| 70972 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک کرین ڈرائیور ہوں ایک دن اپنے مالک کے گھر میں کام کرنے گیا، اس گھر میں کام کرنے کے لیے انہوں نےایک ٹب بنایا ہوا تھا جس میں ریت اور اینٹ ڈالکرکرین کے ذریعے میں اٹھاتا تھا، گھروالوں کو میں نے پہلے بتایا کہ اس ٹب میں زیادہ ریت مت ڈالیں مگراس گھر والوں نے نہیں مانا اور پھر میں نے ڈبل ہک یا ڈبل کیبل سے احتیاطا کام شروع کردیا اور دو یا تین ٹب اٹھالیا اور آخری ٹب جب میں نے اٹھایا تو ایک بندہ نیچے گزر رہا تھا، میں نے آواز دی کہ یہاں سے مت گزرو مگراس حالت میں ٹب کا ہینڈل ٹوٹ گیا اور بندہ نیچے آ کر فوت ہو گیا، اس حادثہ میں نہ ڈرائیور کا قصور ہے اور نہ ہی کرین کے کیبل وغیرہ کا کوئی قصور ہے،صرف گھر والوں کا اپنا ٹب ٹوٹ کر بندے پر گر پڑا تو اس حادثہ میں کیا ہم پر روزوں کاکفارہ لازم ہوگا؟
سائل نے فون پرزبانی بتایاکہ نہ تو مرنے والے شخص کو سنبھلے کا موقع ملاتھا اورنہ ہی ڈرائیورکوبریک لگانے کا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گھروالوں کواس ٹب میں زیادہ ریت نہ ڈالنے کامشورہ دینا اورپھر ڈبل ہک لگانا،احتیاط سے کام کرنا یہ سب باتیں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ آپ کو بھی اس ٹب پراعتماد نہ تھا اس میں خطرہ بہرحال تھا اورجب خطرہ تھا تواس حال میں آپ کو کرین چلانا ہی نہیں چاہیے تھا،کرین چلاکر آپ نے کوتاہی کی ہے،لہذاآپ پر کفارہ آئےگا۔
حوالہ جات
وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 21 / ص 5)
ولو سقط شئ مما يحمل الابل على انسان فقتله أو سقط بالطريق فعثر فمات كان الضمان في ذلك على الذى يقود الابل وان كان معه سائق فالضمان عليهما لان هذا مما يمكن التحرز عنه بان يشدالحمل على البعير على وجه لا يسقط وانما يسقط لتقصير كان من القائدوالسائق في الشد فكأنه أسقط ذلك بيده فيكون ضامنا لما تلف بسقوطه عليه.
الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 315)
المباشر ضامن و إن لم يتعمد.
العناية شرح الهداية - (ج 15 / ص 367)
المباشر ضامن متعديا كان أو لم يكن.
"الدر المختار " (6/ 531):
"(و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) ؛ لأنه معذور كالمخطئ (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة".
وفی قضایا فقھیة معاصرة ﴿١/313ط مکتبة دارالعلوم﴾
إذا كانت السيارة سليمة قبل السير بها، وكان السائق يتعهدها تعهدا معروفا، ثم طرأ عليها خلل مفاجئ في جهاز من أجهزتها، حتى خرجت السيارة من قدرة السائق ومكنته من ضبطها، فصدمت إنسانا فقد أفتت اللجنة الدائمة للبحوث والإفتاء في المملكة العربية السعودية، بأنه لا ضمان على السائق،.......فإن كان يتعهد السيارة تعهدا معروفا، ويسيرها ملتزما بقواعد المرور سيرا عاديا، فلا ضمان عليه لعدم التعدي، نعم! إن أخل بشرط من هذه الشروط، مثل عدم تعهده للسيارة أو تسييرها مع خلل ظاهر في جهاز من أجهزتها، أو سوقها سوقا عنيفا، فإنه يضمن في كل ذلك، وإن خرجت السيارة من ضبطه، لأنه مسبب لانفلات السيارة بتعديه..... ) إذا كان مشى في الطريق حاملا سيفا، أو حجرا، أو لبنة، أو خشبة، فسقط من يده فقتله، لوجود معنى الخطأ فيه، وحصوله على سبيل المباشرة، لوصول الآلة لبشرة المقتول، وحصوله على سبيل المباشرة، لوصول الآلة لبشرة المقتول، ولو كان لابسا سيفا، فسقط على غيره فقتله، أو سقط عنه ثوبه، أو رداؤه، أو طيلسانه، أو عمامته وهو لابسه، على إنسان فتعقل به فتلف، فلا ضمان عليه أصلا؛ لأن في اللبس ضرورة، إذ الناس يحتاجون إلى لبس هذه، والتحرز عن السقوط ليس في وسعهم، فكانت البلية فيه عامة، فتعذر التضمين، ولا ضرورة في الحمل، والاحتراز عن سقوط المحمول ممكن أيضا. وإن كان الذي لبسه مما لا يلبس عادة فهو ضامن".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
19/5/1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


