03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرعہ سےتقسیم کےبعدکسی شریک کا ازسرنو تقسیم کا مطالبہ
90384تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ ہم پانچ بھائی ہیں اور ہماری جائیداد کی تقسیم ثالثوں کے ذریعے کی گئی تھی۔ ایک مقام پر دو دکانیں اور ایک گودام تھا، جسے بغیر باقاعدہ پیمائش کے قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کیا گیا؛ دو دکانیں چار بھائیوں کو (دو، دو کے حساب سے) اور گودام ایک بھائی کو ملا۔ بعد ازاں اس جگہ سے سڑک گزرنے کی وجہ سے دونوں دکانیں مکمل طور پر متاثر ہو کر ختم ہو گئیں، جبکہ گودام محفوظ رہا، اور اس کا رقبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے پورا حصہ اسی کے پاس برقرار ہے۔ یوں چار بھائی اپنی ملکیت سے محروم ہو گئے ہیں۔گودام کے پیچھے موجود مشترکہ زمین کے بارے میں گودام والے بھائی کا مؤقف یہ ہے کہ وہ پانچوں بھائیوں میں برابر تقسیم کی جائے، جس پر کسی کو اعتراض نہیں۔ تاہم وہ دیگر چار بھائیوں کو اپنے گودام کے حصے میں شریک کرنے پر آمادہ نہیں۔درخواست ہے کہ اس صورتِ حال میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ اور اس معاملے کا شرعی و منصفانہ حل کیا ہونا چاہیے؟ جزاکم اللہ خیراً۔

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ تقسیم کے وقت تمام بھائی راضی تھے اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا، نیز تقسیم کے بعد تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اب وہ دعوی کرتے ہیں کہ  موجودہ گودام پیمائش کرکے سب میں برابرتقسیم کریں ۔ مزید یہ کہ جن کی دکانیں سڑک کی وجہ سے متاثر ہوئیں، ان سے حکومت نے عوض (معاوضہ) دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، تو مذکورہ صورت میں جب تمام بھائی ثالثین کی تقسیم پر راضی ہو گئے اور اس پر تقریباً ایک سال کا عرصہ بھی گزر گیا، نیز اس دوران کسی نے اعتراض نہیں کیا، تو اب کسی کے لیے اس تقسیم کو منسوخ کرنے یا ازسرِ نو تقسیم کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے۔ لہٰذا اس صورت میں گودام پر صرف اسی بھائی کا حق برقرار رہے گا جسے تقسیم کے وقت گودام ملا تھا اور دیگر بھائی اس میں شراکت کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ تاہم اگر وہ اپنی مرضی سے دوسرے بھائیوں کو کچھ دینا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔ نیز گودام کے پیچھے جو مشترکہ زمین ہے، وہ بدستور تمام بھائیوں کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی اور اس میں سے ہر بھائی کو اپنے شرعی حق کے بقدر حصہ ملے گا۔                    

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(7/ 28)

ومنها اللزوم بعد تمامها في النوعين جميعا، حتى لا يحتمل الرجوع عنها إذا تمت.وأما قبل التمام فكذلك في أحد نوعي القسمة، وهو قسمة القضاء دون النوع الآخر، وهو قسمة الشركاء، بيان ذلك: أن الدار إذا كانت مشتركة بين قوم فقسمها القاضي أو الشركاء بالتراضي فخرجت السهام كلها بالقرعة؛ لا يجوز لهم الرجوع، وكذا إذا خرج الكل إلا سهم واحد؛ لأن ذلك خروج السهام كلها؛ لكون ذلك السهم متعينا بمن بقي من الشركاء، وإن خرج بعض السهام دون البعض فكذلك في قسمة القضاء؛ لأنه لو رجع أحدهم لأجبره القاضي على القسمة ثانيا فلا يفيد رجوعه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/ 263)

مطلب في الرجوع عن القرعة [تنبيه]إذا قسم القاضي أو نائبه بالقرعة فليس لبعضهم الإباء بعد خروج بعض السهام كما لا يلتفت إلى إبائه قبل خروج القرعة، ولو القسمة بالتراضي له الرجوع إلا إذا خرج جميع السهام إلا واحدا لتعين نصيب ذلك الواحد وإن لم يخرج، ولا رجوع بعد تمام القسمة نهاية.

الفتاوی الہندیۃ:(3/397)

الحكم فيما بين الخصمين كالقاضي في حق كافة الناس وفي حق غيرهما بمنزلة المصلح.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22/ذوالقعده/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب