03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوة کی رقم سے مریض کو دوائیں دینا
78371زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

میں ڈاکٹر ہوں اور گورنمنٹ ہسپتال میں نوکری کرتی ہوں،وہاں گورنمنٹ کی طرف سے آنے والی دوائیں مریضوں کے لیے کافی نہیں ہوتیں،آنے والے مریضوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دوائیں باہر سے خرید سکتے ہیں،تاہم اکثریت  ایسی ہیں جودوائیں باہر سے نہیں خرید سکتی ،سوال یہ ہے کہ کیا زکوة کے پیسوں سے دوائیں خرید کر وہاں  رکھی جاسکتی ہیں  اور بلاتفریق تمام مریضوں کو دی جاسکتی ہیں یا صرف  انہیں جو نہیں خرید سکتے ،کچھ لوگ حیثیت رکھتے ہوئے بھی مبالغہ کرتے ہیں،اس صورت میں یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کون ضرورت مند ہے اور کون نہیں ،برائے مہربانی تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صرف زکاۃ کے مستحق افراد کو  دوائیں فراہم کرنے سے زکاۃ ادا ہو گی،غیر مستحق کو یہ دوائیں دینا درست نہیں اور نہ اس سے زکوة ادا ہوگی۔البتہ مستحق معلوم کرنے کے لیےزیادہ تحقیق وتفتیش کی ضرورت نہیں،بلکہ  دینے والے کا  غالب گمان یہ ہو کہ جسے زکاۃ دی جارہی ہے وہ مستحق ہے اور اس کا دل مطمئن ہو تو اس کو زکاۃکی رقم سے دوائیں فراہم کرنا جائز ہے، خواہ یہ اطمینان مستحق کی ظاہری حالت دیکھ کر ہو  یا مستحق کے خود بتانے سےہو۔تاہم اگر ممکن ہوتویہ زیادہ بہتر ہے کہ اسپتال میں اس مقصد کےلیے ایک ایسامستقل شعبہ ہو جس میں کم ازکم ایک مفتی یا زکوة کےمسائل کو اچھی طرح جاننے والا شخص ہو،جو مریض سے انٹرویو لے کر اس کے حالات کی تحقیق کرکے یہ فیصلہ کرے کہ آیا مریض زکوة کا مستحق ہےیا نہیں،جیساکہ بعض ویلفئیرز اور ہسپتالوں میں ایسے نظام موجود ہیں۔

حوالہ جات

وفی الھندیة(1/189):

'' لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير  أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية۔ ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي''

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

08/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب