03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے بعد بچے کو والد سے دور رکھنے کا حکم
71175طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ طلاق کے بعد بچے کو اُس کے والد سے ملانے کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے؟ کیا ہر ہفتے یا ہر مہینے ملوانا ضروری ہے؟ اور اگر نہ ملوائیں تو کیا کوئی گناہ ہوگا؟ کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ وہ میرے بچے کو اُس کے نانا اور نانی کے خلاف ورغلائے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی میں طلاق ہوجانے کے بعد باپ کو اُس کی اولاد سے ملنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ لہذا جب بھی بچوں کا باپ بچوں سے ملنا چاہے گا تو اُسے اُن سے ملنے کی اجازت ہوگی، بچوں کو باپ سے نہ ملنے دینا گناہ ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم.(رد المحتار: 5/275)

قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. (الفتاوی الھندیۃ: 1/543)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

7/جمادی الثانیہ/1442

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب