| 90958 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام امینہ ناصر ہے اور میں لندن میں رہتی ہوں۔ 2021ء میں میں پاکستان گئی تھی، جہاں میری منگنی میرے ایک رشتہ دار سے طے ہوئی۔ اسی موقع پر میرا نکاح بھی ہوا۔ منگنی کے دن مجھے پہلے سے یہ علم نہیں تھا کہ اسی دن میرا نکاح بھی کیا جائے گا۔ جب میرے والد اور بھائی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کس کو اپنا وکیل بنانا چاہتی ہوں۔ میں نے سوچ کر اپنے والد کو وکیل مقرر کیا، اور ان کے ذریعے میرا نکاح انجام پایا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میرے خاندان والوں نے میرا نکاح زبردستی نہیں کیا تھا۔ البتہ ذہنی طور پر میں صرف منگنی کی تقریب کے لیے آئی تھی، نکاح کے لیے پہلے سے تیار نہیں تھی۔ نکاح کے بعد میں اور میرے شوہر دونوں خوش تھے۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بہت سے وعدے بھی کیے۔ چند ماہ بعد میں لندن واپس آگئی۔ تقریباً تین سال بعد میں نے اپنے شوہر کو خلع کا نوٹس بھیجا، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ خلع کی درخواست میں میں نے یہ لکھا ہے کہ ہمارے خیالات اور سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ نکاح کے وقت میں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ تاہم میں اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ میرے شوہر ایک اچھے انسان ہیں اور ان میں کوئی ایسی شرعی خرابی یا عیب موجود نہیں ہے۔ میرے والد بھی مجھے اس رشتے کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود میں خلع لینا چاہتی ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اس صورتِ حال میں یو کے کونسل یا کوئی شرعی کونسل مجھے یکطرفہ خلع یا فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دے، تو کیا وہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق معتبر اور نافذ سمجھی جائے گی؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع ایک عقد ہے، جس کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع تو نہیں ہوگی،تاہم فسخ نکاح کا اختیار جج کو کچھ شرائط اور اسباب کے پائے جانے سے حاصل ہوسکتاہے جو کہ آپ کے مسئلے میں موجود نہیں ،لہذا اگر شوہر راضی نہ ہو تو عدالت کی جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری کا اعتبار نہیں ہوگا۔آپ کو چاہیے کہ کسی بھی طرح اپنے شوہر کو طلاق دینے یا خلع کے فیصلے کو قبول کرنے پر تیار کریں،فی الحال آپ کا نکاح بحال ہے۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ رقم الأیۃ: (223)
"ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون "
فتح القدیر:(4/211)
(وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم ''الخلع تطليقة بائنة'' .
ردالمحتار علی الدر المختار:(3/449)
قال الزيلعي: ولا بد من قبولها لأنه عقد معاوضة، أو تعليق بشرط، فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول ولا ينزل المعلق بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه، والطلاق بائن لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة.
الدرالمختار مع ردالمحتار: (3/441)
(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.
بدائع الصنائع :(3/145)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11 /1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


