03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے ذمے پھوپھیوں کی بقایا میراث کا حکم
90391میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے دادا ........................... کی گاؤں میں زمین تھی۔ دادا کے انتقال کے بعد وہ زمین میری دادی کے پاس رہی، اور دادی کے انتقال کے بعد میرے والد(اسماعیل) اور میرے چچا (غلام خالق) کے پاس آ گئی۔میرے دادا کی دو شادیاں تھیں:1- پہلی بیوی (خان خیلہ) سے:میرے والد(اسماعیل) اور دو بیٹیاں (سید وری، جوہری)۔2- دوسری بیوی (سہون) سے:ایک بیٹا(غلام خالق)،ایک بیٹی (آمنہ ) تھے۔ اس طرح میرے دادا کے کل پانچ بچے تھے: دو بیٹے اور تین بیٹیاں۔

دادا کے انتقال کے وقت ان کی دوسری  بیوی (سہون) اور تمام بچے حیات تھے، پہلی بیوی (خان خیلہ) کا انتقال داداکے انتقال سے پہلے ہوا تھا۔ بعد میں جب دادی (سہون)  کا انتقال ہو گیا تو زمین میرے والد (اسماعیل) اور میرے چچا (غلام خالق) کے درمیان برابر تقسیم کر دی گئی۔

میرے چچا نے اپنے حصے کی زمین مختلف اوقات میں فروخت کر دی، جبکہ میرے والد نے اپنے حصے کی زمین دو مرحلوں میں فروخت کی:پہلی مرتبہ: 13 لاکھ 50 ہزار روپے،دوسری مرتبہ: 1 کروڑ 50 لاکھ روپے۔ دوسری فروخت میں سے 5 لاکھ روپے ابھی تک وصول ہونا باقی ہیں۔

اب میرے والد (اسماعیل) کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے ورثہ یہ ہیں : بیوہ (حلیمہ بی بی)، چار بیٹے (شہزاد، جہانگیر، سجاد، وقاص) اور دو بیٹیاں (شگفتہ، فرح)۔

اب سوال یہ ہے کہ فروخت شدہ زمین کی کل رقم 1 کروڑ 63 لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔

براہِ کرم اس کی شرعی تقسیم متعین فرما دیں تاکہ ہم اپنے والد کی تین بہنوں (پھوپھیوں) اپنی دو بہنوں، والدہ اور چار بھائیوں کا حصہ متعین کرکے ادا کر سکیں ۔

  1. مزید یہ کہ میری ایک پھوپھی (جوہری) کا انتقال ہوا ہے، ان کے شوہر کا انتقال ان کے انتقال سے پہلے ہوا ہے اور ان کا ایک ہی بیٹا (نادر خان) ہے جس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ اس کی دیکھ بھال اس کا چچا کرتا ہے۔ کیا اس کا حصہ اس کے چچا کے پاس بطور امانت رکھا جا سکتا ہے؟
  2.  بٹوارہ کے وقت کسی نے اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا اور نہ اب ان کی طرف سے کوئی دعوی ہے۔  ہم اپنی طرف سے حصہ دینا چاہ رہے ہیں۔ تو اگر وہ لوگ معاف کرنا چاہیں تو کیا ان کا حق معاف ہوسکتا ہے؟
  3. کیا کسی عوض (تھوڑے سے مال) کے بدلے اگر وہ اپنے حصے سے دستبردار ہونا چاہیں، تو کیا وہ دستبردار ہوسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد کے پاس جتنی زمین تھی اس کی کل قیمت 16,350,000 (ایک کروڑ تریسٹھ لاکھ پچاس ہزار) روپے درج ذیل طریقے سے تقسیم ہوگی۔

سیدوری کو3,269,215 روپے، نادر خان کو 2,452,892روپے، اورآمنہ کو2,452,892روپے، حلیمہ زوجہ اسماعیل کو 1,021,875روپے، شہزاد کو 1,430,625روپے، جہانگیرکو 1,430,625روپے، سجاد کو 1,430,625روپے، وقاص کو 1,430,625روپے، شگفتہ کو 705,312.5 روپے اور فرح کو 705,312.5روپے ملیں گے۔

درج ذیل نقشے میں آپ کے والد کے ترکے میں سے ہر ایک مستحق کا حق درج کیا گیا ہے۔

نمبر شمار

الاحیاء / زندہ ورثہ

ملنے والی رقم

2

سید وردی

3,269,215

3

آمنہ

2,452,892

4

نادر خان

2,452,892

5

حلیمہ زوجہ اسماعیل

1,021,875

6

شہزاد

1,430,625

7

جہانگیر

1,430,625

8

سجاد

1,430,625

9

وقاص

1,430,625

10

شگفتہ

705,312.5

11

فرح

715312.5

 

مجموعہ

16,349,999

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  1. اگر واقعی نادر خان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور وہ اپنے مال وغیرہ کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو اس کا حصہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے چچا کے حوالے کرنا درست ہے۔ یاد رہے کہ چچا، نادر خان کے حصے کو صرف اسی کی ضروریات پر خرچ کرے گا، اپنے ذاتی کاموں میں صرف نہیں کرے گا۔البتہ اگر الگ حساب میں دقت ہو تو مشترکہ خرچ میں عادلانہ انداز سے اس کے خرچے کا حساب بھی لگا سکتے ہیں۔
  2. 3- ردیں تو بھی جائز ہے۔ یادرہے کہ آپ کے معاملے میں چونکہ ترکہ اب رقم کی صورت میں ہے، اس لیے یہ جائز نہیں ہوگا کہ آپ کم رقم دے کر صلح کرلیں کیونکہ یہ سود کے زمرے میں آئے گا۔ لہذا اگر آپ رقم کے علاوہ کسی اور چیز (مثلاً گاڑی، زمین وغیرہ) پر صلح کر لیں تو یہ جائز ہے۔
حوالہ جات

سورۃ النساءرقم الاٰیۃ:(11)

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْ اَوْلَادِكُمْۗلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ سورۃ النساء.

سورۃ النساءرقم الاٰیۃ:(12)

وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّم یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌفَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّة توْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍ.

ردالمحتار علی الدر المختار: (5/642)

وقال الحاكم الشهيد إنما يبطل على أقل من نصيبه في مال الربا حالة التصادق، وأما في حالة التناكر بأن أنكروا وراثته، فيجوز. وجه ذلك: أن في حالة التكاذب ما يأخذه لا يكون بدلا في حق الآخذ، ولا في حق الدافع هكذا ذكر المرغيناني، ولا بد من التقابض فيما يقابل الذهب والفضة منه لكونه صرفا، ولو كان بدل الصلح عرضا في الصور كلها جاز مطلقا، وإن قل ولم يقبض في المجلس اهـ.

ردالمحتار علی الدرالمختار: (5/644)

(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم.

الدرالمختار مع ردالمحتار:( 6/769)

(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .... (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد .

تکملۃ فتح القدیر نتائج الأفکار: (8/440)

(قوله: وإن كانت التركة فضة وذهبا وغير ذلك فصالحوه على ذهب أو فضة فلا بد أن يكون ما أعطوه أكثر من نصيبه من ذلك الجنس حتى يكون نصيبه بمثله والزيادة بحقه من بقية التركة احترازا عن الربا).

موسوعة الفقه الإسلامي: (8/ 322)

أما ملك الوارث لما فضل من التركة بعد حاجة المورث من التجهيز والدفن وسداد الديون وتنفيذ الوصايا - فأنه يثبت للوارث جبرا عليه وتدخل أموال الميت والحقوق القابلة للانتقال فى ملك الوارث من غير توقف على قبوله ولا يرتد برده. وهذا الملك لا يسقط بالاسقاط مطلقا بالنسبة للاعيان. ويسقط بالاسقاط بالأبراء بالنسبة للديون التى للمورث على الغير.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/ذوالقعدہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب