| 77573 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرے گھر والوں نے بچپن میں میری منگنی خالہ کی بیٹی سے کی تھی جو اب تک باقی ہے،لیکن میں ابھی وہاں نہیں کرنا چاہتا ہوں،ساتھ میں مجھے اپنی رشتہ داری کا بھی خیال ہے،میں کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا اور ایک لڑکی مجھ سے کہتی ہے کہ" میں تمہیں پسند کرتی ہوں مجھ سے نکاح کرلو" میں بھی تھوڑی بہت دلچسپی رکھتا ہوں،کیا ایسی صورتِ حال میں میں خالہ کی بیٹی کی جگہ اپنی محبوبہ سے شادی کرسکتاہوں؟
شرعی طورپر اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟ منگنی اور گھر والوں کا دل توڑنےپرہم دونوں پرگناہ تو نہیں ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے آپ بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ نکاح والدین اور اولیاء بلکہ تمام قریبی رشتہ داروں کو شامل کرکے انجام دینا چاہیے،کیونکہ شادی کوئی عارضی اور وقتی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کا معاملہ ہے،اس لیے اس کی انجام دہی کے لیے غور وفکر،تجربہ اور بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں بالعموم ایک لڑکے اور لڑکی کے فیصلے میں نہیں پائی جاتیں،کیونکہ عموما لڑکا اور لڑکی محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کی بنیاد پر یہ اقدام کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ والدین کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جانے والے نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان بہت سی ناچاقیوں اور اختلافات کا سبب بنتےہیں اورعمومانوبت طلاق یا قتل و قتال تک پہنچ جاتی ہے،جس کے نتیجے میں دونوں خاندان ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کےدشمن بن جاتے ہیں،اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
تاہم اس کے باوجود اگر کسی بالغ لڑکے اوربالغ لڑکی نے والدین کو اعتماد میں لیے بغیر باہمی رضامندی سے نکاح کرلیا تو اگر لڑکا حسب نسب،مالداری اور دینداری میں لڑکی کے ہم پلہ ہویعنی لڑکی اورلڑکےدونوں کا تعلق معاشرےمیں ہم رتبہ سمجھے جانےوالےخاندانوں سے ہو،لڑکا لڑکی کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو،کردار اور سیرت کے لحاظ سے بھی دونوں ایک جیسے ہوں یعنی یا تو دونوں دیندار ہوں یا دونوں فاسق، ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوجائےگا۔
نیزجس طرح اولاد کے ذمے والدین کی مرضی اور خواہش کی رعایت رکھنا لازم ہے اسی طرح والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اولاد کے نکاح کے وقت اپنی اولاد کی پسند کا خیال رکھیں،چنانچہ شرعا والدین کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بالغ لڑکے یا لڑکی کو کسی ایسی جگہ نکاح پر مجبور کریں جو انہیں پسند نہ ہو ،لہذا اگر لڑکا اور لڑکی پسند کی شادی کرنا چاہیں اور دونوں دینی،مالی اور خاندانی اعتبار سے برابر ہوں اور رشتہ نہ کرنے کا کوئی معقول عذر نہ ہو تو والدین کو ان کے رشتے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
لہذا بغیر کسی شدید مجبوری کے محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کا شکار ہوکر آپ کو والدین کی جانب سے طے کئے گئے رشتے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ یہ سماجی اقدار کے منافی عمل ہے جس کی وجہ سے آپ کے والدین اور لڑکی والوں دونوں کو تکلیف ہوگی اور منگنی کی صورت میں والدین کی جانب سے کئے گئے نکاح کے وعدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
لیکن اگر آپ کا یہ فیصلہ محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کی بنیاد پر نہیں،بلکہ آپ کواس بات کا یقین یا غالب گمان ہے کہ خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنے کی صورت میں آپ دونوں کے درمیان نباہ نہیں ہوسکے گا،یعنی نکاح کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوسکے گا اور یہ رشتہ باہمی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے الفت و محبت اور سکون کے بجائے میاں بیوی دونوں کے لئے اذیت وتکلیف اور بے مقصد ازدواجی زندگی اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی اور اختلافات کا سبب بنے گا تو پھر آپ کےلئے اس رشتے سے انکار کرنے کی گنجائش ہے،کیونکہ شریعت نے نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بعد بھی نباہ نہ ہونے کی صورت میں نکاح کے رشتے کو ختم کرنے کی گنجائش دی ہے،لہذا نکاح سے پہلے بطریقہ اولی اس کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
"رد المحتار"(3/ 11):
"قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اه".
"صحيح البخاري "(1/ 16):
عن عبد ﷲ بن عمرو أن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر " تابعه شعبة، عن الأعمش.
"عمدة القاري شرح صحيح البخاري "(1/ 221):
"بقوله: (إذا وعد أخلف) نبه على فساد النية، لأن خلف الوعد لا يقدح إلا إذا عزم عليه مقارنا بوعده، أما إذا كان عازما ثم عرض له مانع أو بدا له رأي فهذا لم توجد فيه صفة النفاق، ويشهد لذلك ما رواه الطبراني بإسناد لا بأس به في حديث طويل من حديث سلمان، رضي ﷲ عنه: (إذا وعد وهو يحدث نفسه أنه يخلف) . وكذا قال في باقي الخصال. وقال العلماء: يستحب الوفاء بالوعد بالهبة وغيرها استحبابا مؤكدا، ويكره إخلافه كراهة تنزيه لا تحريم، ويستحب أن يعقب الوعد بالمشيئة ليخرج عن صورة الكذب، ويستحب إخلاف الوعيد إذا كان التوعد به جائزا، ولا يترتب على تركه مفسدة".
"الهداية في شرح بداية المبتدي"(1/ 191):
" وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى،بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف " رحمه الله " أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا " وقال مالك والشافعي رحمهما الله:لا ينعقد النكاح بعبارة النساء أصلا؛لأن النكاح يراد لمقاصد والتفويض إليهن مخل بها إلا أن محمدا رحمه الله يقول:يرتفع الخلل باجازة الولي ووجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة مميزة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج وإنما يطالب الولي بالتزويج كيلا تنسب إلى الوقاحة ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء ؛لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/محرم1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


