03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقیقہ کاطریقہ
78424متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے ،اس خوشی میں ان کاعقیقہ کرنا چاہتا ہوں ،کیاطریقہ ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عقیقہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز لڑکےکےلیے دو بکرے اور لڑکی کےلیےایک بکرا ذبح کیا جائے، اسی دن بچے کا کوئی مناسب اسلامی نام رکھ دیا جائے،عقیقہ کے جانور کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں اور اس سے مہمانوں کی دعوت بھی کرسکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کیے جائیں ،اگر کسی وجہ سے ساتویں روز  عقیقہ نہ کرسکے تو پھر چودھویں یا اکیسویں روز عقیقہ کرنا مستحب ہے۔

حوالہ جات

عن سمرة بن جندب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:كل ‌غلام ‌رهين بعقيقته تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق رأسه ويسمى .(السنن الکبری : 4/372)

عن محمد بن ثابت بن سباع أخبره أن أم كرز أخبرته أنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة، فقال:عن الغلام شاتان،وعن الأنثى واحدة، لا يضركم ذكرانا كن أم إناثا . هذا حديث حسن صحيح. (سنن الترمذي، رقم الحديث: 1516)

وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية . (رد المحتار: 6/ 336)

العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري.)الفتاوی الھندیۃ : 5/362)

محمدادریس

دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی

8/جماد الاولی /1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب