| 90989 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
جانوروں کو حاملہ کرانے کے لئے انجکشن لگوانا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائل نے وضاحت دی کہ انجکشن کے ذریعے نر جانور کا مادۂ منویہ مادہ جانور کے رحم تک پہنچایاجاتاہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جانور کے رحم میں فطری راستے سے انجکشن نما آلہ کے ذریعے نر جانور کا مادۂ منویہ پہنچانا یہ ایک طبی مہارت کا عمل ہے،لہذا اس کے عوض اجرت لینا جائز ہے۔واضح رہے کہ یہ عوض صرف اس عمل کو پیشہ ورانہ احتیاط کے ساتھ کرنے کے بدلے میں لیا جاتا ہے ،لہذا حمل نہ ٹھہرنے کی صورت میں وہ عوض واپس لینا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
مجمع الأبحر (2/568)
قال العلامۃ شیخي زادہ رحمۃ اللہ علیہ: وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية((138/2
(سئل) في رجل به داء في ظهره اتفق مع طبيب على مداواته وجعل له أجرة ولم يضرب له مدة وداواه ويريد الطبيب أجرة مثله وما أنفقه في ثمن الأدوية فهل له ذلك؟(الجواب) : نعم والمسألة في الخيرية من الإجارة.
الدر المختار(6/388):
(و) جاز (خصاء البهائم) حتى الهرة، وأما خصاء الآدمي فحرام قيل والفرس وقيدوه بالمنفعة وإلا فحرام.(وإنزاء الحمير على الخيل) كعكسه قهستاني.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18 /1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


