| 79516 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال یہ ہےکہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا"خواجہ شکیل کے گھر ویسوں یا ان کےمتھے لگ سوں تو فارغ تھین سو" تواس کا کیاحکم ہے؟
تنقیح: فارغ کالفظ طلاق بھی شمار ہوتاہے اور بلا واسطہ ایک قسم کی دھمکی بھی شمار ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ فارغ کالفظ مذکورہ شخص کےعلاقےاورعرف میں طلاق اور اس کےعلاوہ دیگرمعانی (مثلا دھمکی دینے)کےلیےبھی استعمال ہوتاہے،اس لیےموجودہ صورت میں "فارغ"کےلفظ سےطلاق اس وقت واقع ہوگی جب طلاق دینے کی نیت ہو یا پھر (لڑائی کاموقع،یاطلاق کامطالبہ)ہو،صورت مسئولہ میں بظاہرلڑائی کاموقع تھا،اس لیےاگرشرط پائی جائےگی تو اس لفظ سےایک طلاق بائن واقع ہوجائےگی ،اس کےبعدرجوع نہیں ہوسکےگا، دوبارہ نکاح ہوسکےگا،ایک دفعہ شرط پائےجانےسےطلاق واقع ہونےکےبعددوبارہ شرط پائی جائےتو مزیدکوئی طلاق واقع نہ ہوگی،کیونکہ معلق کام ایک دفعہ کرنےسےتعلیق مکمل ہوجاتی ہے، دوبارہ تعلیق کاحکم لاگونہیں ہوتا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" 9 / 213:
إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق۔
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" 7 / 315:
ولا خلاف أنه لا يقع الطلاق بشيء من ألفاظ الكناية إلا بالنية فإن كان قد نوى الطلاق يقع فيما بينه وبين الله تعالى, وإن كان لم ينو لا يقع فيما بينه وبين الله تعالى۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 328:
قوله: (خلية) بفتح الخاء المعجمة فعيلة بمعنى فاعلة: أي خالية إما عن النكاح أو عن الخير ح: أي فهو على الاول جواب، وعلى الثاني سب وشتم، ومثله ما يأتي۔
"حاشية رد المحتار 3 / 331:
قوله: (توقف الاولان) أي ما يصلح ردا وجوابا، وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب۔
بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد وللسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الاولين يحتملان ذلك أيضا، فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء۔
" رد المحتار "3 / 331:"والحاصل أن الاول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة۔والثاني في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع في حالة الغضب والمذاكرة بلا نية"
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
22/رجب 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


