03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کرنے کا حکم
78891طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

سلام کے بعد واضح ہوکہ ایک گھریلو مسئلے میں آپ کی رائے بہت ضروری ہے،مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ 20/9/2022کو میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ "اگر تم نے میری بات نہ سنی تو میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں"جس پر میری بیوی نے تھوٕی دیر کے بعد میری بات مان لی تھی ،اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے سالوں کو جب یہ بات پتہ چلی تو انہوں نے کہا کہ طلاق ہوگئ ہے اور انہوں نے ایک اسٹامپ پیپر خود ہی تیار کرایا جس میں انہوں نے بالکل غلط بیان تحریر کرایا ہوا ہے اور ایک جرگے کی موجودگی میں مجھ سے زبردستی سائن کرالیے ہیں۔

پوچھنا یہ ہے کہ جب میں نے اپنی بیوی کو شرطیہ طلاق دی اور اس نے میری بات مان بھی لی تھی تو کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟میرے سالے یہ بات نہیں مان رہے ،وہ کہتے ہیں کہ اگر طلاق نہ بھی ہوئی تو سمجھو ہوگئ ہے ،ہم اپنی بہن کو واپس نہیں بھیج رہے اور ہر کسی کے سامنے اسٹامپ پیپر دکھاتے ہیں کہ اس پیپر پر سائن کئے ہوئے ہیں ، میری بیوی بھی کہتی ہے کہ جب میں نے بات سن لی تھی تو پھر طلاق کیسے ہوگئی ہے ؟لیکن سالوں نے زبردستی مجھ پر دباؤ ڈال کر سائن کروائے ہیں، تو اب آپ بتائیں کہ زبردستی سائن کروانے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟کیونکہ میرے سالے اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ،میں ،میری بیوی اور میرے تین بچے (نوسال،چار سال ،دو سال کے ہیں)ہم سب بہت پریشان ہیں ،میرے والدین بھی بہت پریشان ہیں ،آپ سے درخواست ہے کہ میرا اور میری بیوی کا گھر بچانے کےلیے کچھ کریں۔کیونکہ میری بیوی حمل سے بھی ہے،واضح رہے کہ اسٹامپ پیپر پر جو الفاظ لکھے گئے ہیں وہ میں نے زبانی ادا نہیں کیے ،صرف ان لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے سائن کیے ہیں۔

نوٹ:اس بیان سے متعلق میری بیوی کے بیان کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور اسٹامپ پیپر جس پر زبردستی دباؤڈال کرسائن کروائے گئے اس کی کاپی بھی موجود ہے۔

تنقیح: سائل کی جانب سے دھمکی کی یہ صورت بیان کی گئی ہے کہ بیس پچیس آدمیوں نے مل کر زبانی دھمکیاں دی ہیں،مارنے کا بھی کہا تھا۔اور یہ لوگ اس طرح کرنے کی قدرت رکھتے ہیں،اس لیے کہ میرا خاندان ان کے مقابلے میں کمزور ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی

خواہش کے مطابق کرنے  سے کوئی شخص اللہ کے نزدیک  گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ لہذا ایسے کسی فعل سے اجتناب

کرنا لازمی ہے۔

اکراہ(مجبور کرنے) کی دو قسمیں ہیں:

1۔  اکراہ تام:

 جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے جیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔

‌2۔  اکراہ ناقص:

 جس میں دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر  غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسے

معمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔

اکراہ کی ان دونوں قسموں میں تحریری طور پر طلاق لکھ دینے یا لکھی ہوئی طلاق پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ زبان سے طلاق کے  الفاظ کی ادائیگی سے طلاق واقع ہوگی۔تاہم اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے چار شرائط ہیں:

1۔ مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔

‌2۔ جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔

‌3۔  دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی

صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی

ہو۔

‌4۔  جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگرآپ کو واقعتا دباؤ ڈال کرمارنے کی دھمکی دی گئی تھی اور آپ کو یقین تھاکہ وہ یہ دھمکی پوری کرسکتے ہیں اور پوری کریں گےاور آپ نے زبان سے کہے بغیرصرف تحریری صورت میں موجودطلاق پر دستخط کیے ہیں تو وہ   طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور اگر مجبوری کی یہ حالت نہیں تھی ،یا آپ نے زبان سے الفاظ طلاق اداکیے ہیں تو پھر طلاق واقع ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 25 / ص 76):

( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال. “

  البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (16 / 252):

وفي المحيط قال مشايخنا: إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو

حبس يوم فإنه يكون إكراها وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الاكراه لما يجئ به من الاغتمام

البين ومن الضرب ما يجد به الالم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ،لانه يختلف باختلاف أحوال الناس، فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديدوحبس مديد، ومنهم من يتضرر بأدنى شئ كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملا من الناس أو بحضرة السلطان. “

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 138):

لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 236):

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية،

بدائع الصنائع (7/175):

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل

والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر۔۔۔ وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (6/129):

(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب