| 62251 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
تیار شدہ زیورات کو ڈلی والے سونے کے ساتھ بیچنے کی صورت میں کیا بنوائی کی اجرت لینا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کا متبادل کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تیارشدہ زیور کا حکم شرعی اعتبار سے ڈلی کے سونے کی طرح ہے، لہذا اس کی سونے کے بدلے خریدوفروخت میں بھی دونوں طرف سے وزن کا برابر ہونا ضروری ہے، اس میں بنوائی کی اجرت سونے یا کرنسی کی صورت میں لینا جائز نہیں، البتہ اگر زیور کی خریدوفروخت کرنسی کے بدلے کی جائے اور اس کی مجموعی قیمت میں بنوائی کی اجرت بھی شامل کر لی جائے تو یہ جائز ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (14/ 11):
عن أبي رافع قال سألت عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن الصوغ أصوغه فأبيعه قال: وزنا بوزن فقلت أني أبيعه وزنا بوزن ولكن آخذ فيه أجر عمل فقال: أنما عملك لنفسك ولا تردد شيئا فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن نبيع الفضة إلا وزنا بوزن فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن نبيع الفضة إلا وزنا بوزن ثم قال: يا أبا رافع أن الآخذ والمعطي والشاهد والكاتب شركاء وفيه دليل حرمة الفضل وأنه لا قيمة للصنعة فيما هو مال الربا فإن عمر رضي الله عنه بين له أنه في الابتداء عمل لنفسه فلا يستوجب الأجر به على غيره ثم ما يأخذه من الزيادة عوضا عن الصنعة ولا قيمة للصنعة في البيع ثم بين شدة الحرمة في الربا بقوله: "الآخذ والمعطي والكاتب والشاهد فيه سواء" أي في المأثم۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
7/ جمادی الاخری 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


