03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ،دوبیٹوں اورتین بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
80129میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرانام محمدشاکر  ہے،میرے والدصاحب کاانتقال ہوچکاہے، ان کی جائیدادتھی جوکہ 120 گزکامکان ہے،ہم سب بہن بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اسے فروخت کرنے کافیصلہ کیاہے،جس کی مالیت14000000ہے،ورثہ میں  میری تین بہنیں،میری والدہ  اورہم دوبھائی ہیں ،میری بڑی بہن بیوہ ہےجس کااپناذاتی مکان ہے،اس کاایک بیٹااوردوبیٹیاں ہیں،دوسری بہن کی ایک بیٹی ہے اورشوہرحیات ہیں،تیسری بہن کابھی ایک بیٹااورشوہربھی ہیں ،چھوٹے بھائی کاایک بیٹااورایک بیٹی ہے،میرے دوبیٹے اورتین بیٹیاں ہیں ،میری والدہ دونوں بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے۔،ایک لاکھ یااس سے کم کمیشن دیناہے جوکہ ابھی طے نہیں ہواہے،پوچھنایہ ہے کہ ہمارے درمیان  یہ رقم کیسے تقسیم ہوگی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں درج ذیل طریقہ کارکے مطابق تقسیم کردیں۔

نمبرشمار

ورثہ کی تفصیل

فیصدی حصہ

ترکہ کی تقسیم

1

بیوہ

12.5

1750000

2

بیٹا

25

3500000

3

بیٹا

25

3500000

4

بیٹی

12.5

1750000

5

بیٹی

12.5

1750000

6

بیٹی

12.5

1750000

ٹوٹل

ورثہ:بیوہ،2بیٹے3بیٹیاں

100

14000000

                    

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 باقی مکان فروخت کرنے میں جوکمیشن کی رقم دینی ہوگی وہ سب پراپنے حصوں کے تناسب سے ہوگی۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

 ۲۵/شوال ۱۴۴۴ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب