| 90383 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک بندہ فوت ہوگیا جس کے ورثہ میں بیوی، دو (باپ شریک)سوتیلے بھائی اور ایک سوتیلی بہن ہے ۔اس کے والدین بھی پہلے وفات پا چکے ہیں ۔اس کی میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت منقولہ ، غیر منقولہ جو کچھ چھوڑا ہےاور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔۔ ان تمام اخراجات کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل 20 حصے بناکر جس میں سے مرحوم کی بیوی کو5حصے (%25 فیصد)ہربھائی کو6حصے(%30فیصد)اور مرحوم کی بہن کو3حصے(%15فیصد)ملےگا۔
آسانی کے لیے نقشہ میں ہر وارث کا حصہ درج ہے۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
5 |
%25 |
|
2 |
اخ علی |
6 |
%30 |
|
3 |
اخ علی |
6 |
%30 |
|
4 |
اخت علی |
3 |
%15 |
|
|
کل مجموعہ |
20 |
%100 |
حوالہ جات
قال الله تعالي :وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَد فَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَو دَينٖۗ... [النساء:12]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/775)
ثم شرع في العصبة بغيره فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن) فهن أربع ذوات النصف والثلثين يصرن عصبة بإخوتهن.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/ذوالقعده/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


