| 90456 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
ایک آدمی دونوں پاؤں سے بالکل معذور ہے اور ابھی اس کو فالج ہوا ہے اور اس کا بایاں ہاتھ 70 فیصد کام نہیں کرتا ،کیا وہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اور وضو کرنے میں بہت تکلیف اور دشواری سے گزرنا پڑتا ہے ، نیزاس شخص کو بواسیربھی ہے، کبھی خون، کبھی پیپ اور کبھی ریشہ ہر وقت آتا رہتا ہے، کیا ایسی صورت میں بار بار بار وضو کرنے سے بہت دقت اور تکلیف محسوس ہوتی ہے، کیا یہ آدمی تیمم کر سکتا ہے؟ جواب ارشاد فرما کے ثواب دارین حاصل کریں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو فالج ہوا ہے اور وہ تقریباً ستر فیصد کام نہیں کرتا، بچے وضو کرواتے ہیں، مگر کافی تکلیف ہوتی ہے، جبکہ تیمم کرنے میں مجھے آسانی ہوتی ہے، کیونکہ ایک ہاتھ سے تیمم کر لیتا ہوں اور بایاں ہاتھ بآسانی دائیں ہاتھ پر پھر جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید دو باتيں جاننا ضروری ہیں :
- اسلام نےمشقت اور عذر کی حالت میں تخفیف اور آسانی کا درس دیا ہے اور انسان کو اس کی ہمت اور طاقت کے مطابق ہی عمل کرنے کا مکلف بنایا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتے۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:{يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} [البقرة: 185] اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتے ہیں اور تمہارے لیے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کئی ارشادات میں امت پر آسانی پیدا کرنے اور حرج اور تنگی کو دفع کرنے کا حکم دیا، چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:" يسروا ولا تعسروا"صحيح البخاري (1/ 47) یعنی (احکام میں) آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو۔
ان نصوص کی بناء پر فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حرج اور تنگی کے مواقع کے علیحدہ احکام بیان فرمائے اور حرج، تنگی، مشقت اورعذرکی تحدید اور وضاحت کے لیےہر حکم کی مستقل شرائط بھی بیان فرمائیں، تاکہ ان شرائط کی روشنی میں عذر کے تحقق اور حرج کے دفع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے، لیکن شرائط کا یہ مقصد نہیں کہ بہرصورت ان شرائط کے پائے جانے کی صورت میں ہی تخفیف کا حکم لگایا جائے گا، ورنہ نہیں، بلکہ اگر فقہائے کرام رحمہم اللہ کی ذکرکردہ شرائط کے علاوہ کوئی اورنئی صورت پیش آجائے جس میں واضح طور پر تنگی اور حرج محسوس ہو تو اس صورت میں بھی تخفیف کا حکم لگے گا، اگرچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی بیان کردہ شرائط کا تحقق نہ ہو، کیونکہ فقہائےکرام رحمہم اللہ نےیہ شرائط اپنے زمانے کی صورتِ حال کو دیکھ کر لگائی تھیں اور ان شرائط کا اصل مدار حرج اور مشقت کا پایا جانا ہے۔
- جمہور فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود وضو پر قادر نہ ہو، لیکن اس کی بیوی یا کوئی خادم وغیرہ موجود ہو جو اس کو وضو کر وا سکے تو اس صورت میں تیمم کی اجازت نہیں، بلکہ ایسے شخص پر وضو کر کے نماز پڑھنا واجب ہے، ان حضرات کے نزدیک "القادر بقدرة الغیر" بھی قادرسمجھا جاتا ہے، جبکہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک "القادر بقدرة الغیر" شرعاً قادر نہیں سمجھاجاتا، بلکہ ان کے نزدیک خود وضو نہ کرنے والے شخص پر دوسرے سےمدد لے کر وضو کرنا واجب نہیں، بلکہ اس کے لیے تیمم کرنا بھی جائز ہے، لیکن جمہور فقہائے حنفیہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول کو خادم وغیرہ نہ ہونے کی صورت پر محمول کیا ہے، اسی لیے علامہ شامی رحمہ اللہ نے خادم موجود ہونے کی صورت میں وضو کے وجوب پر اتفاق نقل کیا ہے، اگرچہ بعض جگہ یہ قول مطلق نقل کیا گیا ہے۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں اگرچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی طرف سے کتبِ فقہ میں تیمم کے جواز کے لیے بیان کردہ شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جا رہی، کیونکہ آپ کے پاس پانی بھی موجود ہے، بچوں سے مدد لےکر پانی کے استعمال پر قادر ہیں اور پانی استعمال کرنے کی صورت میں آپ کو مرض بڑھنے یا کوئی عضو ضائع ہونے کا بھی اندیشہ نہیں، لہذا جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک تو ایسی حالت میں تیمم کرنا جائز نہیں، البتہ مجبوری کے پیشِ نظر آپ کے لیے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول"القادر بقدرة الغیر لیس بقادر" کو اپنے اطلاق پر رکھتے ہوئے تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے، باقی جمہورفقہائے کرام رحمہم اللہ کے اس قول کو خادم نہ ہونے کی قیدکے ساتھ مقید کرنے کو اس صورت پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ جب مریض کو وضو کرنے میں تکلیف نہ ہو اور وہ دوسروں سے مدد لے کربآسانی تیمم کر سکتا ہو، جبکہ مذکورہ صورت میں آپ کے ایک ہاتھ کو فالج اوردونوں پاؤں سے معذور ہونے کی وجہ سے وضو کرنے میں کافی مشقت اور تکلیف اٹھانا پڑتی ہے،"والحرج مدفوع في الاسلام" اس لیے ہماری رائے کے مطابق ایسی مجبوری حالت میں آپ کے لیے تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے۔
باقی چونکہ آپ کو بواسیر کا مرض بھی لاحق ہے، جس کی وجہ سے مسلسل خون وغیرہ بہتا رہتا ہے، اس لیے اگر خون بہنے کی کیفیت یہ ہو کہ کسی نماز کے وقت میں آپ وضو یا تیمم کر کے نماز کی صرف فرض رکعات بھی نہ پڑھ سکتے ہوں، بلکہ نماز مکمل کرنے سے پہلے ہی دوبارہ خون شروع ہو جاتا ہو تو اس صورت میں آپ معذور شمار ہوں گے اور آپ کے لیے ہرنماز کے وقت میں وضو یا تیمم کر کے نماز اور تلاوت وغیرہ کرنا سب جائز ہو گا، اگرچہ اس مكمل وقت كے دوران مسلسل خون بہتا رہے، البتہ نماز کا وقت ختم ہونے سے وضو/تیمم ٹوٹ جائے گا، اس لیے دوسری نماز کے لیے دوبارہ وضویا تیمم کرنا ہو گا، اور بیماری درست ہونے تک ہر نماز کے وقت میں یہی حکم ہو گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 96) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله ولو مستندا إلخ) أي إذا لم يلحقه ضرر به بدليل ما مر. (قوله أو إنسان) غير في العناية والفتح وغيرهما بالخادم بدله. قال ح: وفيه أن القادر بقدرة الغير عاجز عند الإمام إلا أن يراد بالغير غير الخادم تأمل. اهـ.
أقول: قدمنا في باب التيمم أن العاجز عن استعمال الماء بنفسه لو وجد من تلزمه طاعته كعبده وولده وأجيره لزمه الوضوء اتفاقا وكذا غيره ممن لو استعان به أعانه في ظاهر المذهب، بخلاف العاجز عن استقبال القبلة أو التحول عن الفراش النجس فإنه لا يلزمه عنده. والفرق أنه يخاف عليه زيادة المرض في إقامته وتحويله. اهـ. ومقتضاه أنه لو لم يخف زيادة المرض يلزمه ذلك وقدمنا في بحث الصلاة على الدابة من باب النوافل عن المجتبى ما نصه: وإن لم يقدر على القيام أو النزول عن دابته أو الوضوء إلا بالإعانة وله خادم يملك منافعه يلزمه في قولهما، وفي قوله نظر. والأصح اللزوم في الأجنبي الذي يطيعه كالماء الذي يعرض للوضوء. اهـ. ولا يخفى أن هذا حيث لا يلحقه ضرر بالقيام فلا يخالف ما قدمناه آنفا، وبه ظهر أن المراد بالإنسان من يطيعه أعم من الخادم والأجنبي، وأما عدم اعتبار القدرة بقدرة الغير عند الإمام فلعله ليس على إطلاقه بل في بعض المواضع كما قاله ط ولذا قال في المجتبى: وفي قوله نظر، أو محمول على ما إذا لم يتيسر له ذلك إلا بكلفة ومشقة فلا يلزمه الانتظار إلى حصوله فليتأمل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 432) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله عند الإمام) لأن القادر بقدرة الغير عاجز عنده لأن العبد يكلف بقدرة نفسه لا بقدرة غيره خلافا لهما، فيلزمه عندهما التوجه إن وجد موجها، وبقولهما جزم في المنية والمنح والدرر والفتح بلا حكاية خلاف، وهذا بخلاف ما لو عجز عن الوضوء ووجد من يوضئه حيث يلزمه، ولا يجوز له التيمم اتفاقا في ظاهر المذهب، وقيل على الخلاف أيضا، وقدمنا الفرق في باب التيمم فراجعه.
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 41) مؤسسة الرسالة، بيروت:
من شروط التيمم أيضا: والرابع وجود العذر، والعذر علي وجهين:
فقدان الماءوالعجز عن استعمال الماء، والناس في العذر صنفان مسافر ومقيم فالمسافر صنفان عادم الماء وعاجز عن استعمال الماء.
تحفة الفقهاء (1/ 38) دار الكتب العلمية، بيروت:
وأما العدم من حيث الحكم والمعنى فهو أن يعجز عن استعمال الماء لموانع مع وجوده حقيقة بقرب منه بأن كان على رأس البئر ولم يجد آلة الاستقاء أو كان بينه وبين الماء عدو أو سبع يمنعه أو لصوص يخاف منهم على نفسه الهلاك أو الضرر أو كان معه ماء وهو يخاف على نفسه العطش أو به جراحة أو جدري أو مرض يضره استعمال الماء أو مرض لا يضره استعمال الماء ولكن ليس معه خادم ولا مال يستأجر به أجيرا وليس بحضرته من يوضئه وهو في المفازة فإن كان في المصر لا يجزئه لأن الظاهر أنه يجد من يعينه أو كان مع رفيقه ماء لا يعطيه إياه ولا يبيعه بمثل قيمته أو بغبن يسير أو يخاف على نفسه الهلاك أو زيادة المرض بسبب البرد وهو لا يقدر على تسخين الماء ولا على أجرة الحمام في المفازة والمصر عند أبي حنيفة رضي الله عنه وعند أبي يوسف ومحمد في السفر كذلك وفي المصر لا يجزئه.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 92) الناشر: المكتبة العصرية:
ولو خاف أن يراه العدو إن قعد صلى مضطجعا بالإيماء إلى جهة أمنه والقادر بقدرة الغير ليس قادرا عند الإمام.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 376) الناشر: دار الفكر،بيروت:
فإن قيل: القدرة بقدرة الغير لا تعتبر عند أبي حنيفة ولهذا لم تجب الجمعة والحج على الأعمى وإن وجد قائدا. قلنا: إنما لا تعتبر قدرة الغير إذا تعلق باختيار ذلك الغير، وهنا الأمي قادر على الاقتداء بالقارئ بلا اختياره فينزل قادرا على القراءة، ومن الفروع المنقولة لو تحرم ناويا أن لا يؤم أحدا فائتم به رجل صح اقتداؤه.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 90) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
ذكر ابن نجيم وغيره في فروع القاعدة المشهورة أعني قولهم المشقة تجلب التيسير من العفو عن نجاسة المعذور وعدم الحكم بنجاسة الماء إذا لاقى المتنجس إلا بالانفصال وما ذكروه في الحكم بالطهارة في الاستنجاء مع أن الماء كلما لاقى النجاسة ينجس وبأن الماء لا يضره التغير بالمكث والطين والطحلب وكلما يعسر صونه عنه اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 190) الناشر: دار الفكر-بيروت:
علمت من الضرورة من أن المشقة تجلب التيسير، ومن أنه إذا ضاق الأمر اتسع، والله تعالى أعلم.
(قوله: وألحقوا بالجاري حوض الحمام) أي في أنه لا ينجس إلا بطهور أثر النجاسة. أقول: وكذا حوض غير الحمام؛ لأنه في الظهيرية ذكر هذا الحكم في حوض أقل من عشر في عشر، ثم قال: وكذلك حوض الحمام اهـ فليحفظ.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 64) دار الكتب العلمية، بيروت:
القاعدة الرابعة: المشقة تجلب التيسير: والأصل فيها قوله تعالى: {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر} وقوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} (وفي حديث {أحب الدين إلى الله تعالى الحنيفية السمحة} ) قال العلماء: يتخرج على هذه القاعدة جميع رخص الشرع وتخفيفاته. واعلم أن أسباب التخفيف في العبادات وغيرها سبعة:................ ورخصه كثيرة: التيمم عند الخوف على نفسه، أو على عضوه، أو من زيادة المرض، أو بطئه، والقعود في صلاة الفرض والاضطجاع فيها، والإيماء.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


