| 90404 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں ایک شخص ( جو کہ ایمازون پر ڈراپ شپنگ کرتا ہے ) کے پاس ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتا ہوں۔ کام کی نوعیت اس طرح ہے کہ ہم کسی پروڈکٹ کا سپلائر ڈھونڈ کر ایمازون پر اپنے سٹور پر لسٹ کر دیتے ہیں اورکسٹمر سے آ رڈر آنے پر سپلائر سے آرڈر کرتے ہیں مگر پروڈکٹ پہلے ہمارے گودام میں آتی ہے پھر کسٹمر کو ڈیلیور کرتے ہیں۔ اس میں میرا کام پروڈکٹ ڈھونڈنا ،لسٹ کرنا آرڈر آنے پر لیبل لگانا اور کسٹمر کے سوالوں کے پروڈکٹ کی تبدیلی یا واپسی کے متعلق جوابات دینا ہے۔ کیا یہ کام حلال ہے اور کیا میرے لیے یہ ملازمت کرنا شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذكورہ صورت ڈراپ شپنگ میں داخل نہیں، كیونكہ بقول آپ کے سپلائر سے پہلے سامان آپ کے گودام میں آتا ہے اور وہاں سے خریدار کو بھیجا جاتا ہے، اس لیے اگر آپ گاہک سے معاملہ طے کرتے وقت وعدہ بیع یا بکنگ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ معاملہ درست ہے۔ نیز آپ کے لیے یہ نوکری جائز ہے۔
حوالہ جات
صحیح البخاری:کتاب البیوع: باب بیع طعام قبل ان یقبض۔
2136: حدثنا عبد اللہ بن مسلمۃ، حدثنا مالک، عن نافع، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:''من ابتاع طعاما فلایبعہ حتی یستوفیہ''۔ زاد اسماعیل:''من ابتاع طعاما فلایبعہ حتی یقبضہ''۔
ردالمحتار علی الدرالمختار : (14/23)
مطلب:(شروط صحۃ البیع):والخاصۃ: معلومیۃ الاجل فی البیع المؤجل ثمنہ،والقبض فی بیع المشتری المنقول و فی الدین
ردالمحتار علی الدرالمختار : (5/60)
وفيه أن بيع ما ليس في ملكه باطل كما تقدم؛ لأنه بيع المعدوم، والمعدوم ليس بمال فينبغي أن يكون بيعه باطلا.
ردالمحتار علی الدرالمختار : (5/66)
وكأن الشارح لما رأى القول بالفساد معللا بعدم الملك حمله على أن المراد به البطلان؛ لأن بيع ما لا يملك باطل كما علم مما مر لكنه.
فقہ البیوع : (2/956)
أن یکون المبیع مقدورا التسلیم، فإن لم یکن مملوکا للبائع، فالبیع باطل، مثل أن یبیع طائرا فی الھواء لایملکہ۔
بدائع الصنائع : (5/305)
(وأما) البيع الباطل فهو كل بيع فاته شرط من شرائط الانعقاد من الأهلية والمحلية وغيرهما، وقد ذكرنا جملة ذلك في صدر الكتاب ولا حكم لهذا البيع أصلا؛ لأن الحكم للموجود ولا وجود لهذا البيع إلا من حيث الصورة.
تکملۃ فتح الملھم : (1/388)
قوله: کاتبه, کتابة الربا إعانة عليه ،ومن ههنا ظهرأن التوظف فی البنوک الربویة لایجوز ،فإن کا ن عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابة أو الحساب ،فذاک حرام لوجهين: الأول :إعانة علی المعصیة ,والثانی: أخذالاجرة من مال الحرام ،فإن معظم دخل البنوک حرام مستجا ب بالربا وأما إذا کان العمل لا علاقة له بالربا ،فإنه حرام لوجه الثانی ،فإذاوجد بنک،معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الأعمال .
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/ذوالقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


