03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی پلاٹ پر تعمیر کرنے کا حکم
78281میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عبدالرحمن نے اپنے انتقال کے بعد وراثت میں دیگر ترکہ کے ساتھ ایک پلاٹ بھی چھوڑا، جس پر اس کے بیٹے عبدالرحیم نے اس کی زندگی میں ہی جگہ صاف کر کے مکان تعمیر کیا، عبدالرحمن کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، انتقال کے بعد بھی بیٹے نے اس پلاٹ پر ایک کمرہ تعمیر کیا ہے، بیٹیوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ مکان ورثاء کے درمیان تقسیم کرو،بھائی کہتا ہے کہ پہلے میری تعمیر کی قیمت ادا کرو، بہنیں کہتی ہیں کہ آپ کو جب علم تھا کہ اس پلاٹ میں میری بہنوں کا بھی حصہ ہے تو پھر آپ نے اس پر مکان کیوں تعمیر کیا؟ نیز وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ والد کے انتقال کے بعد آپ نے سات سال تک اس جگہ کو استعمال کیا ہے اگر آپ تعمیر کی رقم مانگتے ہو تو سات سال تک جگہ استعمال کرنے کے کرایہ کا بھی حساب لگاؤ۔ کیا بہنوں کا کرایہ کامطالبہ کرنا اور بھائی کا اپنی تعمیرکی قیمت کا مطالبہ کرنا درست ہے؟ نیز بھائی یہ بھی کہتا ہے کہ میں مکمل مکان کو تقسیم نہیں کروں گا، بلکہ ایک جانب سے لکیر کی شکل میں تمہیں دوں گا، بہنیں کہتی ہیں کہ اس طرح ہمارا نقصان ہو گا، کیونکہ ہم کوئی کمرہ وغیرہ اس پر تعمیر نہیں کرسکیں گی، بھائی کہتا ہے کہ میری مرضی میں جہاں سے چاہوں دوں، کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِتمہید جاننا چاہیے کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں چھوٹا بڑا جو سازوسامان چھوڑا ہے اور مرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی کے ذمہ واجب ہو، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے تجہیزوتکفین کے اخراجات نکالنے، مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں تمام ورثاء کا حصہ ہے اور ہر وارث اس میں اپنے شرعی حصے کے مطابق اپنے حق کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں بھائی کا یہ کہنا کہ "میری مرضی جہاں سے چاہے پلاٹ میں سے حصہ دوں،" درست نہیں، بلکہ اس پلاٹ کے ایک ایک جزو میں والدہ سمیت تمام ورثاء اپنے شرعی حصے كے مطابق شريك ہیں، لہذا بہنوں کو صرف ایک جانب سے لکیر کی شکل میں حصہ دینا ان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے، بلکہ بھائی پر لازم ہے کہ اگر پلاٹ قابلِ تقسیم ہو تو اس کو تقسیم کرکے ہروارث کو اس کا شرعی حصہ دیاجائےاور اگر اس کو تقسیم کرنا مشکل ہو تو اس کو بیچ کر تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق اس میں سے رقم لینے کے حق دار ہوں گے۔

جہاں تک پلاٹ کے اوپر کی گئی تعمیر کا تعلق ہے تو اصولی طور پر بھائی کو اس پلاٹ پر یہ تعمیر کرنے کا حق حاصل نہیں تھا، لیکن اب جب اس نے تعمیر کر لی تو یہ تعمیر اس کی ملکیت ہے، اگر وہ چاہے تو اپنی تعمیر اکھاڑ کر لے جا سکتا ہے، لیکن اس کو اختیار حاصل نہیں کہ بہنوں سے زبردستی اس تعمیر کی قیمت کا مطالبہ کرے، البتہ تمام ورثاء باہمی رضامندی سے اگر یہ مکان فروخت کرنے پر رضامند ہوں تو اس صورت میں تعمیر کے عوض حاصل ہونے والی قیمت بھائی وصول کر سکتا ہے،اسی طرح اگر ورثاء راضی ہوں تو بھائی کھڑی تعمیرکی قیمت بھی لے سکتا ہے، لیکن اس کے لیے تمام ورثاء کی رضامندی ضروری ہے۔

باقی بہنوں کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ بھائی نے سات سال تک جو مشترکہ پلاٹ استعمال کیا ہے اس کے کرایہ کا حساب لگایا جائے،کیونکہ فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک مغصوبہ چیز کے منافع کا ضمان غاصب کے ذمہ واجب نہیں ہوتا، لہذا بھائی اگرچہ اتنا عرصہ بہنوں کی اجازت کے بغیر پلاٹ استعمال کرنے پر گناہگار ہوا ہے، جس پر اس کو توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، لیکن بہنوں کے حصہ کو  استعمال کی وجہ سے اس پر گزشتہ سالوں کا کرایہ شرعاً واجب نہیں۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:

 ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين۔

 وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى۔

 

الھدایۃ: (301/4، ط: دار احياء التراث العربی):

ومن غصب أرضا فغرس فيها أو بنى قيل له اقلع البناء والغرس وردها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "ليس لعرق ظالم حق" ولأن ملك صاحب الأرض باق، فإن الأرض لم تصر مستهلكة والغصب لا يتحقق فيها، ولا بد للملك من سبب فيؤمر الشاغل بتفريغها، كما إذا شغل ظرف غيره بطعامه.قال: "فإن كانت الأرض تنقص بقلع ذلك فللمالك أن يضمن له قيمة البناء والغرس مقلوعا ويكونان له"؛ لأن فيه نظرا لهما ودفع الضرر عنهما. وقوله قيمته مقلوعا معناه قيمة بناء أو شجر يؤمر بقلعه؛ لأن حقه فيه، إذ لا قرار له فيه فتقوم الأرض بدون الشجر والبناء وتقوم وبها شجر أو بناء، لصاحب الأرض أن يأمره بقلعه فيضمن فضل ما بينهما.

البناية شرح الهداية (11/ 248) دار الكتب العلمية – بيروت:

[ضمان الغاصب منافع المغصوب]

م: (قال: ولا يضمن الغاصب منافع ما غصبه) ش: أي وقال القدوري: وقال في " إشارات الأسرار " المنافع لا يضمن سواء عرفها إلى نفسه أو عطلها على المالك. وقال في " الطريقة البرهانية " المنافع لا تضمن بالغصب والاستهلاك في قول علمائنا - رحمهم الله -.

وصورة المسألة: رجل غصب عبدا فأمسكه شهرا حتى صار غاصبا للمنافع، أو استعمله حتى صار مستهلكا لها عندنا لا تضمن هذه المنافع، وقال صدر الإسلام البزدوي في شرح " الكافي ": ليس على الغاصب في ركوب الدابة وسكنى الدار أجر وهو مذهب علمائنا م: (إلا أن ينقص باستعماله فيغرم النقصان) ش: أي إلا أن ينقص عين المغصوب باستعماله، فحينئذ يضمن النقصان.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/ربيع الثانی 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب