| 91668.66 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ایک مولوی صاحب نے رکشہ خریدا اور اپنے دوست کو اس شرط پر دیا کہ وہ اسے چلائے گا، جو بھی آمدنی ہوگی اس میں سے پہلے پٹرول کا خرچ نکالا جائے گا، پھر باقی رقم دونوں آپس میں برابر تقسیم کریں گے۔ کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں مذکور معاملہ شرکت کا نہیں، بلکہ درحقیقت اجارہ (کرایہ داری ) کا معاملہ ہے، اور اجارہ کے معاملے میں شرعی اعتبار سے اجرت (کرایہ) کا معلوم اورمتعین ہونا ضروری ہے۔ جبکہ مذکورہ صورت میں اجرت (رکشہ کے مالک کو ملنے والا کرایہ ) معلوم نہیں، یعنی یہ معلوم نہیں کہ ڈرائیور کتنی کمائی کرے گا کہ جس کا آدھا حصہ رکشہ کے مالک کو رکشہ کے کرایہ کے طور پر ادا کرے گا۔ چنانچہ اجرت میں جہالت کی وجہ سے اجارہ کا مذکورہ معاملہ کرنا جائز نہیں۔
نیز مذکورہ معاملہ کرلینے کے بعد اگر ڈرائیور نے کچھ عرصہ رکشہ چلا کر کچھ کمائی کر لی ہو تو وہ ساری کمائی ڈرائیور کی ہوگی اور پٹرول کا سارا خرچ بھی اسی کے ذمہ ہوگا، جبکہ رکشہ کے مالک کو اس مدت کا کرایہ بازاری ریٹ (اجرت مثل) کے حساب سے ادا کیا جائے گا۔
مذکورہ معاملہ کی متبادل جائز صورت یہ بن سکتی ہے کہ مالک کے لیے رکشہ کا کرایہ یومیہ یا ماہانہ کے حساب سے مقرر کیا جائے جس کاوہ مدت کی انتہاء پر بہرحال حقدار ہوگا (چاہے ڈرائیور کی کمائی کچھ نہ ہوئی ہو)۔ نیز اس صورت میں پٹرول، ٹائر کے پنکچر جیسے اخراجات ڈرائیور کے ذمہ ہونگے اور انجن کی خرابی جیسے بڑے اخراجات مالک کے ذمہ ہونگے۔ پھر جب متعینہ مدت پوری ہونے پر کرایہ کی ادئیگی کا وقت آجائے تو متعینہ کرایہ کی ادائیگی کی جگہ اس دورانیہ کی کل کمائی سے پٹرول کا خرچ نکال کر بقیہ رقم کا نصف حصہ کرایہ کے طور پر ادا کردیا جائے، بشرطیکہ اس وقت دونوں اس پر راضی ہوں۔ چنانچہ اگر متعینہ مدت میں ڈرائیور کی کمائی نہ ہوئی ہو تو رکشہ کا مالک احسان کے طور پر اپنی رضامندی سے کرایہ معاف بھی کرسکتا ہے۔ (مأخوذ از تبویب: 57473)
حوالہ جات
الدر المختار (6/4):
’’(وتنعقد بأعرتك هذه الدار شهرا بكذا) ؛ لأن العارية بعوض إجارۃ،بخلاف العكس.‘‘
البحر الرائق (7/312):
’’فكل ما أفسد البيع أفسدها، وقد ضبطه الشيخ أبو الحسن الكرخي في مختصره فقال: إذا كان ما وقع عليه عقد الإجارة مجهولا في نفسه أو في أجرة أو في مدة الإجارة أو في العمل المستأجر عليه فالإجارة فاسدة الخ .... (قوله وله أجر مثله لا يجاوز به المسمى) لأن الفاسد ملحق بالصحيح فوجد في قدر المسمى شبهة العقد، وفيما زاد عليه لم يوجد فيه عقد ولا شبهة فبقي على الأصل، وأشار بعدم مجاوزته للمسمى إلى أن الكلام فيما إذا كان المسمى معلوما غير محرم؛ لأنه لو كان الفساد لجهالة المسمى كله أو بعضه أو لعدمه ليس فيه مسمى حتى يصح أن تنتفي المجاوزة عنه فلهذا وجب أجر المثل بالغا ما بلغ.‘‘
مجلة الأحكام العدلية(ص257):
’’المادة-1344: إذا اشترك اثنان على أن يحمل أحدهما أمتعته على دابة آخر للجوب بها وبيعها على أن يكون الربح بينهما مشتركا فتكون الشركة فاسدة ويكون الربح الحاصل لصاحب الأمتعة ويأخذ صاحب الدابة أجر دابته أيضا.‘‘
شرح المجلۃ للأتاسی(4/317):
’’((المادة - 1395: إذا عقد اثنان الشركة على أن يتقبلا العمل وعلى أن يكون الحانوت من أحدهما والأدوات والآلات من الآخر يصح.)) سواء شرطا العمل عليهما أو على صاحب الأدوات. والقياس ان لا تصح في الثانية؛ لان من أحدهما العمل ومن الآخر الحانوت، واستحسن جوازها؛ لأن المشترك فيه في شركة التقبل انما هو العمل ... والتقبل من صاحب الحانوت عمل، بخلاف ما لو اشتركا على ان من أحدهما أداة القصارة والعمل من الآخر فانها تفسد ويكون الربح للعامل وعليه أجر مثل الأداة كما في البحر؛ لما علمت من ان المشترك فيه هو العمل ولا عمل من صاحب الأداة وليس بذي د كان ليكون تقبله عملاً ،هذا ما يفهم من كلامهم.‘‘
بلال شاہد بن شاہد اشرف
دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
۲۲/صفر/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | بلال شاہد بن شاہد اشرف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


