| 78438 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
علاقہ باوجودبارانی ہونے کے اب اکثرفصلوں کوپانی وغیرہ لگانے کی لازمی ضرورت پیش آتی ہے اوراس پربہت سے اخراجات بھی ہوتے ہیں،پانی لگانے کے اخراجات اوردیگرزرعی کیمیکل وغیرہ کے اخراجات،کیاان کومنفی کرسکتے ہیں اوربعض اوقات مٹروغیرہ کی فصل لگانے کے اخراجات 2لاکھ تک ہوتے ہیں،جبکہ آمدن ایک لاکھ تک بھی نہیں پہنچتی،اس صورت میں ادائیگی کی کیاصورت ہوگی؟واضح رہےکہ مٹرچنائی کی ایک بوری یعنی 30کلوکی صرف مزدوری 500روپے تک ہے،اس صورت میں کیااسےمنہاکیاجائے گا؟
وضاحت:مٹر،گوبھی اورٹماٹر وغیرہ کی فصلوں پربہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اوربڑی مقدارمیں مزدوری کے اخراجات بھی آتے ہیں اوربہت ساری اقسام کے اسپرے وغیرہ بھی وقتافوقتاکرنے پڑتے ہیں،جس سے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زمین سے پیداوارکے حصول پر جواخراجات(کھاد،اسپرے،حفاظت وغیرہ) آتے ہیں ان کی وجہ سے عشر(زمین بارانی ہونے کی صورت میں) نصف عشر(نہری اورٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب ہونے کی صورت) کی شرح میں کمی نہیں کی جائے گی،یعنی ان کومنفی کئے بغیرعشریانصف عشرلازم ہوگا،البتہ وہ اخراجات جوپیداوارکومنڈی تک لے جانے پرآتے ہیں(جیسے پیٹی میں ڈالنا،پیکنگ کرنا اور گاڑی پرلوڈ کرنا وغیرہ)توان اخراجات کومنفی کیاجاسکتاہے،واضح رہے کہ یہ اخراجات اس صورت میں منفی کئے جائیں گےجب درج ذیل شرطیں پائی جائیں:
۱۔مالک پیداورکواسی جگہ کوئی مناسب گاہک دستیاب نہ ہو یادستیاب توہے مگرمنڈی لے جانے کی صورت میں اتنی زیادہ قیمت ملنے کاظن غالب ہوکہ اس صورت میں فقراء کوزیادہ حصہ ملتاہو۔
۲۔منڈی تک لے جانے کے بعدپیداوار کی آمدن سے عشراداکرے،اگرمنڈی لے جانے کے بعد بھی عشراصل پیداوار سے اداکررہاہے تواس صورت میں بھی حمل ونقل کاکرایہ منفی نہیں کیاجاسکتا۔
باقی رہی بات آج کے زمانہ میں اسپرے وغیرہ کے اخراجات بھی آتے ہیں،خرچہ اضافی ہوجاتاہے، یہ بات درست ہے،لیکن اس کے ساتھ پیداوار کی مقداربھی توبڑھ جاتی ہے،جس سے اس کاازالہ عام طورپرہوجاتاہے۔
حوالہ جات
فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 3 / ص 445):
( ولا ترفع المؤن ) أي في كل ما أخرجته الأرض لا تحتسب أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ وغير ذلك۔
فی العناية شرح الهداية (ج 3 / ص 175):
( قوله وكل شيء أخرجته الأرض ) كل شيء أخرجته الأرض مما فيه الواجب العشري عشرا كان أو نصفه لا يرفع المؤنة من العشر مثل أجر العمال والبقر وكري الأنهار وغير ذلك ، يعني لا يقال بعدم وجوب العشر في قدر الخارج الذي بمقابلة المؤنة من حيث القيمة بل يجب العشر في كل الخارج ، ومن الناس من قال : يجب النظر إلى قدر قيم المؤن من الخارج فيسلم ذلك القدر بلا عشر ثم يعشر الباقي لأن قدر المؤن بمنزلة السالم له بعوض كأنه اشتراه ، ألا ترى أن من زرع في أرض مغصوبة سلم له من الخارج بقدر ما عزم من نقصان الأرض فطاب له كأنه اشتراه ، ووجه قولنا إن النبي صلى الله عليه وسلم حكم بتفاوت الواجب بتفاوت المؤنة ؛ لأنه قال : { ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب ففيه نصف العشر } ، فإذا كان كذلك لم يكن لرفعها معنى لأن رفعها يستلزم عدم التفاوت المنصوص عليه وهو باطل ، وبيانه أن الخارج فيما سقته السماء إذا كان عشرين قفيزا ففيه العشر قفيزان ، وإذا كان الخارج فيما سقي بغرب أربعين قفيزا ، والمؤنة تساوي عشرين قفيزا ، فإذا رفعت كان الواجب قفيزين ، فلم يكن تفاوت بين ما سقته السماء وبين ما سقي بغرب والمنصوص خلافه ، فتبين أن ما سقي بغرب فيه نصف العشر من غير اعتبار المؤنة ، وهذا الحل من خواص هذا الشرح فليتأمل .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/جمادی الاولی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


