| 90351 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
آج کل یوٹیوب پر فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ (Family Digital Vlogging)کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، جس میں خاندان کا ایک فرد گھر کے اندرمصروف مرد یا عورت یا ایک خاندان کی ویڈیو بنا کر اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرتا ہے،اور پھر لوگوں کے اس چینل کو دیکھنے کی وجہ سے چینل بنانے والے کو یوٹیوب کی طرف سے اس کی آمدن ملتی ہے۔ اس صورتِ حال پر درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں درکار ہیں:
۱۔ کیا فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ کرنا جائز ہے؟
۲۔ اس قسم کے چینل سے حاصل ہونے والی آمدن کا حکم کیا ہے ؟
۳۔ ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو کا علماء اسلام کے نزدیک راجح حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ گھریلو زندگی کی عکس بندی یا فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ کے شرعی حکم کا مداربنیادی طور پر ڈیجیٹل تصویر اور اس عکس بندی میں موجود مواد (Content)کے حکم پر ہے،اورقرآن و سنت کی روشنی میں ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علماء کرام کی تین قسم کی آراء ہیں:
۱۔ڈیجیٹل تصویر ناجائز تصویر کےحکم میں داخل نہیں،بلکہ پانی یا آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے، لہٰذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز ہے،اور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز نہیں۔
۲۔ڈیجیٹل تصویر کا بھی وہی حکم ہے جو عام پرنٹ شدہ تصویر کا ہے ،لہذا صرف ضرورت کے وقت گنجائش ہے ۔
۳۔ڈیجیٹل تصویر بھی اگرچہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے،البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زیادہ فقہی آراء موجود ہیں،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیساکہ دین اسلام کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اورصحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی مصلحت کی خاطر تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ یہ ایسی چیزوں اورمناظرپر مشتمل ہو جن میں تصویر ہونے کے علاوہ عریانیت، موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر جیساکوئی اور حرام پہلو نہ ہو ۔
اس حوالے سے ہمارے دارالافتاء جامعۃ الرشید کا موقف اسی آخری رائے کے مطابق ہے۔(از تبویب: 89546،85091) لہذا صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ عمومی رجحان کے مطابق فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ میں :
۱۔چونکہ نامحرم کی تصاویر ہوتی ہیں،نیز اس میں کوئی دینی و دنیاوی مصلحت نہ ہونے کے علاوہ گھریلو زندگی کی نجی مصروفیات،خاندانی وقار اور اہلِ خانہ کاآرام و پردہ بھی متاثر ہوتے ہیں،لہٰذا ان مفاسد کی وجہ سے فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ ناجائز ہے۔
۲۔مذکورہ بالا مفاسد پرمشتمل فیملی ڈیجیٹل وی لاگنگ کی یوٹیوب چینل پر اپلوڈ نگ سے ملنے والی آمدن بھی ناجائز ہے، البتہ درج ذیل شرائط کے ساتھ یوٹیوب چینل سے ہونےوالی آمدن جائزہے:
۱۔ چینل کسی جائز مقصد(دعوتی، تعلیمی اور اصلاحی مقاصد) کےلیےبنایاگیاہو۔
۲۔چینل میں کسی قسم کی خلاف شرع ویڈیوزاور مواد اپلوڈ نہ کیا جاتاہو۔
۳۔اپنے چینل میں ایسےاشتہارات کوفلٹرزکردیاجائےجوخلافِ شرع ہوں۔
۴۔ کسی جائز کاروباریاپروڈکٹ سےمتعلق اشتہارات چلتےہوں۔
۵۔ اشتہارات کی کیٹگریزفلٹر کرنے اور احتیاط کےباوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کے بغیر اگر خلاف شرع یاناجائز کاروباراور پروڈکٹ کےاشتہارات چلائے گئے ہوں،توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔ ( از تبوب:82765 ،81520)
۳۔ ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو کے بارے میں علماء کرام کی راجح رائے یہ ہے کہ عوام دیگر عام مسائل میں جن مفتیان کرام کے علم وتقوی پر اعتما د کرتے ہیں،اس مسئلے میں بھی انہی کی رائے پر عمل کریں، اور اس طرح کے مختلف فیہ مسائل کو آپس میں اختلاف و انتشار کی بنیاد بنانے سے گریز کریں،بہرحال احتیاط دوسری رائے پر عمل کرنے میں ہے،جبکہ ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔(از تبویب:85091)
حوالہ جات
صحيح مسلم (3/ 1670):
عن سعيد بن أبي الحسن، قال: جاء رجل إلى ابن عباس، فقال: إني رجل أصور هذه الصور، فأفتني فيها، فقال له: ادن مني، فدنا منه، ثم قال: ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله ﷺ، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "كل مصور في النار، يجعل له، بكل صورة صورها، نفسا فتعذبه في جهنم" ،وقال: "إن كنت لا بد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له. "
تكملةفتح الملهم(164/4،مکتبۃ دارالعلوم،الطبع:1424ھ) :
أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة كحاجتها في جواز السفر، وفى التاشيرة، وفى البطاقات الشخصيّة، أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هويّة المرء، فينبغي أن يكون مرخصا فيه. فإن الفقهاء رحمهم الله تعالى استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة، قال الإمام محمد في السير الكبير:"وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله. "وأعقبه السرخسي الله في شرحه۲: ۲۷۸بقوله: "لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة كما في تناول الميتة." وذكر السرخسي أيضا: " إن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمنع أحد عن المعاملة بذلك." وقال في موضع آخر من شرحه۲۱۲:۳:"لابأس بأن يحمل الرجل في حال الصلاة دراهم العجم، وإن كان فيها تمثال الملك على سريره وعليه تاجه ."وقد ثبت بالأحاديث الصحيحة أن رسول الله ﷺ أجاز لعائشة رضى الله عنها اللعب بالبنات ،وإن الفقهاء أباحوا للمرأة أن تكشف عن وجهها عند الشهادة.
التلفزيون :أما التلفزيون والفديو، فلاشك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة،والمجون،والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات،وما إلى ذلك من أسباب الفسوق ،ولكن هل يتأتى فيهما حكم التصوير بحيث إذا كان التلفزيون أو الفيديو خاليا من هذه المنكرات بأسرها ،هل يحرم بالنظر إلى كونه تصويرا ؟ فإن لهذا العبد الضعيف- عفا الله عنه- فيه وقفة، وذلك لأنّ الصُّورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة الاستقرار على شيئ، وهي الصورة التي كان الكفار يستعملونها للعبادة. أما الصورة التي ليس لها ثبات واستقرار، وليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة، فإنها بالظلّ أشبه منها بالصورة.
ويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة "فيلم".فإن كانت صور الإنسان حيّة بحيث تبدو على الشاشة فى نفس الوقت الذي يظهر فيه الإنسان أمام الكيمرا، فإن الصورة لا تستقر على الكيمرا ولا على الشاشة، وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة،وتظهر عليها بترتيبها الأصلي، ثم تفنى وتزول.وأما إذا احتفظ بالصورة فى شريط الفيديو، فإن الصور لا تنقش على الشريط ،وإنما تحفظ فيها الأجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة، فإذا ظهرت هذه الأجزاء على الشاشة ظهرت مرة أخرى بذلك الترتيب الطبيعي، ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة، وإنما هي تظهر وتفنى، فلايبدو أن هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شيئ بصفة مستقرة أو دائمة، وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشکل،ورحم الله امرأ هداني للصواب في ذلك.والله سبحانه أعلم
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 392):
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) ،أي :قراها (لا بغيرها على الأصح) ،وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها ،وخص سواد الكوفة؛ لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا: لا ينبغي ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية ،وبه قالت الثلاثة زيلعي...(قوله:وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا ؛لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه ،وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار ، فينقطع نسبته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر، وبيع الغلام من لوطي، والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز، وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني، ومثله في النهاية والكفاية، قال في المنح: وهو صريح في جواز بيع الغلام من اللوطي، والمنقول في كثير من الفتاوى أنه يكره، و هو الذي عولنا عليه في المختصر اهـ.
أصول الإفتاء وآدابہ(383،مکتبۃ معارف القرآن کراتشی):
وفي النهايۃ نذكر بعض الأحكام والآداب التي تتعلق بالمستفتين:۱۔ يجب على المستفتي أن لا يسأل إلا من عرف علمه وعدالته، وكونه أهلا للإفتاء،سواء علم ذلك بنفسه، أو بإخبار ثقه عارف، أو باستفاضۃ...۲۔و يجوز الإستفتاء من عالم أهل لذلك، سواء وجد في البلد من هو أعلم منه، ولا يجب عليه أن يبحث عن أعلم الناس .۳۔لو اختلفت فتوى مفتيين يقدم من هو أعلم وأورع في نظره ؛ فإن كان أحدهما أعلم، والآخر أروع، فقيل: يقدم الأروع، ولكن الصحيح أنه يقدم الأعلم ۔هذا ما جزم به ابن نجيم رحمه الله تعالى.( البحر الرائق، كتاب القضاء:۶۔۴۴۹)
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ذوالقعدۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


