| 79957 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
بیک وقت مسجد میں دو جماعتیں ہورہی ہوں تو کن کی نماز درست ہے اور کن کی درست نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک ہی مسجد میں بیک وقت یا آگے پیچھے ایک سے زائد جماعتیں کروانا شرعاًمکروہ ہے،البتہ اس طرح کرنے سے ہر ایک کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں دونوں جماعتوں کی نماز درست ہے،لیکن دوسری جماعت چونکہ باقاعدہ مسجد کمیٹی کی طرف سے طے شدہ ہے اورپہلی جماعت کمیٹی کے مقرر کردہ امام کے علاوہ ہے اس لئے پہلی جماعت سے احتراز کیا جائے۔
حوالہ جات
اعلاء السنن: 4/280
عن عبد الرحمن بن المجبر قال: دخلت مع سالم بن عبد اللہ مسجد ا لجمعة وقد فرغوا من الصلاة، فقالوا: ألا تجمع الصلاة؟ فقال سالم: لاتجمع صلاة واحدة في مسجد واحد مرّتین ۔
طبرانی المعجم الأوسط:4601
عن أبي بکرة أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أقبل من نواحي المدینة یرید الصلاة فوجد الناس قد صلّوا فمال إلی منزلہ فجمع أہلہ فصلّی بہم۔
محمد مصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
15/شعبان/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


