| 90461 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میری عمر اس وقت 63 سال ہے، میرے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ کرونا کے دوران میرا کاروبار بند ہو گیا اور نئے کام میں تقریباً1کروڑ 23 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس میں سے1 کروڑ روپے میرا اپنا سرمایہ تھا جبکہ باقی 23 لاکھ کا میں مقروض ہو گیا۔ یہ سارا نقصان صرف کاروبار میں نہیں ہوا بلکہ کچھ رقم گھر کے اخراجات میں بھی صرف ہوتی رہی۔ میرا بڑا بیٹا میرے ساتھ کام کرتا تھا اور اس کی جو آمدنی ہوتی، وہ بھی گھر کے اخراجات میں شامل ہو جاتی۔ کئی وجوہات کی بنا پر میں وہ کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا، چنانچہ میں نے مختلف نئے کام شروع کیے مگر کسی میں کامیابی نہیں ملی۔ میرا بڑا بیٹا وہی پرانا کام اپنے طور پر شروع کر چکا تھا اور ان کمپنیوں کے ساتھ منسلک رہا جن کے ساتھ میں پہلے کام کرتا تھا۔ چونکہ میں نے ان کمپنیوں میں جانا چھوڑ دیا تھا، اس لیے وہ آزادانہ طور پر ان کے ساتھ کام کرتا رہا اور ہر ماہ گھر کے اخراجات کے لیے ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے دیتا رہا۔ اس دوران جب اسے کام میں نقصان ہوا تو اس کی ماں نے چھ تولے کی چوڑیاں بیچ کر اسے رقم دے دی، پھر تقریباً سات آٹھ سال پہلے اسے دوبارہ ضرورت پڑی تو اس کی ماں نے اپنا دس مرلے کا پلاٹ پچیس لاکھ روپے میں فروخت کر کے اسے دے دیا، اس امید پر کہ وہ ایک ذمہ دار بیٹا ہے جو اپنی ضرورتیں قربان کر کے گھر چلا رہا ہے۔آج کل کی مہنگائی کے پیشِ نظر گھر کا ماہانہ خرچ تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے ہو جاتا ہے، جو گزشتہ پانچ چھ سالوں سے بڑا بیٹا ہی اٹھا رہا ہے۔ والدین کی ادویات سمیت گھر کے ہر فرد کے اخراجات اسی کے ذمے ہیں، کیونکہ میں کچھ کما نہیں رہا۔ بڑا بھائی ہونے کے ناطے وہ اپنی بہنوں کی ذمہ داریاں بھی پوری کر رہا ہے۔ تقریباً ڈھائی سال پہلے اس نے ایک بہن کی شادی کی جس پر بارہ تیرہ لاکھ روپے خرچ ہوئے؛ تب میں نے سوچا تھا کہ اسے شادی کی مد میں دس لاکھ روپے دوں گا، مگر اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کیا۔ ایک سال قبل اس نے دوسری بہن کی شادی کی، اس پر بھی تقریباً اتنی ہی رقم خرچ ہوئی، تب بھی میں نے اسے دس لاکھ روپے دینے کا ارادہ کیا مگر خاموش رہا۔ پانچ ماہ پہلے اس نے تیسری بہن کی شادی کی جس پر بھی لگ بھگ اتنا ہی خرچ ہوا۔ہم مظفر گڑھ کے رہنے والے ہیں، وہاں شہر میں میرا پانچ مرلے کا مکان ہے جہاں میری بوڑھی ساس مقیم ہیں۔ میں نے کئی بار اسے بیچنے کی کوشش کی مگر میری ساس (جو رشتے میں میری سگی پھوپھی ہیں) نے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی اسی گھر میں گزاری ہے، لہٰذا عمر کے اس آخری حصے میں انہیں وہاں سے نہ نکالا جائے۔ میرا مقصد مکان بیچ کر زندگی ہی میں اپنا قرض ادا کرنا تھا، مگر ساس کی وجہ سے اور اہلیہ کی خواہش پر کہ مکان نہ بکے تاکہ وہاں جانے پر ٹھکانے کی جگہ ہو، میں رک گیا۔ اب میرے بڑے بیٹے نے اپنی ماں کی خواہش کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ میں یہ مکان کسی اور کو بیچنے کے بجائے اس کے نام کر دوں اور وہ میرا قرضہ آہستہ آہستہ اتار دے گا۔اس وقت مجھ پر 2,378,500 روپے کا قرض ہے، جبکہ میں نے بیس لاکھ روپے بیٹے کو وہ رقم دینے کا کہا ہے جو اس نے بہنوں کی شادی پر خرچ کی۔ چار لاکھ روپے میں نے اہلیہ کے لیے رکھے اور دو لاکھ روپے اپنی طرف سے خیرات و کفارہ (نماز، روزہ یا حقوق العباد) کے لیے مقرر کیے ہیں۔ اس طرح کل رقم 4,978,500 روپے بنتی ہے، جبکہ مکان کی موجودہ مالیت پچاس لاکھ روپے ہے۔ بیٹا میرے قرض میں سے 650,000 روپے ادا بھی کر چکا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں وصیت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مکان میں نے بیٹے کے ذمے اپنے قرضوں کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ چونکہ رجسٹری کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور بیٹے نے بھی مستقبل میں اسے بیچ ہی دینا ہے کیونکہ اس کا کاروبار کراچی میں ہے، وہ صرف اپنی ماں کی خاطر اسے ابھی بکوانا نہیں چاہتا۔ اگر میں اسے فروخت کر دوں تو اپنے قرضوں سے فارغ ہو جاؤں گا، لیکن میں چونکہ بچوں کے لیے کوئی اور وراثت نہیں چھوڑ رہا، اس لیے ایک دو دامادوں کی طرف سے یہ اعتراض آیا ہے کہ قرض اتارنا اور گھر چلانا بیٹوں کا فرض ہے، اور بہنوں کی شادی کر کے بھائی نے کوئی احسان نہیں کیا۔ ان کا موقف ہے کہ مکان میں بیٹیوں کا حصہ ہونا چاہیے۔میرا چھوٹا بیٹا ابھی غیر شادی شدہ ہے اور سی اےCA کر رہا ہے، اس کی پڑھائی کے اخراجات بھی بڑا بھائی ہی اٹھا رہا ہے۔ اس کی ماں کو فکر ہے کہ چھوٹے بیٹے کے لیے کچھ نہیں بچا تو اس کی شادی کیسے ہوگی۔ بڑے بیٹے کی شادی پر پانچ تولے سونا دیا تھا جبکہ اب صرف ایک تولہ بچا ہے۔ میں نے طے کیا ہے کہ اہلیہ کے لیے رکھے گئے چار لاکھ روپے اور میری کلٹس گاڑی (مالیت 5 سے 6 لاکھ) چھوٹے بیٹے کی شادی کے لیے استعمال ہوں گے۔ تین بچوں کی شادی میں نے خود کی، چوتھی بہن کی شادی بھائی نے کی جس کے پیسے میں اسے نہیں دے رہا (صرف دو شادیوں کے پیسے ایڈجسٹ کر رہا ہوں)۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ میرے بڑے بیٹے کی ایک ہی بیٹی ہے جو معذور ہے (نہ دیکھ سکتی ہے، نہ بیٹھ سکتی ہے اور نہ ہی کھا سکتی ہے)۔ ڈاکٹروں کے مطابق کزن میرج کی وجہ سے مستقبل میں بھی صحت مند اولاد کی امید نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بیٹے کا مستقبل کیا ہے؟ اس نے جو کمایا والدین اور گھر پر خرچ کر دیا، بڑھاپے میں وہ کیا کرے گا؟ کیا اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا حق نہیں؟ کیا اپنی زندگی میں قرضوں کے عوض یہ مکان بیٹے کے نام کرنا یا اسے شادیوں کی مد میں رقم دینا دیگر بچوں کی حق تلفی ہے؟ کیا میں یہ مکان قانونی طور پر بیٹے کے نام منتقل کر سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے دو باتیں بطور تمہید:
۱-والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خودمالک ہے، اولادکو اس میں کسی قسم کی دخل اندازی جائزنہیں۔تاہم اپنی مرضی سےوالدجتنامال اولاد کودیناچاہے،دےسکتاہے۔ عام حالات میں بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دینا چاہیے۔بلاوجہ یا کسی وارث کو ضررپہنچانے کےلیے کسی کو کم یا زیادہ دینا شرعاً پسندیدہ نہیں ۔البتہ اگر کسی بچے کی خدمت یا کسی اورمعقول وجہ سے اسے کچھ زیادہ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ،بلکہ بہتر ہے۔
۲-کسی وارث کے حق میں وصیت کرناجائز نہیں۔ البتہ یہ کیاجاسکتاہےکہ اس کامیرےذمہ اتناقرض ہےلہذا وہ قرض فلاں جائیدادسےاداکیاجائے۔
1- اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، تو والد پر لازم ہے کہ وہ اپنے ذمے واجب الاداء 23 لاکھ 78ہزار روپے کا قرض ادا کریں۔ اگر وہ اپنی زندگی میں ادا نہیں کر سکتے، تو ان کے انتقال کے بعد یہ قرض ان کے ترکے سے ادا کیا جائے گا۔ لہذا اگرقرض کی ادائیگی کی خاطر والد اپنا مکان بیٹے کو فروخت کریں توشرعاً نہ صرف جائزبلکہ مستحسن ہے، تاکہ وہ اس رقم سے اپنا قرض ادا کر سکیں۔
2- صورتِ مسئولہ میں چونکہ والد قرض کی ادائیگی اور اپنی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے رقم لوٹانے کی خاطر مکان اپنے بیٹے کوبیچ رہاہے اس لیے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔
3- اگرچہ شرعاً ہبہ کرتے وقت اولاد میں برابری کرنی چاہیے لیکن اگر چھوٹے بیٹے کی تعلیم، شادی کے اخراجات اور معاشی کمزوری کی بنا پر جائیداد میں سے کچھ زائد حصہ دے دیں تو درست ہے، بشرطیکہ دیگر ورثہ اور بیٹیوں کو بالکل محروم نہ کیا جائے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 444)
أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى
الفتاوى الهندية (4/ 391)
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (2/ 226):
المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ. والله تعالى أعلم.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (4/ 387)
«ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا وأولاد البنين والبنات في ذلك سواء وكذلك الإخوة والأخوات والأعمام والعمات.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/ 760)
(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/ذوالقعده/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


