فریقین کے درمیان صلح کی کوشش بھی کی جاتی ہے، البتہ اگر صلح کی کوشش ناکام ہو جائے اور عورت کسی صورت شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو تو اس صورت میں پاکستان کی عدالتیں عام طور پر عورت کے دعوی کا لحاظ رکھتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کر دیتی ہیں، ایسے فیصلے کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر شوہر کا موقف درست ہو، وہ عورت کو نان ونفقہ سمیت اس کے دیگر سب حقوق ادا کر رہا ہو اور عورت بلا عذر شرعی اس کے نکاح سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہوتو ایسی صورت میں عدالت کا جاری کیا گیا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہو گا اور اس کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم نہیں ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کی گرہ شوہر کے ہاتھ میں رکھی ہے۔ اور اگر عورت کا موقف درست ہو اور شوہر اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی اور غفلت سے کام لے رہا ہو اور آئندہ بھی عورت کے حقوق ادا کرنے میں عزم اور ارادے کا اظہار نہ کرے تو اس صورت میں شرعی وجہ فسخ کے ثبوت کے بعد عدالت کا فسخِ نکاح کا جاری کیا گیا فیصلہ شرعاً معتبر اور نافذ ہو گا۔
-
شریعت میں ثبوت (Evidence) کے معتبر ہونے کا معیار سب سے پہلے مدعی علیہ یعنی شوہر کا از خود مدعیہ یعنی عورت کے دعوی کو تسلیم کرنا ہے، اگر وہ عورت کے دعوی کا انکار کرے تواس صورت میں عورت کے ذمہ دو عادل یعنی نیک آدمی یا کم سے کم ایک عادل آدمی اور دو عادل عورتیں بطورِ گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر آخری درجے میں عورت کو اپنے موقف پر ایسے قرائن قویہ پیش کرنا ضروری ہیں کہ جن کو سن کرجج کو عورت کے سچا ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہو جائے، جیسے ویڈیو وغیرہ اس کے بعد وہ ان قرائن کو بنیاد پر عورت کے حق میں فسخِ نکاح کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
-
جب کسی عورت کو شوہر کی طرف سے کسی تکلیف یا ظلم وزیادتی کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں عورت اولاً شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے، لیکن اگر شوہر طلاق خلع دینے پر رضامند نہ ہو تو عدالت سے رجوع کر کے نکاح فسخ کر وا سکتی ہے، نکاح فسخ کروانے کی بعض وجوہ اور اسبابِ فسخ تو فقہ حنفی میں ذکر کیے گئے ہیں، جیسے حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنا، شوہر کا مجنون یعنی ذہنی توازن درست نہ رہنا اور کوئی متعدی بیماری لاحق ہوجانا وغیرہ۔ اوران کے علاوہ اگر حنفیہ کے مذہب میں کسی سبب کی تصریح نہ ہو، مگر عورت کو اس کی وجہ سے سخت تکلیف کا سامنا ہو، جیسے شوہر کا نان ونفقہ نہ دینا یا خلافِ شرع کام پر مجبور کرنا وغیرہ تو ایسی صورت میں حنفیہ کے علاوہ دیگر مذاہب پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور تمام اسبابِ فسخ کی تفصیل اور عدالتی فسخِ نکاح کا طریقہٴ کار جاننے کے لیے حاشیہ میں دیے گئے لنک پر تفصیلی فتوی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔[1]
-
اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں تو شریعت نے اولاً یہ حکم دیا ہے کہ شوہر کےخاندان میں سے ایک فرداور بیوی کے خاندان میں سے ایک فرد کو حکم بنایا جائے اور وہ دونوں میاں بیوی کے درمیان صلح اور معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں اور اس دوران خاص طور پر لڑائی جھگڑے کے اسباب تلاش کر کے ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، مثلا اگرمشترکہ خاندان (Joint Family) میں رہتے ہوئےعورت کو کسی فرد کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو اور اس بناء پر عورت علیحدہ گھر کا مطالبہ کر رہی ہو تو اس کو علیحدہ رہائش دلوائی جائے، جس میں کم از کم ایک کمرہ، کچن اور واش روم ہو، کیونکہ یہ عورت کا حق ہے، اسی طرح اگر عورت کی طرف سے ملازمت وغیرہ کا مطالبہ ہو اور شوہر منع کر رہا ہو تو ایسی صورت میں اگر شوہر اس کے تمام تر اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہو تو عورت کو سمجھایا جائے کہ شریعت میں بلاضرورت ملازمت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا درست نہیں ہے، اگر حکمین کی کوشش کے باوجود اختلاف اور جھگڑا باقی رہے اور عورت بہرصورت طلاق کے مطالبہ پر قائم رہے تو مجبوری کی صورت میں شوہر کو طلاق یا خلع دینے پر آمادہ کیا جائے، اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو عدالت سے رجوع کیا جائے اور فسخِ نکاح کی وجہ کا ثبوت پیش کر کے فسخِ نکاح کی ڈگری لے لی جائے تو فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا۔
[1] https://almuftionline.com/2025/11/20/21655/
حوالہ جات
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.
والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به}
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 206) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
وأما حكم الخلع فإن كان بغير بدل بأن قال خالعتك ونوى به الطلاق فحكمه أن يقع الطلاق ولا يسقط شيء من المهر والنفقة الماضية.
التفسير المنير للزحيلي (2/ 345) دار الفكر المعاصر – دمشق:
جميع الفقهاء يرون أنه لا يجبر الرجل على قبول الخلع، فلا بد فيه من التراضي بين الطرفين، لقوله تعالى: ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 261) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به " لقوله تعالى: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229] " فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال " لقوله عليه الصلاة والسلام: " الخلع تطليقة بائنة " ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكنايات بائن.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 202) دار الفكر-بيروت:
وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اھ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 469) دار الفكر-بيروت:
(وللمرأة أن تطالبه بالوطء) لتعلق حقها به (وعليها أن تمنعه من الاستمتاع حتى يكفر وعلى القاضي إلزامه به) بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس، أو ضرب إلى أن يكفر، أو يطلق.
العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير (10/ 57) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
قال الغزالي: الطرف الثالث في وقت الفسخ ولها المطالبة صبيحة كل يوم بالنفقة، ولكن المعسر هل يمهل ثلاثة أيام ليتحقق عجزه؟ فيه قولان أحدهما: لا يمهل ولكن لا يفسخ في أول النهار بل آخر النهار، أو بعد انقضاء يوم وليلة ليستقر الحق، نعم لو كان يعتاد الإتيان بالطعام ليلا فلها الفسخ، ولو قال صبيحة النهار: أنا اليوم عاجز فيحتمل أن يقال: لا يفسخ في الحال إلى انقضاء اليوم والقول الثاني: أنه يمهل ثلاثة أيام، وهو الأحسن، ولها الفسخ صبيحة الرابع إن لم يسلم النفقة، فإن سلم للرابع لم يكن لها الفسخ للماضي، وإن سلم للثالث صبيحة الثالث وعاد إلى العجز في الرابع يستأنف المدة على وجه، ويبنى على المدة السابقة على وجه فيصير يوما آخر، وإن رضيت بعد انقضاء المدة فلها الفسخ بعد ذلك كزوجة المولي لا كزوجة العنين، وقولها: "رضيت بإعساره أبدا" وعد لا يجب الوفاء به.
قال الرافعي: قد تقدم أن النفقة تجب صبيحة كل يوم، وإنما تسلم كلما طلع الفجر، فإذا عجز عن تسليمها، فينجز الفسخ أو تمهل ثلاثة أيام فيه قولان:
أحدهما: أنها لا تمهل؛ لأن السبب الإعسار، وقد حصل، ولأنه فسخ؛ لتعذر الرسول إلى الغرض، فأشبه فسخ البيع بإفلاس المشتري بالثمن، وينسب هذا إلى القديم. وأصحهما: أنه تمهل ثلاثة أيام؛ ليتحقق عجزه، فإن الإنسان قد يتعسر عليه وجه الإنفاق؛ لعوارض ثم نزول، وهذه مدة قريبة لا يصعب تزجّيتها باستقراض وغيره، وقيد بعضهم التصوير بما إذا استمهل الزوج.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 340) كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1685) نصاب الشهادة في حقوق العباد رجلان أو رجل وامرأتان لكن تقبل شهادة النساء وحدهن في حق المال فقط في المواضع التي لا يمكن اطلاع الرجال عليها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
21/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


