| 90436 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال نمبر:السلام علیکم !میری پھوپی (امیر بی بی ) غالبا 85 سے 90 سال کی عمر میں 2 ماہ پہلے انتقال کرگئی ہیں۔ وہ ار بوں کی جائیداد کی مالک تھی،ان کی کوئی اولا دیا شوہرنہیں تھا(طلاق یافتہ اور لاولد تھی ) ان کی وفات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنی جائیداد کا 95فیصدحصہ اپنےبھانجےاوراس کےبچوں کے نام کر گئی ہیں بذریعہ بیع (sale deed ) یہ سارے ان کے ساتھ شہر کے پوش ایریا میں رہتے اور ان کے خرچے پر پلتے رہے ہیں اور امکان قوی ہے کہ ان کو ٹریپ کر کے یا ان کی مرضی سےیابےچارگی کافائدہ اٹھاکر جائیداد ان سے بذریعہ فروخت حاصل کرلی ہے۔ جبکہ ان میں سے کسی کی بھی مالی حالت اس قابل ہرگزنہ تھی کہ وہ زمین کا ایک ٹکڑابھی خریدسکیں،اس پورےمعاملےمیں دوگواہ حسن محمود شاہ اورعامرصہیب خان ہیں(یہ دونوں ان کےبھانجےہیں)، چونکہ شرعی طور پریہ جائیداد بھتیجوں کوملنی تھی اورایک تہائی حصہ سےاوپرگفٹ یاتملیک نہیں کرسکتی تھی،تو ان سب نے ملکربیع کی ڈرا مےبازی کرکےجائیدادان کے ہی پیسوں سےبیع کرواکرخریدلی اورقانونی طورپرخودکومستحکم کرلیااورجائزاورشریعت کےمطابق حصہ داروں کی شدیدترین حق تلفی کی ہے،ہم میں سےکوئی بھی حصہ دارنہ اپنی مرحومہ پھوپھی کومعاف کرنےکےلیےتیارہےاورنہ ہی ان لوگوں کوجنہوں نےاپنےنام کروایا،اورنہ ہی ان لوگوں کوجنہوں نےاپنےاثرورسوخ سےیہ کام کروایا اور نہ ہی ان کو جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس خرید و فروخت کے ڈرامے کے گواہ بنے۔
یہاں یہ بات قابل بیان ہے کہ مرحوم پھو پھی کی 2 عدد بہنیں اور 1 بھائی تھا جوان کی زندگی میں ہی وفات پاگئے اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان کی جائیداد میں زمینیں، کو ٹھی،سونا، گاڑیاں اور نقدی شامل تھی جو کہ ایک ہی گھر اور ایک ہی چھت کے نیچے خریدوفروخت کی ڈرامہ بازی کر کے آپس میں بانٹ لی۔
سوال نہیں 1: اوپر بیان کیے گئےاحوال کےمطابق پھوپھی کی جائیداد کے شرعی وارث کون تھے ؟
سوال نمبر 2 :کیا پھپھو کو اس بات کا اختیار دیا گیا کہ وہ اسطرح سےجائیدادکے جدی پشتی حق داروں کے بجائے کسی اور کو دے ؟
سوال نمبر 3 :چونکہ پھپھو کو حصہ داروں کی طرف سے معافی نہیں دی گئی۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟
سوال نمبر 4 :جنہوں نے ڈرامے بازی کر کے یہ جائیداد حاصل کی ہے شریعت ان کے بارےمیں کیاکہتی ہے؟
سوال نمبر 5 :جن لوگوں نے اثر ورسوخ استعما ل کیا اور جوگواہان بنے جانتے ہوئے کہ یہ سب ڈرامہ ہورہا ہےاورحق تلفی ہورہی ہے،ان کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
سوال نمبر 6 :جن کی حق تلفی ہوئی ہے، ان کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے ؟
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ پھپوسےخریدوفروخت وفات سے10سال قبل ہوئی،وفات کےوقت پھپو کی عمر 95 سال تھی،اور10 سال پہلے85 سال کی عمر میں پھپو سےجائیدادخریدی گئی ہے،اورسائل کےبقول اس وقت بھی زیادہ عمر ہونےکی وجہ سے پھپو کاذہنی توازن اتنا اچھا نہیں تھاکہ وہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ جائیدادبیچنی ہےیانہیں اگربیچنی ہےتو کس کو بیچنی ہے ،بھانجوں نےان کی ذہن سازی اتنی کی ہوئی تھی کہ وہ بھتیجوں کی طرف بالکل نہیں تھی،نہ ملاقات کرتی تھی،اورنہ ہی گھر آنا جاناتھا،سائل کےبقول بھانجوں کویہ معلوم تھاکہ بھتیجےوارث ہونگے،اس لیےانہوں نےیہ پورا معاملہ کیا،سائل کےبقول پھوپھوکی تقریبا ایک ارب کی جائیداد تھی جوانہوں نےاونےپونےداموں پھپو سےخریدکراپنی جائیداد بنائی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ جائیداد پھوپھو کی ذاتی تھی اورپھوپھو نےاپنی زندگی میں ہی اپنےبھانجےکوبیچی ہےتوشرعاپھوپھو کابیچنا درست ہے،اگر پھوپھو اپنی زندگی میں بھانجےکو ساری جائیداد ہبہ کردیتی تو بھی ہبہ مکمل ہوجاتا،کیونکہ ہبہ کےلیےقبضہ کرنا شرط ہےوہ یہاں پایاگیاہے،موجودہ صورت میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق باقاعدہ خریدوفروخت ہوئی ہےاور ضعیف العمر ہونےکی وجہ سےذہنی توازن خراب ہونےکامحض خدشہ اس خریدوفروخت کوشرعاکالعدم قراردینےکےلیےکافی نہیں ہے،لہذا پھوپھو کی اپنی جائیدادفروخت کرنادرست ہےاور بیع شرعا مکمل ہوگئی ہے،اس کےبعد پھوپھوکی فروخت کردہ جائیداد میں اس کےموجود ورثہ کاشرعاحق نہیں بنتا۔
یہ الگ بات ہےکہ اگرپھوپھوکو علم تھاکہ میرےجائیدادفروخت کرنےکی وجہ سےورثہ حق سےمحروم ہوجائیں گےتومعلوم ہونےکےباجوداس فروخت کرنےاورورثہ کومحروم کرنےکاگناہ ہوگا،جس کاوبال خودان کی ذات پرہوگااوریہ ان کا اوراللہ کامعاملہ ہے،لیکن اس کی وجہ سےموجو د ورثہ کاجائیدادکےخدیداروں سےمطالبہ کرنا یایہ کہنا کہ یہ ہماری میراث کاحق ہے،شرعااس کی اجازت نہیں ہوگی،البتہ جوپیسےوہ لےچکی تھی،اگراس میں سےیااس کےعلاوہ کوئی نقدی وغیرہ بوقت انتقال پھوپھوکی ملکیت میں تھاتواس کےحقدارشرعی ورثہ ہیں۔
مذکورہ تفصیل کےبعداستفتاء میں مذکورہ سولات کا جوا ب یہ ہے:
1۔ اگر مرحوم کی کوئی اولاد نہ ہو تو مرحوم کا عصبہ اس کاوالد یا داداہوتاہے،وہ نہ ہو تو مرحوم کا بھائی وارث ہوتاہے،بھائی نہ ہو تو بھائی کی اولاد (بھتیجے) وارث ہوتی ہے، وہ بھی نہ ہو توچچا وارث ہو تاہے، چچا نہ ہو تو چچا کی نرینہ اولادوارث ہوتی ہے،صورت مسئولہ میں مرحومہ کےبھتیجےاس کےوارث ہیں،بشرطیکہ وفات کےوقت مرحومہ کی ملکی میں کوئی بھی مال یااپنی ذاتی جائیدادموجودہو۔موجودہ صورت میں فروخت شدہ جائیدادکےعلاوہ جائیداد(اگرہوتووہ )میراث کےطورپر بھتیجوں ہی میں تقسیم ہوگی ۔
"رد المحتار 29 / 401:ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده ( ويقدم الأقرب فالأقرب منهم ) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت۔۔۔
(ثم جزء جده العم) لابوين ثم لاب ثم ابنه لابوين ثم لاب
"سراجی "ص 3:فیبدئ باصحاب الفرائض وھم الذین لہم سہام مقدرۃ فی کتاب اللہ تعالی ثم بالعصبات من جہۃ النسب۔
"صحيح البخاري" 6 / 2476:
عن ابن عباس رضي الله عنهما : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر )
[ ش أخرجه مسلم في الفرائض باب ألحقوا الفرائض بأهلها رقم 1615
( ألحقوا الفرائض بأهلها ) أعطوا الأنصباء المقدرة في كتاب الله تعالى لأصحابها المستحقين لها . ( فما بقي ) فما زاد من التركة عن أصحاب الفروض . ( فلأولى ) لأقرب وارث من العصبات ]
3،2۔پھوپھوکےلیےشرعایہ جائزنہیں تھاکہ وہ اصل وارثوں کومحروم کرنےکےلیےکسی اوراپنامال مفت یا کم قیمت پر دے،اسی وجہ سےاوپرمسئلہ میں یہ وضاحت کی ہےکہ اگر پھوپھو نےیہ سب کچھ اس لیےکیاتاکہ اصل وارثوں کوحصہ نہ ملےتو اس کاگناہ ہوگااورعنداللہ پھوپھومجرم ہونگی،لیکن زندگی میں چونکہ انسان اپنےمال کا مالک ہوتاہے،اس لیےمرض الوفات سےپہلےپہلے خریدوفروخت کےبعدجس کو قبضہ دےدیاجائےوہ شرعامالک بن جاتاہے،اگرچہ نیت غلط ہی کیوں نہ ہو۔
5،4۔سوال میں مذکورہ تفصیل کےمطابق جن حضرات نےیہ جائیدادحاصل کی ہے،چونکہ شرعاباقاعدہ خریدوفروخت ہوچکی ہے،لہذا خریدوفروخت تومکمل شمارہوگی،ہا ں اس پورےمعاملےمیں جن لوگوں کی نیت خراب تھی کہ مرحومہ کےبھتیجےحصہ دار نہ ہوں،اس کاگناہ مرحومہ کےساتھ ساتھ ان کو بھی ہوگا،ان پرتوبہ واستغفاربھی لازم ہوگا۔
حقیقی وارث کو محروم کرنے کی غرض سے اپنی جائیداد کسی غیر وارث کے نام کردینا جائز نہیں حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے،حدیث میں ہےکہ”جو شخص اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کردے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت سے محروم فرمادیں گے“(مشکوٰة:۲۶۶)
"مشكاة المصابيح " 2 / 197: وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه۔
6۔جن کی حق تلفی ہوئی ہے،ان کےلیےبھی شریعت کا یہی حکم ہےکہ وہ صبر سےکام لیں ،چونکہ ان کا میراث میں حصہ تھا،جب پھپونےاپنی اکثرجائیداد اپنی زندگی میں اپنےاختیار سےبیچ دی تو وہ میراث ہی شمارنہ ہوگی۔
اہم وضاحت: اگرتحقیق سےیہ بات ثابت ہوجاتی ہےکہ اس خریدوفروخت میں پھوپھی کی رضامندی بالکل بھی نہیں تھی،بھانجوں نےزبردستی ان کی جائیدادخریدی ہے،یاپھوپھوکاذہنی توازن واقعتااتناخراب تھاکہ ان کو بالکل کچھ پتہ نہیں چلتاتھا،توایسی صورت میں پھوپھوکی خریدوفروخت شرعامعتبر نہیں ہوگی،اورپھوپھوکی ساری جائیدادمیں بھتیجوں کاحق ہوگا۔
چونکہ ہمارےلیےیہ فیصلہ کرنا مشکل ہےکہ اس خریدوفروخت کےوقت پھوپھوکاذہنی توازن واقعتاخراب تھانہیں،اسی طرح پھوپھونےاپنی رضامندی سےجائیدادبیچی تھی یابھانجوں نے زبردستی خریدی تھی،ممکن ہےبھانجوں کےپاس اپنےدلائل موجود ہوں،اس لیےمذکورہ صورت میں باہمی اختلاف رائےکودورکرنےکےلیے بہتریہ ہےکہ اس مسئلہ کو قریبی معتبردارالافتاء میں پیش کرکےوہاں دونوں فریق باہم مل بیٹھ کر فیصلہ کروالیں۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/ذیقعدہ 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


