03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیویوں اور ان کی اولاد کے لیے میراث
79987میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

بکر نے  دو شادیاں کی تھیں،  پہلی زوجہ سے  ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ دوسری زوجہ کا بکر کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا، اس زوجہ سے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔تقسیمِ میراث سے پہلے بکر کی دوسری بیوی کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا  ۔اس کی بیوہ موجود ہے۔

ورثاء میں چھ ایکڑ زمین کی تقسیم کی کیا صورت ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا،  نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے 128 حصےکر کے درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

زوجہ (اول)

16  حصے

12.5% (ثمن)

بیٹا   

14 حصے

10.9375% (عصبہ بنفسہ)

بیٹی 

7 حصے

5.4687% (عصبہ بغیرہ)

1بیٹا(زوجہ ثانی)

14 حصے

10.9375% (عصبہ بنفسہ)

2 بیٹا

14 حصے

10.9375%

(عصبہ بنفسہ)

3بیٹا

14 حصے

10.9375% )عصبہ بنفسہ)

 4 بیٹا

14 حصے

10.9375%  

(عصبہ بنفسہ)

1 بیٹی

7 حصے

5.4687% (عصبہ بغیرہ)

2 بیٹی

7 حصے

5.4687%  (عصبہ بغیرہ)

3 بیٹی

7 حصے

 5.4687% (عصبہ بغیرہ)

4 بیٹی

7 حصے

 5.4687% (عصبہ بغیرہ)

5 بیٹی

7 حصے

 5.4687% (عصبہ بغیرہ)

ٹوٹل

128 حصے

100 %

 میت کی جو زوجہ ان کی  زندگی میں انتقال کر گئیں، وہ وارث نہیں ہونگی۔

بیٹے کی تقسیمِ میراث

بکر کے جس بیٹے کا انتقال ہوا ہے،والد سے ملنے والے حصے اور انتقال  کے وقت اس کی ملکیت میں  سونا،  نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ اس  کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر اس  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 44 حصے کر کے درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔

ورثاء

عددی  حصے

فیصدی حصے

زوجہ

11 حصے

%   25 (ربع)

 1 بھائی

6 حصے

13.6363%

(عصبہ بنفسہ)

 2بھائی

6 حصے

13.6363% )عصبہ بنفسہ)

  3 بھائی

6 حصے

13.6363%  

(عصبہ بنفسہ)

1 بہن

3 حصے

6.8181% (عصبہ بغیرہ)

2 بہن

3 حصے

6.8181%  (عصبہ بغیرہ)

3 بہن

3 حصے

 6.8181% (عصبہ بغیرہ)

4 بہن

3 حصے

 6.8181% (عصبہ بغیرہ)

5 بہن

3 حصے

 6.8181% (عصبہ بغیرہ)

ٹوٹل

44 حصے

100 %

مرحوم کی سوتیلی ماں  وارث نہیں ہیں، اور  حقیقی بہن بھائیوں کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن بھائی وراثت میں حصے دار نہیں ہونگے۔

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَد} [النساء: 12]

{إِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 176]

   محمدفرحان

   دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

   26/ شعبان المعظم/ 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب