03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیماری اور مشقت کی وجہ سے رمی جمرات میں وکیل بنانے کا شرعی حکم
90863حج کے احکام ومسائلجنایات حج کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ حج ادا کیا۔ اس دوران رمیِ جمرات کے متعلق درج ذیل حالات پیش آئے: میری عمر 58 سال ہے۔ حج کے دوران میرے شوہر کے دونوں پاؤں زخمی تھے اور ان کی شوگر بھی کم ہو گئی تھی، حتیٰ کہ وہ بے ہوشی کی حالت تک پہنچ گئے۔ ان کی اس حالت کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال اور ساتھ رہنا میرے لیے بھی ایک مستقل اور ضروری ذمہ داری بن گیا، جس کے باعث میں شدید مشقت اور ذہنی و جسمانی دباؤ میں رہی۔ گیارہ ذوالحجہ کو ہم رمی کے لیے گئے، مگر راستے میں شدید ہجوم، دھکم پیل اور سیکیورٹی رکاوٹوں کی وجہ سے آگے جانا بہت مشکل ہو گیا۔ اسی دوران اپنے شوہر کی حالت (زخم، کمزوری اور شوگر لو) کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال بھی ساتھ ساتھ جاری رہی، اور ہم رمی کے مقام تک نہیں پہنچ سکی۔ بارہ ذوالحجہ کو بھی واپسی اور سفر میں شدید گرمی، راستوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی مشکلات کی وجہ سے میں بہت زیادہ مشقت میں رہی، حتیٰ کہ مجھے ہیٹ اسٹروک بھی ہوا اور ایک گھنٹہ ہسپتال میں بھی رہنا پڑا۔ ان تمام حالات کے پیش نظر، میں خود رمیِ جمرات مکمل طور پر ادا نہیں کر سکی، اور اپنی طرف سے ایک شخص کو وکیل مقرر کر کے رمی کروائی۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ان حالات میں میری طرف سے وکیل کے ذریعے رمی درست ہوئی یا نہیں؟ اور کیا مجھ پر دم واجب ہوگا یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قادر ہونے کے باوجود، بلا عذر رمی میں نیابت (یعنی کسی دوسرے سے رمی کرانا) جائز نہیں ہے؛ البتہ معتبر عذر کی صورت میں نیابت جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ میں، اگر سائلہ کے خیال کے مطابق شوہر کے پاس رہنا حد درجہ ضروری تھا اور ان کو کوئی متبادل بھی میسر نہ تھا، تو اس عذر کی وجہ سے دوسرے شخص کو نائب بنا کر رمی کا جو عمل ہوا ہے، وہ شرعاً معتبر ہے اور اس کی وجہ سے کوئی دم وغیرہ لازم نہیں۔ لیکن اگر تیمار داری کی اس درجے ضرورت نہ تھی، یا متبادل کا انتظام ممکن تھا اور اس کے باوجود خود رمی کرنے کے بجائے نائب کے ذریعے رمی کرائی گئی، تو اس صورت میں ایک دم لازم ہے,جو کسی بھی شخص کے ذریعےحدود حرم میں دلایا جاسکتاہے۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين =« رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 554):

«(قوله أو الرمي كله) إنما وجب بتركه كله دم واحد لأن الجنس متحد كما في الحلق، والترك إنما يتحقق بغروب الشمس من آخر أيام الرمي وهو الرابع لأنه لم يعرف قربة إلا فيها، وما دامت الأيام باقية فالإعادة ممكنة فيرميها على التأليف، ثم بتأخيرها يجب الدم عنده خلافا لهما بحر، وبه علم أن الترك غير قيد لوجوب الدم بتأخير الرمي كله أو تأخير رمي يوم إلى ما يليه، أما لو أخره إلى الليل فلا شيء عليه كما مر تقريره في بحث الرمي (قوله أو في يوم واحد) ولو يوم النحر لأنه نسك تام بحر (قوله أو الرمي الأول) داخل فيما قبله كما علمت، لكنه نص عليه تبعا للهداية لأنه لو ترك جمرة العقبة في بقية الأيام يلزمه صدقة؛ لأنها أقل الرمي فيها بخلاف اليوم الأول فإنها كل رمية رحمتي فافهم.

(قوله وأكثره) كأربع حصيات فما فوقها في يوم النحر أو إحدى عشرة فيما بعده، وكذا لو أخر ذلك. أما لو ترك أقل من ذلك أو أخره فعليه لكل حصاة صدقة إلا أن يبلغ دما فينقص ما شاء لباب (قوله أي أكثر رمي يوم) المفهوم من الهداية عود الضمير إلى الرمي الأول، وهو رمي العقبة في يوم النحر، وهو المفهوم من عبارة المصنف أيضا لكن ما ذكره الشارح أفود.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 515):

«(قوله ووقته) أي وقت جوازه أداء من الفجر أي فجر النحر إلى فجر اليوم الثاني قال في البحر: حتى لو أخره حتى طلع الفجر في اليوم الثاني لزمه دم عنده خلافا لهما، ولو رمى قبل طلوع فجر النحر.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 247):

«ولو ترك الجمار كلها أو رمى واحدة أو جمرة العقبة يوم النحر فعليه شاة، وإن ترك أقلها تصدق لكل حصاة نصف صاع إلا أن تبلغ قيمته شاة فينقص ما شاء كذا في الاختيار شرح المختار»

«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (1/ 280):

«الأول - الجواز وهو من طلوع الفجر يوم النحر إلى طلوع الفجر من اليوم الثاني حتى لو أخره لزمه دم عند الإمام خلافا لهما.والثاني - الاستحباب وهو من طلوع الشمس إلى الزوال.والثالث - الإباحة وهو من الزوال إلى الغروب.والرابع - الكراهة وهو قبل طلوع الشمس من يوم النحر وبعد غروبها كما في المحيط.»

فلو رمی عن مریض بأمرہ أو مغمی علیہ ولو بغیر أمرہ أو صبی أو معتوہ أو مجنون جاز.

(غنیۃ الناسک فی بغیۃ المناسک،ص:۳۰۰،ط:دار رائدۃ فی الطباعۃ والنشر والتوزیع الاسلامی)

محمدسعید خان آفریدی

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   16/محرم الحرام /1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب