| 79317 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میں نے ایک طلاق شدہ لڑکی سے شادی کی تھی۔ شادی کے 3 دن بعد اسکے پہلے شوہرنے اسےدھمکی دینا شروع کر دیا کہ اگر تم نے شوہر سے طلاق نہ لی تو میں تمھارے بچوں کو مار دوں گا۔ اُس کے پہلے شوہر سے 3 بچے ہیں۔ 12 دن گزر گئے۔ ایک رات اُس کے پہلے شوہرنےبچوں کےسرپرپسٹل رکھ کر کہا کہ اگر تم آج 12 بجےتک اس سےطلاق نہیں لوگی تو میں بچوں کو مار دوں گا۔ تو میں نے اپنی بیوی سے کہا میرا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی میں طلاق دونگا۔تومیری بیوی نےکہا کہ صرف ایک وائس مسیج کردو تاکہ وہ میرے بچوں کونہ ماردےتومیں نےایک وائس میسیج کیااوراس میں۳بارطلاق کہا۔ اور میں نے بیوی سےکہاکہ تم نہ سنو صرف اُسکو بھیج دو۔ تو کیا میری طلاق ہوگئی ہے؟
وضاحت:وائس میسج میں شوہرنے اپنی بیوی کانام لےکےیہ کہاتھا"تم کومیں طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں،طلاق دیتاہوں"۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظ "طلاق" اوراس طرح کےدیگرالفاظ جوطلاق دینےکےلئےخاص ہوں ان الفاظ سےبغیرکسی نیت کےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہےاوراگریہ الفاظ بحالت مجبوری ہی زبان سےکہےجائیں توبھی ان سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔البتہ ایسےالفاظ جوطلاق اورغیرطلاق دونوں کااحتمال رکھتےہوں،ان سےطلاق واقع ہونےکےلئےنیت ضروری ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب آپ نےبیوی کےپہلےشوہرکوسنانےکےلئےطلاق کےایسےصریح الفاظ بولےتھےجن میں طلاق کی نسبت اپنی بیوی کی طرف کی تھی تو اس کی وجہ سےآپ کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اورآپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے،اب نہ رجوع جائزہےاورنہ ہی حلالہ کےبغیرتجدیدِنکاح کی اجازت ہوگی۔آپ کی بیوی عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہونگی۔
حوالہ جات
}فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور (1/ 676)
أخرج ابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم وَالْبَيْهَقِيّ عَن ابْن عَبَّاس فِي قَوْله {فَإِن طَلقهَا فَلَا تحل لَهُ من بعد} يَقُول: فَإِن طَلقهَا ثَلَاثًا فَلَا تحل لَهُ حَتَّى تنْكح غَيره
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 247)
حديث رجاله ثقات وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : " أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ " حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي
الفتاوى الهندية (1 / 473(
"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية"۔
عَن أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "ثَلَاثٌ جِدٌّهُنَّ جِدُّ وَهَزلُهُنَّ جِدُّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجعَةُ". رواه أبو داود (2194)، والترمذي (1184)، وابن ماجه (2039)، والحاكم (2/198).
حاشية ابن عابدين (3/ 306)
مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن قوله ( الصريح يلحق الصريح ) كما لو قال لها أنا طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني ۔ بحر۔ فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا ۔
الفتاوى الهندية (5/ 50)
إذا طلق امرأته على مال على وجه الهزل أو أعتق عبده على مال على وجه الهزل وقبلت المرأة أو العبد أو كانا تواضعا في السر أن ما يظهران هزل فالطلاق واقع والمال واجب كذا ذكره محمد رحمه الله تعالى في الكتاب
المبسوط للسرخسي (24/ 106)
طلاق الهازل واقع فبه يتبين أن الرضا بالحكم بعد القصد إلى السبب والاختيار له غير معتبر
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام ط المكتبة الإسلامية (5/ 44)
الهزل هو: الذي تكلم به المتكلم قاصدا الكلام ولكنه لم يقصد المعنى، أراد به الهزل أو يقال: تكلم به المتكلم قاصدًا اللفظ والمعنى لكن هزلا
حاشية ابن عابدين (19/7)
الھازل یتکلم بصیغۃ العقدمثلاً باختیارہ ورضاہ لکن لایختارثبوتہ الحکم ولایرضاہ
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۱۳ رجب ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


