03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےدستخط کےبغیرعدالتی خلع کا حکم         
79315طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

میرا نام آمنہ ہے، میرے شوہر کا نام خرم ملک ہے، ہماری شادی کو 4 سال ہوگئے۔ میرے شوہر آئس(کرسٹل) کا نشہ کرتے ہیں، یہ بات مجھےشادی سے پہلےمعلوم نہیں تھی، جب میری بیٹی مریم ہوئی تو مجھے علم ہوا کہ وہ نشہ کرتے ہیں۔ پھر اس نشہ کی بنیاد پر ہماری لڑائیاں ہونا شروع ہو گئیں، میرے شوہر کراچی چھوڑ کر ملتان چلے گئے کہ شہر سے باہر جاؤں گا تو چھوڑ دوں گا، لیکن وہاں جاکر بھی نشہ نہیں چھوڑا۔ الغرض تین سال ہو چکے ہیں، درمیان میں ہسپتال سے علاج بھی کروایا، لیکن انہوں نے نشہ نہیں چھوڑا، اِس کی وجہ سے جھگڑتے بھی رہتے ہیں۔ ایک دن مجھے غصہ آیا تو میں نے شوہر سے کہا کہ اگر نشہ نہیں چھوڑ سکتے تو آپ مجھے آزاد کردیں، انہوں نے غصہ میں کہا: ہاں تمھیں آزاد ہونا ہے تو جاؤ مَیں تمھیں بول دیتا ہوں۔ آگے بھی بولنے والے تھے، لیکن ان کی امی بہن نے روک دیا۔میں نے اپنے والدین کو یہ ساری بات بتائی تو والدین مجھے اپنے گھر لے آئے۔ ہم نے بنوری ٹاؤن سے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ ہمارے ما بین طلاق ہو چکی ہے۔ والدین تو اسی وقت کہہ رہے تھے کہ رشتہ ختم کردو، یہ نشہ نہیں چھوڑے گالیکن میں نے پھر بھی بیٹی کی خاطر اُنہیں موقع دیا، ان کے گھر کے بڑے آئے، میرے والدین سے بات کی، اور اُنہوں نے کہا مجھے آخری موقع دیدو، مَیں اب یقینی طور پر چھوڑ دوں گا،  کیونکہ مَیں تم لوگوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

         ابو نے ان سے ثبوت کے طور پر اسٹامپ پیپر پر لکھوا لیا، اور انہوں نے اپنے بھائی، امی کے سامنے خود اسٹامپ پیپر پر لکھا کہ میں نشہ کرتا ہوں اور مَیں اپنی ماں اور بھائی کو گواہ بناتے ہوئے کہتا ہوں کہ تین ماہ کے اندر یہ نشہ چھوڑ دوں گا، اگر نہیں چھوڑا تو آمنہ مجھ پر قانونی کاروائی کرسکتی ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر مَیں نے اور میرے والدین نے انہیں موقع دیا، پھر ہم کراچی سے ملتان چلے گئے کہ یہاں کے ماحول سے دور رہیں گے تو نشہ چھوڑ دیں گے، اور اگر نشہ چھوڑ دیا، تو وہیں کوئی گھر کرائے پر لے کر رہ لیں گے۔ مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ہوئے، تین چار دن میں ہی یہ وہاں جاکر نشے میں لگ گئے۔ نہ انہوں نے میرا سوچا، نہ ہی میری بچی کا۔ پھر ہم ایک ہفتے میں ہی ملتان سے واپس والدین کے گھر آگئے، کیونکہ اب وہاں رہنے کا فائدہ نہیں تھا۔ اس کے بعد دوبارہ میرے شوہر میرے والدین کے گھر آگئے، انہوں نے پھر منتیں کرنا شروع کردیں، رونا شروع کر دیا کہ مت چھوڑو مجھے، میری بچی کی شکل دیکھاؤ، نشہ چھوڑ دوں گا، اتنا سب ہونے کے بعد بھی مَیں نے اپنی بچی کی شکل دیکھی اور واپس چلی گئی، اس بات کو بھی ایک سال ہو گیا ہے۔ ہم پچھلے سال ملتان گئے تھے، اور اس ایک سال میں مَیں نے ان کے اندر بہت تبدیلی دیکھی، انہوں نے نشہ کم کرنے کے بجائے اور مزید بڑھا لیا، گھر میں بہت لڑائی جھگڑے ہونے لگے، پیسے کی بھی تنگی ہونے لگی، ایک ہزار کا نشہ کرنے لگے، اور دن میں پانچ سے چھ بار کرتے ہیں، وہ بھی گھر کے کچن میں چولہے پر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ یہ سب میری بچی بھی دیکھتی ہے، اور اُس پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ آئے روز شوہر ذرا سی بات پر چلاّتے ہیں، جھگڑا کرتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، بچی یہ سب بھی سنتی ہے۔

         یہ سب دیکھتے ہوئے مَیں اپنے والدین کے گھر آگئی ہوں، اب مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا، اور یہی میرے والدین کا بھی فیصلہ ہے۔ ابو نے اُن سے بات کی تھی کے آپ رشتہ ختم کر دو، ورنہ ہم خود خلع کے ذریعہ ختم کر دیں گے، مگر وہ نہیں کر رہے اور دبئی جانے کی تیاری کر رہے ہیں کہ مَیں وہاں جاکر نشہ چھوڑ دوں گا، مگر میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ نشہ نہیں چھوڑ سکتے، اور اس نشے کے ساتھ میری بیٹی اور میں بالکل محفوظ نہیں، لہٰذا ان حالات میں اب خلع لینا کا فیصلہ کیا ہے۔ برائے مہربانی آپ مجھے بتائیے کہ کیا مَیں صحیح کر رہی ہوں؟ کیونکہ اگر میرے شوہر دستخط نہیں کریں گے، تو پھر بھی عدالت میرے حق میں فیصلہ کر دے گی۔ کیا یہ شرعی طور پر صحیح ہوگا یا اس کا مجھے گناہ ملے گا؟ برائے مہربانی جلد از جلد اپنا جواب میں مجھے بتائیں،میں اس مسئلے کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں طلاق کااختیارشوہرکےپاس ہوتاہےاوراگرعورت جدائی اختیارکرناچاہےتوباہمی رضامندی سےخلع کی صورت میں اختیارکرسکتی ہے۔البتہ اگرشوہرنہ توطلاق دیتاہواورنہ ہی خلع پرراضی ہوتوبعض اعذار کی صورت میں شریعت عورت کواختیاردیتی ہےکہ قاضی سےرجوع کرکےنکاح فسخ کروالےلیکن اس کےلئےضروری ہےکہ فسخ نکاح کےشرعی اصولوں کالحاظ کرتےہوئےنکاح کےفسخ ہونےکافیصلہ کیاگیاہو۔

لہٰذامذکورہ صورت میں اگرفسخ نکاح کامعتبرعذرموجودہوجیسےنان نفقہ نہ دینا،غیرمعمولی مارپیٹ اورظلم کرنا وغیرہ توایسےکسی معتبرعذرکی بنیادپرفسخ نکاح کا مقدمہ کیا جائے اور عدالت میں دو گواہوں سےاس دعوی کو ثابت کردیاجائےتوااس کےبعداگرقاضی یاعدالت فسخ نکاح کافیصلہ کردے تووہ فیصلہ نافذ ہوگا اور عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنےمیں آزاد ہوگی۔

حوالہ جات

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.

"الفتاوى الهندية" (4/ 3):

"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي"۔

الفتاوى الهندية (3/ 363)

 ولو قضى برد نكاح المرأة بعيب عمى أو جنون أو نحو ذلك ينفذ قضاؤه لأن عمر رضي الله تعالى عنه كان يقول برد المرأة الزوج بعيوب خمسة ولو قضى برد المرأة الزوج بواحد من هذه العيوب نفذ لأن هذا مختلف فيه بين أصحابنا رحمهم الله تعالى محمد رحمه الله تعالى يقول بالرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وحكم القاضي في الخلع أنه فسخ كالحكم في سائر المجتهدات فإن خواهر زاده رحمه الله تعالى ذكر فيه اختلاف الصحابة رضوان الله تعالى عليهم أجمعين فإذا قضى بكونه فسخا نفذ قضاؤه

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 439)

الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90) دار الحديث – القاهرة:

المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.

ولی الحسنین

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۹ رجب ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب