03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض دینےوالےاورقرضہ کاتعین ضروری ہے؟
78907میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیاقرض دینےوالےاور قرضہ کاتعین لازم ہےیااس کےبغیرہی وارثین مقروض شمارہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرضہ دینےوالےاور قرضہ  کی تعیین  لازم ہے،قرضہ سےمتعلق مجہول دعوی شرعادرست نہیں ہوتا،مثلا بغیرکسی ثبوت کےکوئی شخص آکردعوی کرےکہ  میت نےمیرااتناقرضہ دیناہےتوجب تک وہ گواہ وغیرہ پیش نہ کرےدعوی کاشرعااعتبارنہ ہوگا،ایسی صورت میں اگردعوی کرنےوالوں کےپاس کوئی گواہ نہ ہوں توورثہ پرشرعاقسم لازم ہوگی،اگرورثہ قسم کھالیں کہ"نہ ہمیں میت نےکہاہےکہ مجھ پرفلاں کاقرضہ ہے،اورنہ ہمیں ان کےقرضہ کاعلم ہے" توقرضہ کادعوی کرنےوالوں کادعوی ختم ہوجائےگااورمیت کےمال سےقرضہ دینالازم نہیں ہوگا۔

اوراگر ورثہ قسم کھانےسےانکارکرلیں تو پھر قرضہ والوں کادعوی ثابت ہوجائےگااورترکہ سےقرضہ اداکرنالازم ہوجائےگا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" 25 / 22:

 وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه ۔

فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔

"تكملة حاشية رد المحتار" 2 / 58:

مطلب: دعوى الوصية على الوارث كدعوى الدين إذا أنكرها يحلف على العلم ودعوى الوصية على الوارث كدعوى الدين، فيحلف على العلم لو أنكرها ومدعي الدين على الميت إذا ادعى على واحد من الورثة وحلفه فله أن يحلف الباقي، لان الناس يتفاوتون في اليمين، وربما لا يعلم الاول به ويعلم الثاني.

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

16/جمادی الثانیہ    1444ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب